یومِ شہدا پر مقبوضہ کشمیر میں کوئی سرکاری تقریب، عوامی اجتماع نہیں ہوا
- سوموار 13 / جولائی / 2020
- 5710
مقبوضہ کشمیر میں 1947 کے بعد پہلی مرتبہ یومِ شہدائے کشمیر پر حکومت نے کوئی سرکاری تقریب منقعد نہیں کی۔ کسی سرکاری عہدیدار نے بھی سرینگر کے خواجہ بازار میں واقع شہدا کے مزار پر حاضری بھی نہیں دی۔
شہدا کے مزار پر عام لوگ بھی فاتحہ خوانہ نہیں کر سکے۔ روایت کے مطابق شہدا کی قبروں پر کسی نے گُل پاشی بھی نہیں کی گئی۔ کیوں کہ شہر کے بیشتر علاقوں میں کورونا وائرس کے کیسز میں حالیہ دنوں میں غیر معمولی اضافے کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن دوبارہ نافذ کیا گیا ہے۔ شہدا کے مزار تک جانے والے تمام راستوں کو خار دار تاروں اور آہنی باڑ کے ذریعے بند کر دیا گیا تھا۔
مزار کے کمپلیکس، جہاں سلسلہ نقشبندیہ سے تعلق رکھنے والے ایک صوفی بزرگ کی درگاہ، خانقاہ اور مسجد ہیں، کے مرکزی گیٹ اور عقبی دروازوں کو مقفل کر دیا گیا تھا۔ پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی انتظامیہ نے اس سال جنوری میں ایک متنازع فیصلے کے تحت شہدا کی یاد میں 13 جولائی کو منائی جانے والی سرکاری تعطیل ختم کردی تھی۔ اس کی بجائے 26 اکتوبر کو 'یومِ الحاق' پر سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ 26 اکتوبر 1947 کو ریاست کے حکمران ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ مشروط الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔
نئی دہلی نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی آئینی خود مختاری کو ختم اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے براہِ راست وفاق کے زیر کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔ اس کے چھ ماہ بعد یومِ شہدا پر سرکاری تعطیل ختم کرنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔ بھارت کی مرکزی حکومت نے گزشتہ 11 ماہ کے دوران کئی اور متنازع اقدامات کیے ہیں جن میں سب سے دور رس نتائج کا حامل یونین ٹریٹری آف جموں اینڈ کشمیر کے لیے نیا قانونِ اقامت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نئے ڈومیسائل لا کے تحت حالیہ ہفتوں میں جن ہزاروں لوگوں کو شہریت کی سند جاری کی گئی ہے، ان میں بڑی تعداد غیر مقامی افراد کی ہے۔ ناقدین اسے مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی دانستہ کوشش قرار دے رہے ہیں۔
13 جولائی 1931 کو مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج نے سرینگر کی مرکزی جیل کے باہر نہتے کشمیریوں پر گولیاں چلائی تھیں جس کے نتیجے میں 22 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ جیل کے باہر یہ لوگ ایک غیر مقامی شخص عبد القدیر خان پر بغاوت کے الزام میں چلائے گئے مقدمے کے سلسلے میں جمع تھے۔
عبدالقدیر کشمیر کی سیاحت پر آئے ہوئے ایک برطانوی شہری کے باورچی تھے۔ انہوں نے شہر کی خانقاہِ معلیٰ میں جمعے کے اجتماع سے خطاب میں کشمیری مسلمانوں کو مہاراجہ کی حکومت کے ظلم و جبر کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کے لیے کہا تھا۔ اور مہاراجہ کے محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی ہر اینٹ اکھاڑ کر اسے زمین بوس کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ حکومت نے عبد القدیر کو گرفتار کرکے اُن پر غداری کے الزام میں مقدمہ چلایا تھا۔
سرینگر کی مرکزی جیل کے باہر پیش آنے والے واقعے کے پس منظر میں 13 جولائی کو یومِ شہدا منایا جاتا ہے جب کہ اس دن کشمیر کے دونوں حصوں میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان میں کشمیری اس دن کو بڑے احترام سے مناتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں حکومت کی طرف سے 13 جولائی کی چھٹی کو منسوخ کرنے پر کشمیریوں نے شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی دانستہ کوشش قرار دیا تھا۔
ناقدین کے مطابق یہ اقدام قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کشمیری مسلمانوں کی نفسیات پر وار کرنے کی ایک کڑی ہے۔ تاہم بی جے پی اور اس کی ہم خیال سیاسی جماعتوں کا استدلال ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ جموں و کشمیر کا جائز حکمران تھا جسے قبولِ عام حاصل تھا اور اُس کے خلاف مسلمانوں کی بغاوت مذہبی اور علاقائی عصبیت پر مبنی تھی۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک رہنما اور سابق وزیر سید نعیم اختر اندرابی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سرکاری کلینڈر کو تبدیل کرنے سے 13 جولائی 1931 کے جیالوں کے لیے عزت و احترام میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ ان کے بقول آزادی اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے ان شہدا سے جڑی یادوں کو تازہ کرتے رہیں گے۔
کُل جماعتی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 13 جولائی1931 کو 22 کشمیریوں نے جس مقصد کے لیے اپنی جانیں قربان کی تھیں وہ ابھی پورا نہیں ہوا ہے۔ بعض دوسری آزادی پسند تنظیموں نے بھی اسی طرح کے بیانات دیے ہیں اور کہا ہے کہ 1931 کے شہداٴ کشمیر کی مکمل آزادی کے پرستار تھے ۔
جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ مشروط الحاق کی تائید کرنے والی نیشنل کانفرنس اور دوسری ہم خیال جماعتوں کا اصرار ہے کہ ان شہدا نے شخصی راج کے مظالم، مسلم دشمن پالیسیوں، انتظامیہ کی کے امتیازی سلوک اور حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کی تھی۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 13 جولائی کی تعطیل ختم کرنے اور اس دن کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کے ردِ عمل میں ماضی کے مقابلے میں اس بار پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں یومِ شہدا زیادہ جوش و خروش سے منایا گیا۔ پاکستان اور بیرون ملک کشمیریوں اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے یومِ شہدا پر منعقد کی جانے والی تقریبات اور جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کشمیریوں کو یقین دلایا کہ اُن کا ملک کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کی مکمل حمایت کرتا رہے گا۔ سوشل میڈیا پر متعدد ٹوئٹس میں عمران خان نے کہا کہ 13 جولائی 1931 کے شہدا آج کی کشمیری مزاحمت کے اسلاف و اجداد تھے۔
اُنہوں نے کہا پاکستان اور پاکستانی عوام جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی اور جابرانہ قبضے کے خلاف جاری جدوجہد پر اہل کشمیر کو سلام پیش کرتے ہیں۔ 1931 کے شہدا کی اولادوں نے نسل در نسل آزادی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں۔ آج بھی وہ ڈیموگرافک انجینئرنگ کے ذریعے کشمیریوں کو مٹانے اور ان کی شناخت ختم کرنے پر بضد نسل پرست ہندوتوا سرکار کے خلاف پوری جرات سے برسرِ پیکار ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پوری قوت سے اہلِ کشمیر کے حق خود ارادیت کی حمایت کی ہے۔ جموں و کشمیر کی غاصبانہ بھارتی تسلط سے مکمل آزادی تک اس منصفانہ جدوجہد کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ ان کے بقول آزادی کا دن اب زیادہ دور نہیں ہے۔
بھارتی حکومت نے تاحال عمران خان کے اس بیان پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔