تبدیلی کہاں سے آتی ہے؟
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 30 / جون / 2020
- 6840
عمران خان کی حکومت کو ازراہِ تفنن تبدیلی سرکار بھی کہا جاتا ہے اور کسی کو اس بات کا خیال نہیں آتا کہ حرفِ استہزا ہے یا کلمہ توصیف ۔ اور وہ اس لیے کہ یہ نفسا نفسی کا زمانہ ہے ۔ معاشرے کے تمام طبقات بشمول لا طبقات کو اپنی اپنی پڑی ہے ۔ لا طبقات کون ؟
خطِ غُربت سے نیچے سسکتے لوگ جن کا ہونا نہ ہونا ہر زمانے میں ایک برابر ہوتا ہے ۔اس وقت ہمارے لوگوں کو وہ جہاں کہیں بھی ہیں اور جیسے بھی ہیں ، جانوں کے لالے پڑے ہیں اور آسمانوں کا ہرکارہ کوویڈ 19 ہمارے معاشرتی سسٹم کے مونہہ پر پے در پے تھپڑ رسید کر رہا ہے ۔ ملک میں جگہ جگہ جو افراتفری مچی ہے وہ اس بات کی غماز ہے کہ لوگ امن و سکون اور تعقل و توازن سے محروم ہیں ۔ لوگ ایک دوسرے کے خلاف برسرِ جنگ ہیں اور اس جنگ کا صرف ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے ذہنی توازن سے محرومی ۔ لگتا ہے ملک ایک داخلی بحران میں مبتلا ہے جو لوگوں پر سزا بن کر اُترا ہے ایسے حالات میں کسی تبدیلی کا کوئی بھی خواب بلا جواز ہوتا ہے اور وہ اس لیے کہ جو خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوں وہ نہ صرف ٹوٹ جایا کرتے ہیں بلکہ جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں ۔ ہم پچھلی سولہ قمری صدیوں سے مدینے کی ریاست کے خواب میں مبتلا ہیں لیکن یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا اور ہنوز ایک خواب ہے ۔ شاید ہر اُمت کا اپنا خواب ہوتا ہے ۔ ہر نسل کے پاس پیدائش سے پیری تک کی پون صدی کا وقت ہوتا ہے اور وہ نسل اگر اپنے خواب کا ترجمہ حقیقت میں نہ کر سکے تو وہ خواب بد خوابی میں مبتلا ہو کر طاقِ نسیاں کے کوڑا دان میں چلا جاتا ہے ۔
تبدیلی کبھی سسٹم یا اجتماع پر قانون کی صورت میں نافذ نہیں کی جاتی ۔تبدیلی ہمیشہ انفرادی سطح سے اجتماع کی طرف کرتی ہے ۔ تبدیلی کے لیے ہرشخص کو ایک نفسی تبدیلی سے گزرنا پڑتا ہے ۔ اور یہ وہ فارمولا ہے جو قرآن نے وضع کیا ہے کہ : لا یغییر ما بقومٍ حتٰی یُغییر ما با نفسہم ۔ اس فارمولے کے مطابق قوم اُسی صورت میں بدلتی ہے جب فرد بدل جائے ۔ فرد کیسے بدلتا ہے ؟ فرد اُس وقت بدلتا ہے جب وہ دودھ اور اشیائے خُوردنی میں ملاوٹ ترک کر دے ۔ جب وہ رشوت کا لین دین چھوڑ دے ۔ جب وہ معمولی باتوں پر لڑنا جھگڑنا چھوڑ کر اپنے دوطرفہ باہمی معاملات کو عقل مندی ، خوش اسلوبی اور تحمل سے سلجھانے کی راہ اختیار کرنے لگے ۔ جب وہ گفتگو میں دوطرفہ انسانی احترام کے تقاضوں کو روا رکھے ۔ اقبال نے کہیں اس سمت بڑا واضح اشارہ کیا ہے ۔ فرماتے ہیں :
آدمیت احترامِ آدمی
با خبر شو از مقامِ آدمی
پاکستان کی قومی ، صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس سے لے کر پریس کانفرنسوں تک حتیٰ کہ ٹاک شوز سے کہیں بھی یہ عندیہ نہیں ملتا کہ لوگ آدمی کے مقام سے با خبر ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں ۔ اوراس دوطرفہ احترام کے لیے تعلیم کی ضرورت ہے اور جہاں تعلیم کاروبار بن جائے وہاں علم مر جاتا ہے اور جہالت اپنی جڑیں ہر طبقے میں پکڑ لیتی ہے ۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان بچے اور بچی پر فرض ہے اور جب فرض مارکیٹ میں مہنگے داموں بکنے لگے تو زمین پر سے مذہب کی رُخصت کی گھڑی آ جاتی ہے اور وہ واپس آسمان کی اقلیم میں لوٹ جاتا ہے ۔ علم فروشی کے ماحول میں خُدا کا دین آزادی سے سانس نہیں لے سکتا ۔ تعلیم کے ساتھ دوسرا بڑا کاروبار مسیحائی ہے ۔ ڈاکٹر ، حکیم اور معالج اب بہت بڑے کاروباری اصحاب بن گئے ہیں جن کا واحد مقصد دولت اندوزی اور زر پرستی ہے ۔ اور جب تک تعلیم اور طب کے شعبوں میں تبدیلی نہیں آتی تب تک کسی سیاسی جماعت کے تبدیلی کے منشور کی قیمت دو ٹکے بھی نہیں رہتی اور نہ ہوتی ہے ۔
تبدیلی کے لیے مذہبی اداروں کے مذہبی کارکنوں کا اخلاقی معیار سب سے بڑا چیلنج ہے ۔ جب مدرسوں اور مسجدوں میں ایسے واقعات رونما ہوں گے جو اخلاقی معیار کی نفی پر مبنی ہوں ، کسی معاشرتی تبدیلی کی توقع لا یعنی ہوتی ہے ۔ آج ہی ایک انتہائی شرمناک خبر میڈیا میں گردش کر رہی ہے کہ ایک بچی لاہور میں کسی جگہ قرآن پڑھنے کے لیے جاتی تھی جہاں اُسے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور راز کھلنے پر یہ طے ہوا کہ اب وہ شخص جو اس سے جنسی تعلقات روا رکھے تھا ، شادی کر لے ۔ چنانچہ شادی ہوگئی لیکن اگلے دن لڑکی کو طلاق دے دی گئی اور اُسے نشہ آور مشروب پلا کر فروخت کردیا گیا ۔ کیا تبدیلی اسی کو کہتے ہیں یا ایسا معاشرہ جس میں اس درجہ کے گھٹیا واقعات رونما ہوتے ہوں ، وہاں تبدیلی کا منتر کارگر ہو سکتا ہے ؟
اور اِس صورتِ حال کا سب سے اندوہ ناک پہلو یہ ہے کہ کہ مذہبی ادارے ، جماعتیں ، اسلامی نظریاتی کونسل کے کان پر جوں نہیں رینگتی اور عدالتیں اس پر کسی سوموٹو کا اقدام نہیں کرتیں ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تمام ادارے ایک دھن پر ناچتے ہیں اور وہ دھن ہے ظلم و بربریت کی سمفنی اور نا انصافی کا راگ ۔ اور ان اداروں کے سرخیل وہ لوگ ہیں جو سیاست دان اور دانشور کہلاتے ہیں ۔ یہی لوگ اسٹبلشمنٹ کی بھی وکالت کرتے ہیں اور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ان کے مفادات بدلتے رہتے ہیں ۔ کسی بھی معاشرتی تبدیلی یا نظام کی سیاسی کایا پلٹ کے لیے ان اداروں کے ذمہ دار افراد کی تبدیلی ضروری ہے ۔ کوئی بھی فردِ واحد خوہ وہ کسی بھی عہدے پر براجمان ہو تبدیلی کو نافذ نہیں کرسکتا کیونکہ تبدیلی کوئی قانونی نقطہ نہیں بلکہ ایک وجودی کیفیت ہے جسے خواب ، خُطبے ، تقریریں ، بحث مباحثے یا مقالے تبدیل نہیں کرسکتے یہاں تک کہ خُدا کی کتاب جو ہمیشہ سے ہمارے ساتھ ہے تبدیلی کی ضمانت نہیں بن سکی کیونکہ تبدیلی کے لیے حکم کو عمل سے زندہ کرنا بنیادی شرط ہے جس سے ہم من حیث القوم محروم ہیں ۔
ہمارے شاعر ، گلوکار اور فن کار اپنی شاعری اور گیتوں میں محبت کا حشر ا‘ٹھا دیتے ہیں مگر عملاً وہ محبت سے محروم ہوتے ہیں ۔ اس لیے معاشرے میں محبت رائج نہیں ہو پاتی لیکن کیا کیا جائے ۔ شاعری شاعر کی مجبوری ہے ۔ اس لیے تبدیلی آئے نہ آئے غزل ضرور آتی ہے ۔ لیجیے غزل پیشِ خدمت ہے :
جُز فتنہ گری اپنا کوئی کام نہیں ہے
اسلام کا بس نام ہے اسلام نہیں ہے
تعلیم بھی بزنس ہے مسیحائی بھی بزنس
ہے کون جو اِن شعبوں میں بد نام نہیں ہے
غیروں کی غلامی ہو کہ اپنوں کی غُلامی
ہم کو کسی صورت میں بھی آرام نہیں ہے
یہ میکدہ عشق نہیں ایک کھنڈر ہے
بادہ نہیں ، مینا نہیں اور جام نہیں ہے
ہر شے میں ملاوٹ ہے غذا ہو کہ دوا ہو
تم کہتے ہو ، یہ تو کوئی الزام نہیں ہے
یہ عہد ہے بھوتوں کا چُڑیلوں کا ، مری جان!
اس عہد میں باقی کوئی گُلفام نہیں ہے
مسعود ، یہ کل یُگ ہے ۔ یہاں مودی ہے راون
بھارت میں بھی سیتا نہیں اور رام نہیں ہے