پائلٹس کے جعلی لائسنس اور ہوٹل رُوز ویلٹ
کسی نہ کسی بحرانی کیفیت میں عوام الناس کورکھا جانا حکمرانی کا پسندیدہ حربہ یا شیوہ ہے۔ عموماً حکومتیں یہ حربے کسی خاص صورتِ حال میں استعمال کرتی ہیں یا ایسی حکومت جو اپنے عوام کی ضرورتوں، خواہشوں اور اُمنگوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو، وہ مسلسل ایسے حربے اختیار کرتی ہے جو لوگوں کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا رکھتے ہیں۔
اس کا مقصد لوگوں کی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹائے رکھنا، لوگوں کو درپیش مشکلات سے توجہ ہٹانا اور خود ساختہ مصنوعی بحران کی طرف مبذول کرنا ہوتا ہے۔بعض اوقات یہ مصنوعی بحران قومی سلامتی کی شکل میں بھی بنائے اور دیکھائے جاتے ہیں۔یہ بحران قلیل مدتی بھی ہوتے ہیں اور طویل مدتی بھی۔قلیل مدتی بحرانوں کو ایک سیریز کی شکل میں بھی ترتیب دیا جاتا ہے جبکہ طویل مدتی بحران حکومت کے کسی ایسے اہم اقدام کے لئے فضا کو دھندلانے پر محیط ہوتا ہے جس کے بارے میں حکومت کو شدید مخالفت کا یقین ہو۔حکومتوں کے اس عوام دشمن کھیل میں عموماً میڈیا بھی ایسے بحرانوں کی شدت میں اضافہ کرنے میں حکومت کا شریک ہوتا ہے۔
روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرنے سے پہلے مارکیٹ سے ان چیزوں کا مصنوعی بحران پیدا کرنا، قیمتوں میں ہوشربا گرانی پیدا کرنے کے بعد لوگوں کے شور مچانے پر معمولی کمی کر دینا، قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بعد مارکیٹ سے ان اشیاء کا نا پید ہو جانا، عوام دشمن اور غیر مقبول حکومتوں کا چھچھورا ہتھکنڈاہے۔ ایسے ہتھکنڈوں اور خود ساختہ مصنوعی بحرانوں کو مؤثر بنانے میں میڈیا کا وہ حصہ ہمیشہ حکومت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسلام اور قومی سلامتی کو خطرہ، عریانیت و بے حیائی، مغربی یلغار وغیرہ وہ دلفریب نعرے ہیں جن کی آڑ میں میڈیا حکومت کا ساتھ دینے کیلئے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلتا ہے۔
پی آئی اے پاکستان کا قومی ادارہ ہے جس پر اس سے پہلے اور موجودہ حکومت کی لالچی نظریں جمی ہیں کہ کسی طور یہ تر نوالہ نگل لیا جائے۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پی آئی اے میں وہ کیڑے بھی ڈالے جاتے ہیں جن سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ حال ہی میں وفاقی وزیر ہوا بازی نے اسمبلی میں یہ بیان دیا کہ پی آئی اے کے پائلٹس کی ایک بڑی تعداد ’جعلی‘ لائسنس رکھتی ہے۔ گو بعدازاں لفظ ’مشکوک‘ بھی استعمال کیا گیا۔’جعلی‘، ’نقلی‘ اور ’مشکوک‘ تینوں الفاظ ایک ہی معنی میں استعمال نہیں کئے جا سکتے کہ ہر لفظ ایک مخصوص معنی کا پس منظر رکھتا ہے۔ وزیر موصوف نے(جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ الیکٹریکل انجنیئرنگ میں تین سالہ ڈپلومہ ہولڈر ہیں) بڑی جلدی میں یہ بیان دیا ہے۔ یہ معاملہ قریباً دو سال سے زیرِ تفتیش ہے۔زیرِ تفتیش جعلی یا نقلی لائسنس نہیں معاملہ ہر چھ ماہ بعد ریفریشر کورسز کا ہے۔پی آئی اے کا کہنا ہے کہ بعض پائلٹس خود یہ کورس نہیں کرتے جب کہ یہ کورس ان کے پروفیشن کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ ہی وہ معاملہ ہے جو زیرِ تفتیش ہے۔
وزیر موصوف کے اس بیان نے نہ صرف ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ایک ہیجانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔پاکستان جو پہلے ہی دہشت گردی کے حوالے سے اپنی پہچان کے اس دھبے کو دھونے کی کوشش میں مصروف ہے اب دھوکہ دہی، نالائقی، جھوٹ اور فریب جیسے الزامات کے نرغے میں آ گیا ہے۔ وزیر موصوف کا یہ بیان نہ صرف جگ ہنسائی و رسوائی کاسبب بنا بلکہ پی آئی اے کی پروازوں پر بہت سے ممالک نے پابندی عائد کر دی ہے جس سے پی آئی اے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس ساری صورتِ حال میں سر براہِ حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے۔ پُر اسرار ہے، مجرمانہ ہے۔
جس وقت وزیرِ ہوا بازی نے اسمبلی میں یہ بیان داغا اُس وقت بھی وہ تمام پائلٹس جہاز اُڑا رہے تھے جن پر جعلی لائسنس رکھنے کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ کیسی احمقانہ غیر ذمہ داری ہے کہ تفتیش کے بغیر اتنا نازک الزام! کیا یہ بحران بھی کچھ خفیہ خفیہ کرنے کا پیش خیمہ ہے۔ کیاان سنگین الزام تراشیوں کی اُوٹ میں اس قومی ادارے کو ہضم کرنے کا پلان ترتیب دیا جا رہا ہے۔پی آئی اے کی ایک معروف پراپرٹی ہوٹل رُوز ویلٹ، مین ہیٹن، نیو یارک سٹی، امریکہہے جس پر حکومتِ وقت کی رال ٹپک رہی ہے۔ یہ ہوٹل 1025 کمروں اور 52سوئیٹس پر مبنی ہے۔ اس ہوٹل کا نام امریکہ کے 26ویں صدر تھیوڈور رُوز ویلٹ (1901-1909)کے نام پر رکھا گیا۔22ستمبر 1924کو اس ہوٹل کا افتتاح صدر امریکہ تھیوڈور رُوز ویلٹ نے کیا۔ بہت سی فلموں کی عکس بندی، معروف شخصیات کا یہاں قیام کرنا، کئی مخصوص کھانوں پر مبنی یہاں کا مینو، طرزِ تعمیر اور سہولیات وغیرہ اس ہوٹل کی شہرت کی وجوہات ہیں۔ اب اس ہوٹل کی حیثیت کلاسیکل ہے۔ 1995سے1997تک یہ ہوٹل بند رہا کیونکہ 65 ملین ڈالر کی خطیر رقم سے اس ہوٹل کی تزئین و آرائش کا کام ہو رہا تھا۔پی آئی اے نے 1979میں یہ ہوٹل لیز پر لیا تھا۔ لیز میں یہ شق شامل تھی کہ 20سال بعد پی آئی اے ہوٹل کی عمارت خرید لے گا۔ جب یہ ہوٹل لیز پر لیا گیا تھا تب اس کے ایک شریک(انویسٹر) سعودی شہزادے فیصل بن خالد بن عبدالعزیز تھے۔ 1999میں پی آئی اے نے 36.5ملین ڈالر میں یہ ہوٹل خرید لیا۔2005میں پی آئی اے نے اپنے سعودی پارٹنر سے ایک اور ڈیل کے ذریعے ہوٹل کے جملہ حقوق بھی خرید لئے۔آج اس ہوٹل کی اوسط قیمت 636ملین ڈالر ہے جبکہ مڈ ٹاؤن مین ہیٹن میں واقع اس ہوٹل کی قیمت کا تعین وہاں کی ہوٹل انڈسٹری کے مطابق ایک بلین سے 1.4بلین ڈالر بتایا جاتا ہے۔
پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن کارپوریشن لمیٹڈ ریاستِ پاکستان کا ادارہ ہے، اس طرح ہوٹل رُوز ویلٹ سٹیٹ پراپرٹی ہے۔ اگر یہ ہوٹل فروخت کیا جاتا ہے تو حاصل شُدہ رقم پر تمام صوبوں کا برابر کا حق ہے، وفاقی حکومت اس رقم کو تنہا ہڑپ نہیں کر سکتی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ غیر قانونی اقدام تصور ہو گا اور اس سے وفاقِ پاکستان کو ضعف پہنچے گا۔ ایک وفاقی وزیر(جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس ہوٹل کو خریدنا چاہتے ہیں) بڑی شد و مد سے فرما رہے ہیں کہ حکومت اس ہوٹل کو بیچنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ہوٹل خسارے میں ہے۔ حکومت کب تک یہ خسارہ برداشت کرئے گی، کیوں نہ ہم اس سے پیسے کمائیں۔گویا کان پکڑنا طے کر لیا ہے مگر ذرا ہاتھ گھُما کر پکڑنے کا ارادہ ہے۔ تبھی تو بغیر تفتیش و تصدیق پائلٹس کے ’لائسنس جعلی‘ ہو گئے ہیں۔
یہ ملک کتنا مظلوم ہے کہ کلرک سے افسر تک، اردلی سے جج تک، دکاندار سے صنعت کار تک کون ہے جو حب الوطنی اور مسلمانیت کا تمغہ سینے پہ سجائے بد عنوانی، بد دیانتی، ملاوٹ اور نقل فروشی کے دھندے میں ملوث نہیں۔ بانیِ پاکستان نے بجا فرمایا تھا بد دیانتی(کرپشن) ایک ذہنی کیفیت ہے۔ اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ منتخب حکومت جس کا وجود ہی ملکی ترقی اور عوام کی خوشحالی ہوتا ہے ان کی کارکردگی بھی اطمینان بخش نہیں رہی ہے۔ موجودہ حکومت جس کا انتخابی منشور اور نعرہ ہی کرپشن کا خاتمہ اورنیا پاکستان تھا، نہ تو کرپشن کا خاتمہ ہوا ہے نہ ہی سابقہ پاکستان سے نئے پاکستان میں کوئی فرق نظر آتا ہے۔
وزیرِاعظم کے رفیقِ خاص ’نے فرانزک رپورٹ‘ کے آنے سے پہلے ہی لندن میں جا ڈیرے جما لئے ہیں جہاں وزیرِ اعظم کی ہمشیرہ جنہوں نے اپنی جائیداد اور وسائل بارے نیب سے مک مکا کیا،مقیم ہیں۔ خود وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے بارے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے نرمی سے فرمایا تھا کہ اس مکان کو عمران خان ریگولرائز کروائیں۔انہی چیف جسٹس کے احکامات اس ملک کے شہریوں کے لئے نرمی سے نہیں تحکمانہ اور آمرانہ تھے جن کے تحت دہائیوں سے مقیم شہریوں کی رہائش گاہیں منہدم کی گئیں، کاروبار تباہ کئے گئے۔ بجا طور پر یہ مملکتِ خدا داد ہے۔