افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے روابط برقرار ہیں: پینٹاگان
- جمعہ 03 / جولائی / 2020
- 4360
امریکی پینٹاگان کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ افغان طالبان کے معاہدہ کے برعکس طالبان اور القاعدہ کے روابط بحال ہیں۔
پینٹاگان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''حالانکہ امن عمل کے سلسلے میں حالیہ پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے لیکن القاعدہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد تربیت کی فراہمی ہے''۔ طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے پینٹاگون کی رپورٹ کو بے بنیاد اور پروپیگنڈا قرار دے کر اس کی شدید مذمت کی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان کے مطابق ذبیع اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان اپنی پالیسی کے تحت دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ اس لیے طالبان افغانستان کی سرحدوں سے باہر کام کرنے والے کسی بھی گروہ کی حمایت نہیں کرتے چاہے یہ بھارت یو یا کوئی اور ملک۔ ذبیع اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ 19 سالوں سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے قبضے میں ہے اور طالبان اپنی قیادت کے تحت ملک میں ایک اسلامی حکومت کے قیام کے لیے برسرپیکار ہیں۔ اس صورتحال میں ان کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ افغانستان کی سرحدوں کے باہر کسی کی حمایت کریں۔
ذبیع اللہ نے مزید کہا کہ طالبان نے 29 فروری 2020 کو دوحہ میں امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ طالبان اس معاہدے پرعمل درآمد کی بھر پور کوشش کررہے ہیں تاکہ افغانستان میں مکمل طور پر امن قائم ہو سکے ۔ طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے ایسی رپورٹ کی اشاعت یا تو غیر ذمہ دارنہ ہے یا اسے عوام کے ذہنوں کو الجھانے کے لیے بطور پروپگنڈا استعمال کیا جارہا ہے۔ طالبان ترجما ن نے امریکہ عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کریں اورغلط معلومات کی بنیاد پرمبنی پروپگنڈا بند کریں۔
گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تجزیے میں بتایا گیا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کی قربت برقرار ہے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں ان کے مابین باقاعدہ صلاح و مشورہ کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے جمعرات کو ایک بیان میں تشدد کی جاری کارروائیوں پر اظہار تشویش کیا ہے اور افغانستان میں شہری آبادی کے تحفظ پر زور دیا ہے تاکہ بین الافغان بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جا سکے۔
اس دوران صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے تک ہو جائے گا۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اگلے ہفتے امن عمل سے متعلق گفت و شنید کا آغاز ہو جائے گا، جس میں 18 علاقائی اور بین الاقوامی ملک شرکت کریں گے۔ صدر اشرف غنی نے یہ بات گزشتہ رات افغانستان کے قومی ٹیلی ویژن چینل آر ٹی اے کی ایک تقرب سے خطاب میں کہی۔
صدر غنی نے کہا کہ انہوں نے تمام متعلقہ تنظیموں کو کہا ہے کہ وہ طالبان قیدیوں کی فہرست کو آخری شکل دیں، جن پر افغان حکومت اور طالبان رضامند ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی دراصل قیدیوں کا تبادلہ ہے اور افغان حکومت کو پتا ہونا چاہیے کہ افغان سیکیورٹی فورسز کے قیدیوں کو کب اور کہاں رہائی ملے گی۔ یہ یک طرفہ عمل نہیں ہو گا۔
افغان صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پہلا بین الافغان مکالمہ دوحہ میں ہو گا۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک جن میں ازبکستان، انڈونیشیا، چین، جرمنی، ناروے اور جاپان شامل ہیں، بین الافغان بات چیت کا اجلاس منعقد کرنے پر تیار ہیں۔
امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت، زلمے خلیل زاد بدھ کو پاکستان میں تھے، اس دورے کا مقصد بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔