مہنگائی اور سیاسی دنگل

خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو تبدیل نہ کر لے۔ انسان سے گھر بنتا ہے اور گھر سے ایک معاشرہ وجود میں آتا ہے۔انسان کا کردار اس کی فکر پر منحصر ہوتاہے۔انسان ایک معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔جب ایک شخص پیدا ہوتا ہے تو نہ وہ پیدائشی طور پر شریف ہوتا ہے اور نہ ہی مجرم بلکہ اس کے ایک اچھے انسان بننے اور مجرم بننے میں یہ معاشرہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

بچہ اگر ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہو جس جگہ کے افراد پڑھے لکھے، با شعور اور با اخلاق ہوں تو فطری طور پر وہ بچہ اچھے اخلاق کا مالک ہوگا۔ایک اچھا انسان بنے گا لیکن اس کے برعکس اگر ایک بچہ ایسے معاشرے میں آنکھ کھولتا ہے جس جگہ کے لوگ بے شعور، بد اخلاق اور ان پڑھ ہوں تو یہ باتیں بچے پر منفی اثرات مرتب ضرور کریں گی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر وہ معاشرہ مختلف طرح کی برائیوں میں مبتلا ہو تو یہ سب باتیں چھوٹی چھوٹی برائیوں سے برے کاموں کی طرف لے جاتی ہیں اور ایک اچھے بھلے انسان کو مجرم بنا دیتی ہیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ پر سکون ہو اور ہر طرح کی برائیوں سے پاک ہو تو ہمیں سب سے پہلے اپنے نفس کو ٹھیک کرنا ہوگا اور دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے خود اپنے آپ کو بے عیب کرنا ہوگا کیونکہ اچھا معاشرہ بہترین انسانوں سے ہی تشکیل پاتا ہے۔

شہریوں کو اپنے حقوق کیلئے ملک کے قانون سے آگاہی بہت ضروری ہے بلکہ ملک کے آئین اور قانون سے متعلقہ شائع ہونے والی کتب کا مطالعہ کر نا چاہئے۔ اس عمل سے عوامی مسائل حل کروانے میں مدد ملے گی اور ملک ترقی کرئے گا۔پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت محکمہ کے مختلف عہدے داروں میں سرکاری کام کی تقسیم کیا ہے۔ان قوانین پر کتنا عمل درآمد ہوتا تھاہوتاہے اس بات کی گواہی عوامی مسائل اور قومی سانحہ کی تحقیقاتی رپورٹس ہیں موجودہ حکو مت کے حوالے سے گیلپ سروے میں بتا یا گیا ہے کہ   پنجاب کے 46 فیصد کی رائے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی کارکردگی خراب ہے جبکہ 31 فیصد کی رائے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی کارکردگی اچھی ہے۔ سندھ کے 62فیصد کی رائے میں وزیر اعلیٰ سندھ کی کارکردگی خراب ہے جبکہ11 فیصد کی رائے میں وزیر اعلیٰ سندھ کی کارکردگی اچھی ہے۔ کے پی کے 53 فیصد کی رائے میں وزیر اعلیٰ کے پی کی کارکردگی اچھی، 26 فیصد کی رائے میں خراب ہے، بلوچستان کے 7 فیصد کی رائے میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی کارکردگی اچھی ہے۔66 فیصد پاکستانی پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں،32 فیصد پاکستانی پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں،59 فیصد پاکستانیوں کی رائے میں پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی گزشتہ حکومت سے خراب ہے،پی ٹی آئی کے 20 فیصد سپورٹرز وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں،70 فیصد مرد اور 60 فیصد خواتین وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مضبوط اور با کردار لوگ شکایتیں نہیں بلکہ فیصلے کرتے ہیں۔تحریک انصاف حکو مت برسراقتدار آنے کے بعد وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔لیکن چینی بحران، آٹا بحران، پٹرول بحران اور مہنگائی کا طوفان پیدا کرنے والے مافیا کو متعلقہ وزیر کی تبدیلی کے ساتھ عام معافی مل گئی۔اس صورتحا ل میں سینکڑوں پاکستانی دنیا فانی سے کوچ کرگئے۔ جن کے قتل کی ذمہ دارمتعلقہ ورزاء پر عائد ہوتی  ہے۔لیکن اتفاق کی بات ہے موجودہ حکومت میں شامل متعدد ورزاء اور اراکین کا تعلق اپوزیشن  لیڈروں  سے  رشتہ  داری ہے۔ ہرسانحہ کے بعدایک دوسرے کو بچانے کے لئے حکومتی اور اپوزیشن اراکین سیاسی دنگل کا انعقاد کرلیتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کہ جیسا کروگے ویسا بھروگے۔تاریخ گواہ ہے لاکھوں واقعات رونما ہوچکے ہیں۔خبر یہ ہے اب یہ سلسلے جلدختم ہونے والا ہے۔درجنوں سیاسی مافیا خاندان اس کی زد میں آنے والے ہیں۔ عوامی طوفان پاکستان کی خوبصورت وادی کو  مہنگائی اور غریبوں کے قبرستان میں تبدیل کرنے والوں کا بہہ لے جائے گا۔ یہ سلسلہ یورپ سمیت دیگر ممالک میں شروع ہو چکا ہے۔