مظلوم ترین جے آئی ٹی رپورٹ

  • تحریر
  • ہفتہ 11 / جولائی / 2020
  • 4700

تھا جن کا انتظار وہ  جے آئی ٹی رپورٹس پبلک ہو گئیں، ایک ہی ہفتے میں تین رپورٹس:  سانحہ بلدیہ فیکٹری رپورٹ،  نثار مورائی رپورٹ اور عذیر بلوچ  رپورٹ۔ جنہیں اس سے اگلے مرحلے کا انتظار تھا کہ ان رپورٹس  سے  سامنے آنے والے حقائق پر  ملک کا  سیاسی، انتظامی اور عدالتی نظام  حرکت میں آئے گا،  بظاہر لگتا ہے کہ  ان کا انتظار  اب بھی  انتظار کی سولی پر ہی لٹکا رہے گا۔

ان رپورٹس کے آنے کے بعد شاید ہی کسی ملزم کو  کوئی پریشانی ہوئی ہو، اس لئے کہ ان رپورٹس  میں براہ راست یا بالواسطہ شامل سیاسی کرداروں کے ناموں پر باہمی الزام تراشی کا  وہ ہنگامہ شروع ہوا  ہے کہ خدا کی پناہ۔  میڈیا  اور ناظرین بھی مہینوں سے کرونا  کرونا سن اور دیکھ کر اکتائے ہوئے تھے، ایسے میں شدید گرمی اور حبس کے موسم میں جب   روزانہ سرِ شام ایسے  رسیلے سیاسی  پروگرام دیکھنے کو مل جائیں تو کم از کم  دن بھر کی کوفت کچھ دیر کے لئے  بھول جاتی ہے۔ رپورٹس  پر سیاست کے جنون  کی موجودگی میں  اب ملزمان کو پریشانی کیا  ضرورت ہے!

ان تین رپورٹس میں میڈیا   کی توجہ زیادہ تر عذیر بلوچ رپورٹ  پر ہی رہی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ اس میں بڑے بڑے سیاسی کرداروں کے نام  شامل تھے۔ اتفاق سے ان کرداروں  کی صف بندی کچھ یوں ہے کہ  نمایاں کردار وں کی سیاسی وابستگی اس وقت صوبائی حکومت  سے  متعلق ہے اور ان کے مخالفین  وفاقی حکومت میں صف آرا ہیں۔  عذیر بلوچ کی رپورٹ وارداتوں کی الف لیلہ ہے لیکن اس رپورٹ کے ساتھ یہ واردات ہو گئی کہ یہ رپورٹ  خود ہی نقب زدہ ہو گئی ہے۔  سندھ حکومت نے اپنے تئیں رپورٹ پبلک کرکے نیکی کر دریا میں  ڈال دی تھی لیکن وفاقی  وزیر علی زیدی  کو  کسی  نیک بخت نے اسی نیکی کی ایک اور  کاپی فراہم کرکے اسے دریا بردگی  سے بچانے کا موقع دے دیا۔

وفاقی وزیر  مصر ہیں کہ صوبائی حکومت  نے  ہوشیار تاجر کی طرح جو مال اچھا ہے وہ الگ باندھ کے رکھ لیا اور باقی چالو مال آگے چلا دیا۔ عام دنوں میں  شاید یہ ہوشیاری چل بھی جاتی مگر علی زیدی  ٌ میں ہوں ناں ٌ کا نعرہ لگا کر اس الگ باندھے مال کی گرہیں کھول کر  میڈیا کے سامنے بیٹھ گئے۔  اُس پر دستخط چار کے ہیں  اِس پر چھ کے ہیں،اُس کے  صفحات  پینتیس ہیں اس کے  تینتالیس۔ ان غائب صفحات ہی میں تو وہ کارنامے چھپے  ہیں جن کی وجہ سے پی پی پی کی قیادت کے پسینے چھوٹ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ 

نثار مورائی  پر جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کرپشن اور سیاسی سرپرستی کے تال میل کی  ہوشربا داستانیں ہیں۔ کم و بیش وہی سیاسی کردار مذکور ہیں جن کا   بار بار حوالہ عذ یر رپورٹ میں  موجود ہے۔  مارا ماری اور جرائم کی  جو سنسنی  خیزی  عذیر رپورٹ میں ہے وہ نثار مورائی رپورٹ میں نہیں ہے۔  نثار مورائی کی رپورٹ اب   مزید حاشیہ آرائی کے ہی کام  آ رہی ہے وگرنہ سیاسی  دنگل کے لئے عزیر بلوچ رپورٹ  نے ہی پنڈال گرما رکھا ہے۔

سانحہ بلدیہ رپورٹ میں بھی سیاسی  کرداروں کا ذکر ہے مگر ان  سرپرستانہ کرداروں  میں سے  کچھ سیاسی کاٹھ کباڑ کی نذ ر ہو چکے اور کچھ اپنے دامن کو بچا کر نئے نام  سے دوکان چلا رہے ہیں،  اور اپنی دوکان پر انہوں نے جلی حروف میں لکھوا  چھوڑا ہے کہ  ان کا کوئی تعلق ملتے جلتے نام  اور اس  کے ماضی سے نہیں ہے۔   اسی لئے  پریس کانفرنس  میں عامر خان نے  اس رپورٹ میں بھتہ خوری کے پس پردہ ناموں سے تعلق کے  حوالے سے  ٹکا سا جواب دے دیا کہ جن کے نام اس رپورٹ میں نامزد ہیں، انہی سے پو چھئے، ہمارا  ان سے کیا لینا دینا۔ اب اتفاق سے  نئے نام کی دوکان  وفاقی بازارِ حکومت میں بھی  ساجھے دار ہے، شاید  اسی لئے علی زیدی اور مراد سعید  کی توجہ اس رپورٹ کے نصیب میں  نہ تھی، سو اسمبلی اور اسمبلی سے باہر  بجلیاں  صرف عزیر بلوچ کی رپورٹ سے ہی کوندتی رہیں۔

بلدیہ فیکٹری رپورٹ 2012 میں ہوئی اس خوفناک اور بھیانک آتشزدگی  پر مبنی ہے جس میں 259 لوگ زندہ جل مرے اور پچاس کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔  اس وقت کا سیاسی منظر نامہ سب  کے حافظے میں تاز ہ ہے،  کون کہاں تھا  اور کس  کا حلیف تھا۔  آج اس  طاقت  اور سیاسی حلیفوں کی  صف بندی تبدیل ہو چکی، شاید اسی لئے اس رپورٹ میں منکشف انسانی المیہ اور  اس وقت کی سیاسی  و انتظامی طاقت کا  مہیب  سایہ  آج  آسانی سے نظر انداز  ہو رہے ہیں۔

جے آئی ٹی  تحقیقات کا  حاصل کچھ یوں ہے: بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی  دہشت گردی کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا نہ کہ ایک  حادثہ،   یہ سب کچھ  بیس کروڑ روپے کا  بھتہ  اور  فیکٹری میں ساجھے داری  سے انکار کے نتیجے میں کیا گیا۔ واقعے کی پولیس رپورٹ اور تحقیقات ایک کلاسیک مثال ہے کہ کس طرح  سیاسی  اور انتظامی طور پر اسے متاثر کیا گیا۔  ا یف آئی آر کا اندراج اور بعد ازاں تحقیقات پر اندرونی اور  بیرونی دباؤ  کی سبب سیدھے سیدھے قتل کو حادثہ قرار دے دیا گیا۔ اصل وجہ بھتہ اور فیکٹری میں ساجھے داری کا ذکر تک نہ کیا گیا۔ جے آئی ٹی رپورٹ  نے  سفارش کی کہ  ملزمان پر دہشت گردی  کی دفعات کے تحت مقدمات چلائے جائیں، ان کے پاسپورٹس  منسوخ اور ان  کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں۔ لطیف آباد حیدر آباد میں اس بھتہ خوری سے خریدا گیا ایک ہزار کا بنگلہ  متاثرہ فیکٹری مالکان کو واپس کیا جائے۔   سفارشات  میں تو  یہ بھی  شامل ہے کہ آتش زدگی کے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے سیفٹی اور  سیکیورٹی کا موجودہ نظام فرسودہ  اور ناکافی ہے۔ فائر ایند سیفٹی کے ادارے  ایسے  واقعات کے لئے تیار ہی نہیں۔۔۔

ان مندرجات کو پڑھ کر ہمیں اندازہ ہوا  کہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ مظلوم ترین ہے کیونکہ اس میں  سیاسی سنسنی خیزی اور دشنام طرازی کا سامان ہی میسر نہیں۔  ٹھیک ہے 259  لوگ جل مرے مگر آج اس پر  پروگرام کرکے ریٹنگ کہاں سے  آئے گی۔ اس رپورٹ میں دئے گئے   سیاسی سرپرستوں کا نام تو اب متروک ہو چکا، جو بظاہر سامنے ہیں وہ   اظہار بریت بھی کر چکے اور اب  اقتدار کی میز پر بھی براجمان ہیں۔  اب کون ایسی  رپورٹ کی خاطر جان ہلکان کرے اور حلیفوں کو بد مزہ کرے۔ سو، عزیر بلوچ رپورٹ ہی  سب کے کام کی ہے اور خوب کام آرہی ہے۔