کورونا بحران میں اسمارٹ لاک ڈاؤن اختیار کرنے پر فخر ہے: عمران خان
- اتوار 28 / جون / 2020
- 7200
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا سے ملک میں پیدا ہونے والی بحرانی کیفیت ملک کو درست سمت میں رکھنے کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تدبیر پر عمل کرنے پر فخر ہے۔
ٹوئٹر پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’اسمارٹ لاک ڈاؤن اختیار کرنے والوں میں میری ٹیم سرفہرست ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے فخر ہے کہ کورونا سے پیدا شدہ بحرانی کیفیت میں وطنِ عزیز کو پیہم درست سمت میں رکھنے کے لیے یہ تدبیر میرے کام آئی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’آج سے اگر ہم ایس او پیز کا خیال رکھتے ہیں تو بحران کی سنگینی سے بخوبی نجات پالیں گے‘۔ ٹوئٹ میں انہوں نے ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کا آرٹیکل بھی شیئر کیا جس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کو مستقبل بتایا گیا ہے۔
بلوم برگ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک کورونا وائرس سے نمٹنے کے نئے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ جرمنی، پرتگال اور اٹلی نے مخصوص یا ’اسمارٹ‘ لاک ڈاؤن کو لاگو کیا ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کے رد عمل میں پورے ملک کو بند کرنے کے بجائے چھوٹے اور مخصوص علاقے بند کیے ہیں۔
مضمون میں اس نقطہ نظر کو ویکسین کے آنے تک زندگی معمول پر لانے کے لیے واحد امید قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ صحت کے عہدیداروں کو یہ یقینی بنانا ہے کہ چھوٹے پیمانے پر وبا کے پھیلاؤ پر قابو پائیں اور مخصوص علاقوں میں سخت اقدامات نافذ کریں۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ہزاروں لوگوں کی اموات کا باعث قرار دے دیا۔ پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’سلیکٹیڈ‘ پکارا اور کہا کہ وہ اس وقت بھی کیسز میں مسلسل اضافے کو عوام سے چھپانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بے بنیاد اور حقائق کے برعکس بیانات دے کر اصل حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا، کیسز میں تشویشناک حد تک اضافے کے باوجود یوٹرن اور متنازع بیانات سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے‘۔وزیراعظم کا اپنی نااہل ٹیم پر فخر کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، عمران خان کو کوئی بتادے کہ ان کی اور ان کی نااہل ٹیم کی بدولت کیسز 2 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ ’وبا پر متنازع بیانات دے کر عوام کو مشکلات میں ڈالنے والے آج کس بات کا کریڈٹ لے رہے ہیں؟ وزیراعظم کی پالیسی نے ملک کو دراصل بحرانی کیفیت سے دوچار کیا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وقت پر پیپلز پارٹی کی تجاویز مان لی جاتی تو اس وقت بحرانی کیفیت پیدا نہ ہوتی۔