کرونا وائرس، مقامی حکومتیں اور طرز حکمرانی کے مسائل
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 12 / جولائی / 2020
- 4980
ہمارے جیسے معاشروں میں اچھی اور شفاف طرز حکمرانی ایک بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ ہمارے بیشتر مسائل کا براہ راست تعلق حکمرانی کے نظام سے جڑا ہؤا ہے۔ وفاقی، صوبائی اور ضلعی یا مقامی حکمرانی کے نظام میں جو پیچیدہ یا سنجیدہ نوعیت کے مسائل ہمیں درپیش ہیں اس کا علاج تلاش کرنے کے لیے ریاستی و حکومتی سطح پر ہمیں کئی کمزوری کے پہلو نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔
اگرچہ سیاسی جماعتیں 18ویں ترمیم کی اہمیت، افادیت اور اس کے جواز کو بہت نمایاں طور پر پیش کرتی ہیں۔ لیکن اس بنیادی نکتہ کو ہماری قیادت بھول جاتی ہے کہ 18ویں ترمیم کی اصل روح مرکزیت کے نظام کو ختم کرکے عدم مرکزیت کا نظام قائم کرناہے۔ یعنی ہمیں زیادہ سے زیادہ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرکے نظام کو زیادہ موثر اور شفاف بنانا ہوگا جو یقینی طور پر مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔
1973کا آرٹیکل 140-Aپورے نظام کو پابند کرتا ہے کہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتی نظام کو یقینی بنائیں اور اسی آئین کے تحت ان مقامی حکومتوں کے منتخب عوامی نمائندوں کو سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات دیے جائیں۔لیکن ہماری سیاسی اور جمہوری قوتیں مقامی نظام کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک کے سیاسی اور جمہوری نظام میں مقامی حکومتوں کی تشکیل ریاستی و حکومتی ترجیحات کا کبھی بھی حصہ نہیں رہی۔آج بھی پنجاب، خیبر پختونخواہ، بلوچستان میں مقامی حکومتوں کا نظام موجود نہیں اور وہاں کے لوگ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے اس نظام سے محروم ہیں۔ سندھ میں بھی اس نظام کے تحت اب نئے انتخابات اگست کے بعد ہونے ہیں۔چاروں صوبائی حکومتیں عملی طور پر صوبائی مرکزیت کی شکار ہیں اور اپنے بعد ضلعی، تحصیل یا یونین یا ولیج کونسل کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں۔
پاکستان کو بھی کرونا جیسی وبا کا سامنا ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے لاتعداد حکمت عملیاں ترتیب دی۔لیکن کرونا کے بحران سے نمٹنے میں ہمیں جس بحران کا بڑا سامنا کرنا پڑا وہ ملک میں مقامی حکومتوں کے نظام کے فقدان کا ہے۔یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ کرونا کے بحران نے ہماری حکمرانی کے نظام کو بری طرح بے نقاب کیا ا ور لوگوں کو اندازہ ہوا کہ مقامی سطح پر حکمرانی کے تناظر میں ہمارے پاس کوئی موثر اور شفاف نظام موجود نہیں جو سنگین صورتحال مین ہمارے کام آسکے۔ بالخصوص صحت کا شعبہ اورجس انداز میں ہمیں کرونا متاثرین کی مدد کرنا تھی جس میں راشن فراہمی، لوگوں میں کرونا وبا کے بارے میں سماجی شعور کی آگاہی، سماجی دوری کو پیدا کرنا، ہجوم سے گریز کرنا او رکیسے اس وبا سے بچنے کے لیے اختیار کی جانے والی حفظاتی اقدامات میں ہمیں لاتعداد مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
حال ہی میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام)یو این ڈی پی(نے کرونا کے بحران سے نمٹنے او رمقامی حکومتوں کے نظام سے استفادہ حاصل کرنے والے ممالک کے بارے میں اپنا تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان کے بقول بیشترممالک نے کرونا سے نمٹنے میں مقامی حکومتوں کے نظام کو ایک بڑے مربوط انداز میں استعمال کیا اور بہتر نتائج حاصل کیے۔لیکن اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان مقامی حکومتوں کے نظام کو کرونا سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی ہے۔ بنیادی طو رپر اس رپورٹ میں ریاست و حکومت کا شہریوں کے ساتھ فاصلے کو دیکھا گیا ہے۔یو این ڈی پی نے اپنے پہلے کووڈ19کی بنیاد پر
Social Economic Impact Assesment and Response Plan
میں کہا ہے کہ پاکستان میں ریاست او رمعاشرہ کے درمیا ن رابطہ کمزور ہوگیا ہے او راس سے ملک میں پس ماندگی، شہریوں کے تحفظات، تنازعات اور معاشرتی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔کرونا کی وبا سے نمٹنے کے جو بہتر نتائج درکار تھے اس میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مقامی نظام حکومت کے حوالے سے چار پہلو اہمیت رکھتے ہیں۔ اول مقامی حکومتیں سیاسی رابطوں کی مدد سے مقامی لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑتی ہیں اور مقامی لوگوں کو مستحکم کرنے کے لیے ان کی تمام امور میں شمولیت کو یقینی بناتی ہیں۔یہ عمل اچھی طرز حکومت اور قانون کی حکمرانی سمیت عام آدمی کے مسائل کا حل ثابت ہوتی ہیں اور ریاست و شہریوں کے تعلقا ت کو مضبوط بناتی ہیں۔ دوئم مقامی نظام حکومت عمومی طور پر ناگہانی آفات، وبا یا حادثات میں سب سے موثر حکمرانی کا ہتھیار ہے اور یہ اپنی مضبوط نگرانی، لوگوں کی اس نظام پر رسائی، اعتماد کا بھروسہ، عوامی نمائندوں تک باآسانی رسائی،صوبائی حکومت او راداروں سے موثر رابطہ سازی،وسائل کا موثر استعمال کرسکتی ہیں۔ سوئم مقامی نظام وفاق اور صوبوں کے درمیان شہریوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی میں پل کا کردار ادا کرتا ہے اور شہریوں اور بالخصوص کمزور طبقات میں حکمرانی کے نظا م کے بارے میں انتہا پسندی، غصہ، نفرت جیسے امور کو پیدا کرنے کی بجائے ان میں تعاون کے امکانات کوپیدا کرتا ہے۔ چہارم یہ نظام عملی طور پر وسائل کی منصفانہ تقسیم، شفافیت، نگرانی، جوابدہی اور مقامی ترجیحات کا تعین،مربوط منصوبہ بندی سمیت سیاسی و جمہوری نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ عمومی طو رپر مقامی نظام حکومت جمہوریت کی بنیادی نرسریوں کا درجہ رکھتا ہے۔ اس طرح مقامی قیادت سے بڑی قیادت پیدا ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتیں مضبوط ہوتی ہیں۔
یہ سوال توجہ طلب ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارا نظام، سیاسی جماعتیں، قیادت، پارلیمنٹ اور اہل دانش سب ہی مقامی حکومتوں کے نظام کے بارے میں عملی سنجیدہ رویہ نہیں رکھتے ۔ محض لفاظی کرنا، بڑے بڑے سیاسی نعرے یا دعوے کرنے سے زیاد ہ لوگوں کو سیاسی نظام اور قیادت سے عملی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہم اپنے اس موجودہ سیاسی وجمہوری نظام سے مستفید ہونے کی بجائے مسلسل بگاڑ کا شکار ہیں۔پاکستان میں مختلف تھنک ٹینک موجود ہیں جو مقامی حکومت کو موثر بنانے کی بڑی بحث کا حصہ ہیں۔ لوکل گورنمنٹ ایسوسی ایشن، سول سوسائٹی فورم براے مقامی طرز حکمرانی، سنگت ڈولیپمنٹ فاونڈیشن کی سطح پر قائم ”لوکل گورنمنٹ ریسورس سنٹراسی طرح سے
Women in Struggle for Empowerment (WISE)
کے تحت ویمن کونسلرز کاکس جیسے نیٹ ورک کئی برسوں سے ملک میں مقامی حکومتوں کی حکمرانی کے نظام کو موثر بنانے کے حوالے سے جدوجہد کررہے ہیں۔لیکن ان نیٹ ورکس کو بھی ایک نئی جہت کے ساتھ اپنے کام کو آگے بڑھانا ہوگا۔
ہماری ریاست او رحکمران طبقات کو دنیا کے تجربات سے ضرور سیکھنا چاہیے کہ انہوں نے کیسے اپنے حکمرانی کے نظام کو موثر، شفاف اور عوامی توقعات کے مطابق بنایا ہے۔ کیونکہ اب دنیا حکمرانی کے نظام میں زیادہ سے زیادہ اختیارات کی سیاسی، انتظامی او رمالی تقسیم پر زور دے رہی ہے او راس کا نکتہ مربوط مقامی نظام حکومت ہے۔ہمیں کرونا بحران سے سبق سیکھنا ہوگا کہ اگر ہم مستقبل میں اس طرز کے بحران سے بچنا چاہتے ہیں تو ہماری ترجیحات میں مقامی نظام حکومت کی مضبوطی ایجنڈے کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔
اس وقت ہماری ترجیحات تین نکتوں پر ہونی چاہئیں۔ اول فوری طو رپر ملک میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کو یقینی بنایا جائے او راس کے لیے انتخابات کا فوری اعلان کیا جائے۔ دوئم اس نظام میں ان اداروں کو مکمل طور پر سیاسی، انتظامی اور مالی خود مختاری دی جائے۔ سوئم اس نظام کی مدد سے مقامی اداروں کی اصلاح کی جائے اور زیادہ سے زیاد ہ وسائل ان اداروں کی مدد سے استعمال کیے جائیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی موثر حکمرانی کے نظام میں موجود رکاوٹوں کو دور کریں او راپنے سیاسی نظام کو عوامی ترجیحات، خواہشات اور ضرورت کے تحت قائم کرنا ہماری ضرورت بھی ہے۔