کراچی میں کل سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی: اسد عمر

  • ہفتہ 11 / جولائی / 2020
  • 5190

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ کراچی میں اتوار سے غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بن قاسم میں ایک سے زیادہ ایندھن سے چلنے والے کے-الیکٹرک کے کچھ یونٹس فرنس آئل سے چلائے جائیں گے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے فرنس آئل کی سپلائی کو بڑھادیا ہے ان کے پاس اس وقت پہلے سے زیادہ فرنس آئل آرہا ہے اور اس سپلائی میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔ اسد عمر نے کہا کہ میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ان فیصلوں سے کہیں یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے کہ پیٹرولیم ڈویژن کی غلطی تھی تو ایسا نہیں ہے۔ اس سیکٹر کا ریگولیٹر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ہے اور گزشتہ روز نیپرا نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے عوامی سماعت بھی مکمل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیپرا نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ میں کس کی غلطی سے اضافہ ہوا اس حوالے سے علیحدہ فیصلہ جاری کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ آج ہمارا مقصد صرف یہ تھا کہ کراچی میں غیر معمولی اور اعلانیہ کے علاوہ جو غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اسے فی الفور کیسے ختم کرایا جاسکتا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے کے-الیکٹرک کو گیس سپلائی میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور فرنس آئل کی سپلائی میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

ان دونوں اقدامات کے بعد کل سے کراچی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔ کراچی کی تین چوتھائی آبادی پر مشتمل علاقے ہیں جہاں پہلے اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی تھی ان علاقوں میں اب وہی صورتحال بحال کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے ایک طرف پاکستان میں بجلی کی پیداوار کے اضافے کے لیے اربوں ڈالرز کے کنٹریکٹس پر دستخط کیے جارہے تھے لیکن یہ فیصلے نہیں کیے گئے کہ اس بجلی سے باقی پاکستان کی طرح کراچی کیسے مستفید ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 2021 کی گرمیوں سے پہلے کراچی کو 550 میگاواٹ اضافی بجلی مہیا کی جائے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ اگلے سال کی گرمیوں سے قبل کراچی میں بجلی کی فراہمی میں 18 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ اس سے اگلے سال یعنی 2022 کی گرمیوں سے پہلے کراچی کو بجلی کی سپلائی میں مزید 800 میگاواٹ اضافہ کیا جائے گا۔ اس طرح مجموعی طور پر کراچی میں بجلی کی فراہمی میں 1350 میگاواٹ کا اضافہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ان میں سے 90 فیصد اضافے کے فیصلے ہوچکے ہیں۔ کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی اور کابینہ کی جانب سے منظوری بھی دی جاچکی ہے۔ 2023 کی گرمیوں سے پہلے کراچی میں بجلی کی فراہمی میں مزید 800 میگاواٹ کا اضافہ کیا جائے گا یعنی 2023 کی گرمیوں سے پہلے مجموعی طور پر 2150 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا جو کراچی کو اس وقت فراہم کی جانے والی بجلی کے مقابلے میں 70 گنا اضافہ ہوگا۔

اسد عمر نے کہا کہ یہ تمام فیصلے اس سوچ کے ساتھ کیے گئے کہ کے-الیکٹرک ایک نجی ادارہ ضرور ہے اور کراچی کے بجلی کے نظام میں پچھلی حکومتوں میں نجکاری ضرور کی ہے لیکن کراچی الیکٹرک کی نجکاری کی گئی ہے کراچی کی نجکاری نہیں ہوئی۔ اس حوالے سے مزید پیشرفت سے عوام کو آگاہ کیا جاتا رہے گا۔

اسد عمر نے کہا کہ کے-الیکٹرک کے منیجنگ ڈائریکٹر یہاں موجود ہیں اور آج کے اجلاس میں گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور میں نے یہ پیغام دیا ہے کہ کراچی کے عوام کے مسائل کے حل میں بھرپور مدد کی جائے گی لیکن اگر اس تمام مدد کے باوجود اگر عوام کے بجلی کے مسائل حل نہیں کرپائے تو ہم دوسری طرف نہیں دیکھیں گے اور قانون کی پوری طاقت استعمال کریں گے تاکہ کراچی کے عوام کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔