ایک اور گوہر نایاب ہوا: جلال الدین احمد
- تحریر
- ہفتہ 04 / جولائی / 2020
- 5760
چار پانچ سال قبل کی بات ہے، اپنے پڑوسی بزرگ سے عید ملنے گئے تو ان کے ہاں ان کے ایک قریبی رشتہ دار جلال الدین احمد بھی موجود تھے۔ میزبان مظہر اخلاق نے دوران ِ تعارف 60 کی دہائی میں الطاف گوہر کی سربراہی میں ان کے کلیدی عہدوں پر فائز رہنے کا ذکر کیا۔ ساتھ ہی یہ تذکرہ بھی کہ صدر ایوب کی کتاب فرینڈز ناٹ ماسٹرز کے اصل مصنفین میں سے ایک یہ بھی ہیں۔
یہ سن کر ہم چونکے اور ان سے اس کتاب کی بابت دو تین سوال داغ دیے۔ وہ مسکرائے اور طرح دے گئے، سوالوں کا جواب دینے کی بجائے نرم لہجے اور شفیق انداز میں گویا ہوئے، ہم تو اب قصہ ء پارینہ ہیں، آپ لوگ عہدِ حاضر کے لوگ ہیں، آپ بتائیے کہ ملک کس ڈگر پر جا رہا ہے۔ بعد میں ان کی شخصیت کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ پچاس اور ساٹھ کی دِہائی کا حوالہ بھی ان کی زندگی میں اہم ہے لیکن ان کی زندگی کا اصل حوالہ ان کی پاکستانی اور اسلامک آرٹ سے والہانہ جنون ہے۔ انتہائی دبلے پتلے جلال الدین احمد ان معدودے چند نایاب لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نوزائیدہ ملک پاکستان میں ہم عصر آرٹ میں ہونے تخلیقات اور تحرک کو محفوظ کرنے کی ٹھانی۔ یہ شوق بعد ازاں وسیع ہو کر ہم عصر اسلامک آرٹ پر نقد و نظر، اس عہد میں کی جانے والی نمائیندہ تخلیقات اور آرٹسٹوں پر مواد کی تدوین اور اشاعت تک پھیل گیا۔ ملک اور بیرونِ ملک ان کا نام اور کام اسلامک اور پاکستانی آرٹ کے حوالے سے جانا پہچانا ہے، تاہم اپنی جہدِمسلسل اور ذاتی ذکر سے گریزاں جلال الدین احمد کے بارے میں عوام الناس کو کم ہی معلوم ہے جن کا گزشتہ ہفتے لاہور میں انتقال ہوا۔
جلال الدین احمد 1925 میں لکھنو میں پیدا ہوئے۔ گھرانے میں تعلیم ہی اوڑھنا بچھونا تھی، سو ان کے حصے میں بھی یہی شوق آیا۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے ایم اے انگلش کیا اور وہیں اسسٹنٹ لیکچرر کے طور پر پڑھانا شروع کر دیا۔ اسی زمانے میں آرٹ کے معروف استاد پروفیسر شاہد سہروردی کی رہنمائی میں ہم عصر آرٹ پر تحقیق کی۔ کچھ عرصے بعد نئی دہلی منتقل ہوگئے۔ قیام پاکستان کے وقت نئی دہلی میں برپا ہوئے فسادات میں ایک دوست کی کوششوں سے بال بال بچے اور اسی کی اعانت سے لاہور کے لئے آخری پروازوں میں سے ایک پر سوار تہی دامن اور تہی دست لاہور وارد ہوئے، بعد میں کراچی چلے گئے۔ وہاں نجی شعبے میں پبلی کیشننز سے وابستہ ہو گئے۔ بعد ازاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے وزارت انفارمیشن جائن کر لی۔
1954 میں انہوں نے اپنی پہلی اور اس وقت کے آرٹ کے منظر نامے پر کتاب لکھی: آرٹ ان پاکستان۔ یہ کتاب پاکستانی آرٹ کی ابتدائی اور بنیادی کتابوں میں شمار ہوتی ہے اور مدتوں آرٹ کالجوں میں پڑھائی جا تی رہی۔ اس کتاب میں انہوں نے مغربی اور مشرقی پاکستان کی آرٹ تخلیقات، موومنٹ اور آرٹسٹوں کو اپنا موضوع بنایا۔ سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ ان کی آرٹ سے دلچسپی کا سلسلہ جاری رہا۔ 1972 میں انہوں نے چھ ماہ کی رخصت لے کر برٹش میوزیم میں اسلامک آرٹ کا مطالعہ کیا۔ بعد میں انہیں قاہرہ میں پاکستانی سفارت خانے میں پریس اتاشی متعین کیا گیا۔ اس دوران قاہرہ میں جا بجا آرٹ میوزیم اور گیلریز نے ان کے شوق کو مزید مہمیز دی۔
1977 میں پچیس سالہ سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر لندن منتقل ہو گئے۔ لندن منتقل ہونے میں اس جنون کا بنیادی کردار تھا کہ دنیا میں اسلامک آرٹ پر معیاری اور معتبر حوالے کا ایک معیاری رسالہ جاری کیا جائے۔ جلال الدین احمد اور ان کی شریک حیات عذرا جلال دونوں کا مشترکہ جنون اور اپنے ہاتھ سے کام کرنے کا کرشمہ تھا کہ انہوں نے 1983 میں ایک ششماہی رسالہ ’آرٹس ان اسلامک ورلڈ‘ کا اجرا کیا۔ دوستوں کے تعاون اور میاں بیوی سمیت ایک مختصر سی ٹیم کے ساتھ انہوں نے اگلے اٹھارہ سال یہ رسالہ 36 شماروں کی صورت مستقل شائع کیا جن میں کئی خاص نمبرز بھی شامل تھے۔ آرٹ کے دلدادہ لوگوں کے لئے یہ شمارے اسلامک آرٹ کی بہترین خدمت ثابت ہوئے۔ اسی دوران انہوں نے برٹش میوزیم اور پیرس میں اسلامک آرٹ پر لکھی گئی سینکڑوں کتابوں کی نمائش کا اہتمام کیا۔ یہ کتب انہوں نے برٹش میوزیم کو تحفہ دے دیں تاکہ مستقبل کے اسلامک آرٹ محقق ان سے فائدہ اٹھائیں۔
انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پچاس کی دِہائی میں ایک ماڈرن آرٹ میوزیم قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی: Foundation for Museum for Modern Art (FOMMA)
مگر بوجوہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ لندن کے بعد کئی سال دوبئی میں سکونت کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئے تاکہ فیملی کے پاس بڑھاپا گزاریں۔ یہاں آکر انہوں نے احباب سے مل کر اس ادارے کو نئی توانائی دی۔ انہیں اس ادارے کا اعزازی ڈائریکٹر جنرل نامزد کیا گیا۔اس دوران انہوں نے اس ادارے کے تحت پاکستان کے نمایاں آرٹسٹوں کو موضوع بنا کر ان پر کتابی سلسلہ شروع کیا جس کے تحت آٹھ سے زائد اعلی معیار کی کتابیں شائع کی گئیں۔ چند سال قبل وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ ان کی اب بھی خواہش تھی کہ وہ اپنے اس جنون کو جاری رکھ سکیں مگر صحت نے اجازت نہ دی۔
انہیں حکومت ِ پاکستان کی جانب سے تمغہ ء قائد اعظم، تمغہ ء پاکستان، ستارہء پاکستان، صدارتی میڈل برائے پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ حکومتِ اردن کی طرف سے ’سٹار آف اردن‘ اور معروف جریدے ’آرٹ ناؤ‘ کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ذاتی نمود سے گریز کا یہ عالم کہ اپنے بارے میں بات کرنے سے کتراتے تھے۔ اردو کے معروف مزاح نگار رشید احمد صدیقی کے بھانجے اور داماد تھے۔ ان کے صاحبزادے راحت جلال سے ہم نے گلہ کیا کہ اپنے والد کے ان گراں قدر کاموں کا انہوں نے کبھی تذکرہ نہیں کیا تو بولے: ا با نے عمر بھر خود اپنے کام کا تذکرہ کرنے سے گریز کیا۔مبادا کہ ان کے بارے میں یہ گمان ہو کہ وہ اپنے کارناموں پر کریڈٹ کے خواہاں ہیں۔
ایسے لوگ پہلے بھی نایاب تھے جو اپنے خوابوں کے لئے عمر بھر محنت اور لگن کے ساتھ جیئے اور پھر بھی مصر کہ ابھی تو بہت کچھ کرنا باقی تھا، ان کی وفات سے ان نایاب لوگوں میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا۔