یورپ میں پی آئی اے سمیت تمام پاکستانی پروازوں پر چھ ماہ کے لیے پابندی

  • بدھ 01 / جولائی / 2020
  • 4900

یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی  نے یورپی ممالک کے لئے پی آئی اے سمیت تمام پاکستانی پروازوں پر چھہ ماہ کے لئے پابندی لگا دی ہے۔ فضائی آپریشن  6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے۔

پہلے س کا اطلاق یکم جولائی 2020 سے ہونا تھا تاہم پی آئی اے کی یقین دہانی کے بعد اب یہ پابندی دو روز بعد تین جولائی سے نافذ ہوگی۔ پی آئی اے کے بیان کے مطابق اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے۔

یورپین یونین کی ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان ایئرلائن کا یورپی ممالک کے لیے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لئے معطل کردیا ہے، جس کے بعد پی آئی اے کی یورپ جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

یورپی یونین کی ایئرسیفٹی ایجنسی  کے بھجوائے گئے مراسلے کے مطابق پی آئی اے اور ایاسا کے درمیان گذشتہ سال جون اور پھر ستمبر میں اجلاس منعقد ہوئے جن میں پی آئی اے سے متعلق مختلف تکنیکی امور پر بات کی گئی۔ پی آئی اے نے سیفٹی کے پانچ مختلف امور پر انہیں جلد حل کروانے کی یقین دہانی کروائی، لیکن پی آئی اے ایسا کرنے میں ناکام رہی۔ یہ فیصلہ وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان کی جانب سے پاکستانی پائلٹس کے لائسنس مشکوک قرار دینے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

اپاسا کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 24 جون کو پاکستان کے ہوابازی کے وزیر غلام سرور خان نے پاکستانی پارلیمان کو آگاہ کیا کہ پاکستان کے 860 پائلٹس میں سے260 پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں اور پائلٹس نے دھوکہ دہی سے پاکستانی حکام سے یہ لائسنس حاصل کیے ہیں۔

ان معلومات کی بنیاد پر ایاسا کو اس بات پر تشویش ہے کہ پاکستانی پائلٹس کے لائسنس قابل استعمال نہیں ہیں اور بین الاقوامی سیفٹی معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس بارے میں ایاسا کی طرف سے 26 جون کو پی آئی اے سے دریافت کیا گیا۔ لیکن 28 جون کو جو وضاحت پی آئی اے کی طرف سے بھجوائی گئی وہ ناکافی ہے۔

ایاسا کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے مطابق تمام جعلی لائسنس والے پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا گیا ہے۔ لیکن یہ سب کافی نہیں ہے اور ایاسا کو اب بھی شک ہے کہ مزید ایسے پائلٹس بھی ہوسکتے ہیں جن کے لائسنس جعلی ہوں۔ ایاسا نے کراچی میں ہونے والے حادثہ کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سیفٹی مینجمینٹ سسٹم میں کئی غلطیاں پائی گئی ہیں۔

پاکستانی ایوی ایشن نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے ایاسا نے چھ ماہ کے لیے یورپی یونین میں پی آئی اے کا داخلہ بند کردیا ہے اور کوئی پاکستانی جہاز یورپی حدود میں پرواز نہیں کرسکتا۔ پی آئی اے اس فیصلے پر دو ماہ کے اندر اپیل بھی کرسکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے پی آئی اے کو الگ سے فیس ادا کرنا ہوگی۔

پی آئی اے کے ترجمان، عبداللہ حفیظ کے مطابق معطلی کا اطلاق اب 3 جولائی 2020 رات 12 بجے یو ٹی سی ٹائم کے مطابق ہوگا، پی آئی اے کی یورپ کی تمام پروازیں عارضی طور پر منسوخ ہوگئی ہیں۔ عبداللہ حفیظ کا کہنا تھا کہ اس معاملہ پر پی آئی اے کے اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے اور اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے بات کی جارہی ہے۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یورپی یونین اس وقت پاکستان کے ایوی ایشن نظام پر اعتماد نہیں کررہی جس کی وجہ سے یہ انتہائی اقدام اٹھایا گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور ترجمان، نفیسہ شاہ نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ وزیر غلام سرور خان کی جانب سےقومی اسمبلی میں دیا گیا غلط بیان پاکستان کے شعبہ ہوابازی کے لیے موت کا پروانہ ہے۔ اب پی آئی اے یورپ کی فضائی حدود میں داخل نہیں ہو سکتی۔

ملک بھر اور دنیا بھر میں جانے والی پروازوں میں کصرونا وائرس کی وجہ سےپی آئی اے کی پروازوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور پی آئی اے کی روزانہ 110 پروازوں کی تعداد کم ہو کر 10 سے 15 تک آچکی ہے، اس کے ساتھ ساتھ کراچی میں ہونے والے حادثہ اور اس کے بعد پائلٹس کے لائسنس اسکینڈل کی وجہ سے بھی پی آئی اے کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔