عیدالاضحیٰ پر احتیاط نہ کی تو وبا کی شدت واپس آجائے گی: وزیر اعظم

  • جمعرات 09 / جولائی / 2020
  • 5480

وزیراعظم عمران خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ عیدالضحیٰ سادگی سے منائیں اور عیدالفطر کی طرح لا پرواہی سے کام نہ لیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہم نے  لاپرواہی کی تو خطرہ ہے کہ وائرس ایک مرتبہ پھر یک دم پھیل جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے نیشنل ڈزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے وبائی امراض کے لیے بنائے گئے خصوصی آئیسولیشن ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر بات کرتے ہوئے احتیاط جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی طور پر مضبوط ارادہ ہو تو مشکل کام کئے جاسکتے ہیں۔ قوم کے نام  خاص پیغام میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عیدالاضحیٰ آنے والی ہے میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ عیدالفطر پر کی جانے والی غلطی نہ دہرائیں۔ پچھلی عید پر ہم نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اس بات کا خیال نہیں کیا گیا کہ یہ وائرس ایک جگہ لوگوں کے جمع ہونے سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چونکہ ہم نے لاپرواہی کی اس لیے عید کے موقع پر بہت تیزی سے وائرس پھیلا نتیجتاً میں ہمارے ہسپتالوں اور فرنٹ لائن ورکرز پر دباؤ آیا اور بدقسمتی سے اموات میں اضافہ ہوا اور وائرس اپنے عروج پر پہنچا۔

انہوں نے کہا ہمیں بھی یہ امید نہیں تھی کہ وائرس کے کیسز میں اتنی جلدی کمی آئے گی کیوں کہ ہم سمجھتے تھے کہ جولائی کے آخر میں وبا کا عروج ہوگا لیکن اللہ کے کرم اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے دی گئی ہدایات پر صوبوں نے تعاون کیا اور سب نے مل کر کام کیا جس کی وجہ اس وقت پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں انفیکشن کم ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عیدِ قربان کے حوالے سے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) تشکیل دیے ہیں۔ ساری قوم سے اپیل ہے کہ اپنے لیے، ملک کے لیے، ہمارے بزرگوں اور زندگیاں بچانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ سادگی سے عید منائیں۔ اس وقت احتیاط کرنا بہت ضروری ہے اور احتیاط کی گئی تو ہم بہت بہتر طریقے سے اس مشکل وقت سے نکل آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عید کے بعد اسمارٹ لاک ڈاؤن اور دیگر اقدامات سے کورونا کیسز کی تعداد میں کمی ہوئی۔

خیال رہے کہ ملک میں مئی کے دوران عید کے موقع پر لاک ڈاؤن میں خاصی حد تک نرمی کردی گئی تھی جس کے نتیجے میں وبا کے لحاظ سے جون کا مہینہ ملک کے لیے بہت مشکل ثابت ہوا اور صرف ایک ماہ کے دوران وائرس کے کیسز میں ڈیڑھ لاکھ کا اضافہ ہوا۔

پاکستان میں حالیہ چند روز سے کورونا کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ حکومت اسے بہترین حکمتِ عملی کا نتیجہ قرار دے رہی ہے جب کہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ٹیسٹوں کی تعداد کم ہونے سے کیسز کم رپورٹ ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں بدھ تک مصدقہ کیسز کی تعداد دو لاکھ 37 ہزار 489 جبکہ اموات 4 ہزار 922 تک پہنچ چکی ہیں۔ وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد وائرس سے متاثرہ مریضوں سے بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں کورونا وبا عروج پر ہے اور اگر احتیاط نہ کی گئی تو چین کی طرح دوسری لہر بھی آ سکتی ہے۔

ٹیسٹس کی تعداد میں کمی کے بارے میں پاکستان میڈیکل ایسویسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر شیخ کہتے ہیں کہ ٹیسٹ موجودہ استعداد سے کم ہورہے ہیں جس کی وجہ سے کم کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ بدھ کے اعداد و شمار کے مطابق 21 ہزار ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے چار ہزار کے قریب مثبت آئے ہیں۔ اُن کے بقول ہمارا شروع سے مطالبہ تھا کہ ٹیسٹ کی استعداد کار کو ایک لاکھ تک بڑھایا جائے اور ہر صوبے میں 20 سے 25 ہزار ٹیسٹ روزانہ کیے جائیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ہمیں معلوم نہیں ہو گا کہ ہمارے پاس کتنے کورونا مثبت کیسز آرہے ہیں اس وقت تک ہم حکمت عملی مرتب نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر قیصر کہتے ہیں کہ عیدالاضحیٰ آ رہی ہے 14 اگست، محرم اور ربیع الاول سمیت دیگر اہم تہوار آ رہے ہیں۔ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ وبا ختم ہو رہی ہے لیکن سائنس کہہ رہی ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

یورپ اور امریکہ میں کیسز ختم ہورہے تھے لیکن وہاں نرمی ہونے سے کیسز کی تعدا د میں اضافہ ہوا۔ اگر ہمارے ہاں ایسا ہوا تو ہمارا میڈیکل نظام اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکے گا۔