قیدیوں کی رہائی میں تاخیر سے مذاکرات متاثر ہوں گے: افغان طالبان

  • سوموار 13 / جولائی / 2020
  • 5100

افغان طالبان نے خبردار کیا ہے کہ قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کا عمل بین الافغان مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتا ہے جو کسی کے مفاد میں نہیں ہو گا۔

طالبان کے دوحہ ميں قائم سياسی دفتر کے ترجمان سہيل شاہين نے وائس آف امریکہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت کو قیدیوں کی جو فہرست فراہم کی ہے اُن میں تمام قیدی سیاسی ہیں۔ اُن کے بقول امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے دوحہ معاہدے کے تحت تمام قیدیوں کو رہا ہونا چاہیے۔ انہوں نے افغان حکومت کی جانب سے طالبان قیدیوں پر عائد کردہ الزمات کی بھی سختی سے تردید کی۔

سہیل شاہین نے کہا کہ قیدیوں پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات حربہ ہیں جو امن کی راہ میں رکاوٹ تو ضرور بن سکتے ہیں لیکن یہ حل نہیں ہے۔ اُن کے بقول تمام قیدیوں کی رہائی کے بعد امن مذاکرات کا پہلا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع ہے۔

دوسری جانب افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان حقیقی قیدیوں کی رہائی کے بجائے مبینہ طور پر ان افراد کی رہائی پر بضد ہیں جو منشیات فروشی، غیر ملکی افراد، انسانی اور خواتین کے حقوق کی پامالی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ طالبان کو قیدیوں سے متعلق نئی پیش کش کی ہے۔ اس ضمن میں 592 قیدیوں کی رہائی پر غور کر رہے ہیں۔

ترجمان نے طالبان کو کی جانے والی پیش کش کی مزید وضاحت نہیں کی۔  جاوید فیصل کے مطابق طالبان کو قیدیوں کی نئی فہرست فراہم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ياد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درميان رواں برس فروری میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار قيدی رہا کرنا ہيں جب کہ طالبان بھی افغان حکومت کے 1000 قيديوں کو رہا کرنے کے پابند ہیں۔ ليکن اب تک افغان حکومت نے طالبان کے 4000 سے زائد جب کہ طالبان نے اپنی حراست میں موجود افغان حکومت کے 700 سے زائد قيدی رہا کیے ہيں۔

افغان حکام نے طالبان کی جانب سے فراہم کردہ فہرست میں سے 600 قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے قبل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی معاملات کو حل کرنے کے لیے دوحہ امن معاہدے پر عمل درآمد پر زور دیا تھا۔

اتور کو  ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی مذاکرات سے قبل جنگ بندی کی بات کرتا ہے تو یہ غیر منطقی عمل ہے۔ موجودہ حالات میں اُن کے پاس جنگ جاری رکھنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔