دنیا میں ایک کروڑ لوگ کورونا وائرس کا شکار، پاکستان مین تعداد دو لاکھ 5 ہزار ہوگئی
- اتوار 28 / جون / 2020
- 4500
پاکستان ميں کورونا وائرس کی وبا پھيلنے کے بعد سرکاری اسپتالوں ميں ایمرجسی طبی امداد کی سہولت معطل ہے۔ جس کے باعث ديگر موذی امراض پھيلنے ميں تيزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان میں کورونا سے دو لاکھ پانچ ہزار افراد متاثر ہیں جبکہ 4144 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ دنیا میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں ماہرین کا خیال ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ دیگعر موذی امراض میں بھی اضافہ ہورہا ہے کیوں کہ علاج کی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تیزی سے پھیلنے والی بيماريوں ميں سے ايک 'ٹائيفائيڈ' بھی ہے۔ صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں سے 60 فی صد مریض ٹائیفائیڈ کا بھی شکار ہیں۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مون سون کے بعد سندھ میں بھی ٹائیفائیڈ کے کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ٹائیفائیڈ کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسلام آباد میں فيڈرل گورنمنٹ سروسز اسپتال میں بطور میڈیکل آفیسر کام کرنے والے ڈاکٹر علی حسين شاکر کا کہنا ہے کہ آج کل ٹائيفائيڈ کے کيسز ميں نماياں اضافہ وہ رہا ہے۔ وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر علی حسین کا کہنا تھا کہ اگرچہ حاليہ دنوں ميں او پی ڈیز کی سہولت ميسر نہيں ہے۔ ايسے ميں روزانہ کی بنياد پر ٹائيفائيڈ کے کيسز کا سامنے آنا تشويش ناک ہے۔
پشاور کے الخدمت اسپتال ميں بطور ڈائريکٹر فرائض سر انجام دینے والے ڈاکٹر اقتدار احمد کا کہنا ہے کہ صوبے ميں ٹائيفائيڈ کے کيسز ميں ريکارڈ تعداد ميں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے بقول کورونا وائرس کے پھيلنے کے بعد ٹائیفائیڈ کے مريضوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خيبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے متاثرہ 60 في صد افراد ميں ٹائيفائيڈ کی علامات پائی گئی ہيں جو کہ بہت تشويش ناک صورتِ حال ہے۔
صوبہ سندھ ميں گزشتہ سال ٹائيفائيڈ کی روک تھام کے لیے صوبے بھر ميں مہم چلائی گئی تھی۔ جس ميں 15 سال سے کم عمر کے ايک کروڑ بچوں کو حصہ بنايا گيا تھا۔ وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے پروجيکٹ ڈائريکٹر ايکسٹینڈڈ پروگرام برائے ايميونائزيشن (ای پی آئی) ڈاکٹر محمد اکرام سلطان کا کہنا ہے کہ ملک کے ديگر صوبوں کی نسبت سندھ ميں ٹائيفائيڈ کے خلاف مہم کی وجہ سے حالات قدرے کنٹرول میں ہيں۔
ان کے مطابق سندھ ميں 15 سال سے زائد عمر کے لوگوں کی ايک بہت بڑی آبادی ہے۔ جن کو ٹائيفائيڈ کی مہم کا حصہ نہيں بنايا گيا تھا۔ ان افراد ميں ٹائیفائیڈ کيسز رپورٹ ہوتے رہتے ہيں۔
نجی طبی ادارے آغا خان اسپتال کی ايک تحقيق کے مطابق کراچی اور حيدر آباد ميں ٹائیفائیڈ کے لگ بھگ 10 ہزار رجسٹرڈ کيسز سامنے آئے ہیں۔ ان پر ٹائيفائيڈ کے خلاف استعمال ہونے والی عمومی دوا اثر ہی نہيں کر رہی تھی۔ جس کے بعد سندھ حکومت نے بڑے پيمانے پر ٹائيفائيڈ کے حوالے سے مہم شروع کی۔
تحقیق کے مطابق جنوری 2017 سے فروری 2020 تک صرف کراچی ميں ٹائيفائيڈ کے 10 ہزار کيسز رپورٹ ہوئے۔ جس کے بعد اس مہلک بيماری کی روک تھام کے لیے سندھ حکومت نے حفاظتی ٹيکوں کے پروگرام ميں ٹائيفائيڈ کو بھی شامل کيا ہے۔