اسلام آباد میں مندر کی تعمیر پر کیا تنازعہ ہے؟
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- ہفتہ 04 / جولائی / 2020
- 7710
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا معاملہ گزشتہ چند روز سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ پاکستان کے بعض مذہبی اور سیاسی حلقے مندر کی تعمیر کی مخالف کر رہے ہیں جب کہ بعض حلقوں کا موقف ہے کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر پر اعتراض بلا جواز ہے۔
مندر کی تعمیر اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن ٹو میں جاری ہے جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بھی مندر کی تعمیر روکنے کے لیے حکم امتناع کی درخواست خارج کر چکی ہے۔ حکومتی جماعت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے پارلیمانی سیکریٹری لال چند مالہی نے 23 جون کو اس مندر کی تعمیر کا افتتاح کیا تھا۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے لال چند مالہی نے واضح کیا کہ اس مندر کی منظوری گزشتہ دورِ حکومت میں دی گئی تھی۔ تاہم وسائل کی کمی کی وجہ سے اس کی تعمیر تاخیر کا شکار تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ مندر کی تعمیر سے پاکستان کا مثبت امیج دنیا میں جائے گا اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔
لال چند مالہی کا کہنا کہ یہ صرف مندر ہے، سراسر غلط ہے۔ بلکہ یہ چار کنال پر مشتمل مکمل کمپلیکس ہے جس میں شمشان گھاٹ، کمیونٹی ہال، رہائش کا انتظام اور آڈیٹوریم بھی ہو گا۔ ان کے بقول 25 جون کو اُن کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی۔ وزیر اعظم نے مندر کی تعمیر کے لیے وزیر مذہبی اُمور کو فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس منصوبے پر لگ بھگ 50 کروڑ لاگت آئے گی۔
ملاقات کی خبر میڈیا میں نشر ہونے کے بعد کچھ مذہبی حلقوں کی جانب سے حکومتی امداد سے مندر کی تعمیر پر اعتراض اُٹھا دیا گیا۔ لال چند کے مطابق وہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی آرا کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن وہ آئینِ پاکستان کے پابند ہیں جو انہیں پاکستان میں مذہبی آزادی کی اجازت دیتا ہے اور وہ توقع کرتے ہیں کہ پاکستان کے تمام آئینی ادارے ان کا ساتھ دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا نے بھی اس ایشو کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے بہت اچھالا۔ لیکن وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جیسی مشکلات اقلیتی برادری کو بھارت میں ہیں، ایسا پاکستان میں ہر گز نہیں ہے۔ پاکستان میں ہندو برادری کی زیادہ تر آبادی صوبہ سندھ اور بلوچستان میں رہائش پذیر ہے۔ ہندو کمیونٹی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہندوؤں کے لیے کوئی شمشان گھاٹ نہیں ہے، لہذٰا اُنہیں اپنے عزیز و اقارب کی آخری رسومات کے لیے آبائی علاقوں میں جانا پڑتا ہے۔
لال چند مالہی کے مطابق اسلام آباد میں اس کے علاوہ بھی دو مندر ہیں۔ لیکن وہ فعال نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی ہندو پراپرٹیز پر قبضے ہو چکے ہیں۔ ایسے میں اسلام آباد میں نئے مندر کی تعمیر خوش آئند ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں رہائش پذیر زیادہ تر ہندو برادری کا تعلق غریب طبقے سے ہے۔ اسلام آباد میں بھی لگ بھگ 200 خاندان رہائش پذیر ہیں جن کے لیے کوئی کمیونٹی سینٹر نہیں ہے اور وہ اپنے تمام فنکشنز شادی ہالز میں کرتے ہیں۔
اُن کے بقول دور اُفتادہ علاقوں سے آنے والے افراد ہوٹل کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے لہذٰا اس کمپلیکس کی تعمیر سے اُنہیں آسانی ہو گی۔ چار کنال پر محیط مندر کی چار دیواری کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ اسلام آباد کے ایچ نائن ٹو سیکٹر کو اب مندر کی وجہ سے بھی پہچانا جانے لگا ہے۔ مندر کے ساتھ ملحقہ آبادی میں مسیحی برادری کی رہائشی کالونی اور قبرستان بھی ہے۔ کرشنا مندر تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار محمد فخر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ چاردیواری کا عمل ایک ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔
مندر پر جاری کام رکوانے کے لیے اسلام آباد میں ایک وکیل چوہدری تنویر ایڈوکیٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔ تاہم عدالت نے حکم امتناع جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
حکومت کے اہم اتحادی اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے بھی ایک ویڈیو بیان میں اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی مخالفت کی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لہذٰا اسلام آباد میں مندر کی تعمیر بلا جواز ہے۔ چوہدری پرویز الہٰی نے تجویز دی تھی کہ نیا مندر بنانے کی بجائے پہلے سے موجود مندروں کی دیکھ بھال کی جائے۔
چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ اسلام آباد میں نیا مندر بنانا نہ صرف اسلام کی روح کے خلاف ہے بلکہ یہ ریاستِ مدینہ کی بھی توہین ہے۔
ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی، جامعہ نعیمیہ لاہور کے ناظم اعلٰی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسلام تو بتوں اور شرک کو ختم کرنے کے لیے آیا ہے۔ اسلامی ریاست میں اسلامی احکامات ہیں اور اس کے مطابق بت پرستی کے لیے مندر نہیں بننے چاہئیں۔ ڈاکٹر راغب نعیمی بھی اس موقف کے حامی ہیں کہ نئے مندر بنانے کے بجائے پرانے مندروں کی مرمت اور بحالی کی جائے۔
راغب نعیمی کہتے ہیں کہ ایسی جگہ جہاں ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہو اور اگر وہ مندر کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تو وہ اپنی رقم سے مندر بنا سکتے ہیں۔ لیکن اسلامی ریاست کسی بھی اعتبار سے اپنے ذرائع سے ان کی اس کام میں مدد نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست خارج ہو گئی ہے۔ تاہم وہ مکمل قانونی چارہ جوئی کی بات کرتے ہیں اور اس ضمن میں وہ آئندہ حکمتِ عملی پر غور کر رہے ہیں۔ پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے بھی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی مخالفت کی۔