بھارت میں دوبارہ لاک ڈاؤن، پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاؤن کامیاب
- بدھ 15 / جولائی / 2020
- 4190
پاکستان میں مزید 2165 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اور ملک میں کورونا مریضوں کی تعداد دو لاکھ 57 ہزار ہوچکی ہے جبکہ 5411 افارد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
پاکستان میں قدرتی آفات کے ادارے 'نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)' کے چیئرمین نے کہا ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے اچھے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں کورونا کے حوالے سے صورتِ حال بہتری کی طرف جا رہی ہے لیکن عید الاضحٰی پر کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہو گا۔
این ڈی ایم اے کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے لاہور میں 'کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی' کے ٹیلی میڈیسن سینٹر کا دورہ کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان بھر میں آکسیجن والے بیڈز لگانے کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں 330 بیڈز، راولپنڈی 70 اور گلگت میں 100 بیڈز لگائے جا چکے ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں 320 بیڈز، کراچی میں 500 اور کوئٹہ میں 200 بیڈز لگائے جا رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کے مطابق ان کا ہدف پاکستان بھر میں اس ماہ کے آخر تک ڈھائی ہزار بیڈز لگانا ہے۔ ملک میں اب تک آکسیجن والے 1424 بیڈز فنکشنل کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مزید 67 مریض دم توڑ گئے ہیں۔۔ پاکستان میں 2165 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور وبا کا شکار ہونے والے 2078 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
اس دوران نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے ملک میں وہا کی دوسری لہر کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 63 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ امریکہ کی بایوٹیک کمپنی 'موڈرنا' نے کورونا کی ویکسین تیار کی ہے جس کی حتمی آزمائش 27 جولائی سے کی جائے گی۔
بھارت میں کورونا کے ریکارڈ 29 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ مختلف ریاستوں میں دوبارہ لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین ایک کروڑ 32 لاکھ سے بڑھ گئے اور اموات پانچ لاکھ 79 ہزار سے زیادہ ہیں۔ بھارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جسے روکنے کے لیے کئی ریاستوں نے مختلف علاقوں میں جزوی لاک ڈاؤن اور پابندیاں دوبارہ عائد کر دی ہیں۔
بھارت میں کورونا کے کیسز نو لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔ بھارت ان ملکوں میں شامل ہو گیا ہے جو وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے دوبارہ لاک ڈاؤن اور پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ بھارت کے شہر بنگلور کی آبادی ایک کروڑ 30 لاکھ ہے۔ کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر بنگلور میں منگل سے سات روز کے لیے لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔
بنگلور میں حکام نے دفاتر میں محدود لوگوں کے ساتھ کام کرنے اور ٹرانسپورٹ بند کرنے کی ہدایت کی ہے جب کہ صرف اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت ہے۔ ریاست بہار کی آبادی 12 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہے اور یہ بھارت کی ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں غربت بہت زیادہ ہے۔ بہار میں جمعرات سے 15 دن کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اترپردیش، تامل ناڈو اور آسام میں بھی کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
بھارت میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے بعد کئی ریاستوں میں جزوی لاک ڈاؤن اور پابندیاں دوبارہ عائد کر دی گئی ہیں۔ کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر بنگلور میں بھی سات دن کے لیے لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔