وفاقی حکومت نے ہزاروں آسامیاں ختم کرنے فیصلہ کرلیا
- جمعرات 02 / جولائی / 2020
- 5100
عالمی بینک کے ساتھ سمجھوتے کی وجہ سے وفاقی حکومت نے ایک سال سے خالی گریڈ ایک سے 16 تک کی ہزاروں اسامیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارت خزانہ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری کو ’تمام وزارتوں، ڈویژنز اور حکومتی محکموں میں ایک سال سے زائد عرصے سے خالی گریڈ ایک سے 16 کی خالی اسامیوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کی ہدایت کردی۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام عالمی قرض دہندہ اداروں بشمول عالمی بینک کے ساتھ ’وفاقی حکومت کی تنظیم نو اور رائٹ سائزنگ کے لیے‘ کیے گئے وعدے کا حصہ ہے تاکہ سول حکومتی اخراجات پر قابو پایا جاسکے۔ وزارت خزانہ کے خط میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان اور عالمی بینک کی خواہش ہے کہ غیر ضروری اخراجات کو محدود رکھنے کے لیے حکومتی مشینری کو صحیح حجم میں اور اسمارٹ ہونا چاہیئے۔
اس وقت وفاقی حکومت میں 6 لاکھ 80 ہزاراسامیاں منظور شدہ ہیں لیکن اس میں سے 80 ہزار خالی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھیجے گئے خط میں وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین کی تعداد ’گزشتہ ایک دہائی کے عرصے میں مسلسل بڑھی ہے اور اس کی وجہ سے سالانہ تنخواہوں کا بل 3 گنا بڑھ چکا ہے جبکہ پینشن کا بل بھی قابو سے باہرہوگیا ہے‘۔
رواں مالی سال میں وفاقی حکومت نے پینشن بل میں 4 کھرب 70 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں فوجی اہلکاروں کی پینشن کا حجم 3 کھرب 70 ارب روپے ہے۔ رواں مالی سال کے دوران وفاقی حکومت چلانے کا مجموعی خرچہ 4 کھرب 75 ارب روپے ہے۔
حکام کو یقینی ہے کہ ’وفاقی حکومت کا ڈھانچہ ناہموار ہے اور 95 فیصد ملازمین ایک سے 16 گریڈ کے ہیں جو سیلری بل کا 85 فیصد حصہ حاصل کرتے ہیں‘۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ معاون عملہ ملازمین کی مجموعی تعداد کے 50 فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہیئے۔
وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے اداراہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے ڈان کو بتایا کہ مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی کہ منظور شدہ اسامیوں اور ان پر کام کرنے والے ملازمین کی حقیقی تعداد میں 12 سے 13 فیصد کا ’فل گیپ‘ موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ منظور شدہ اسامیوں میں سے 84 سے 85 فیصد بھری رہتی ہیں جبکہ بقیہ اسامیاں خالی ہیں۔
ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ ان گریڈز کی 71 ہزاراسامیاں 2 سے 3 سال کے عرصے سے خالی پڑی ہیں اس لیے حکومت نے ان اسامیوں کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اسامیوں پر اب کوئی بھرتی نہیں کی جائے گی تاہم اہم پبلک سروسز مثلاً سماجی شعبے میں گریڈ ایک سے 16 کی اسامیاں بڑھائی جائیں گی۔