جسٹس فائز عیسیٰ کو دھمکی دینے والے شخص کی معافی مسترد
- بدھ 15 / جولائی / 2020
- 5680
سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایک ویڈیو میں قتل کرنے کی ترغیب دینے والے مذہبی رہنما افتخار الدین مرزا پر فردِ جرم کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ عدالت نے ملزم کی معافی مسترد کردی ہے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو توہینِ عدالت کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ملزم افتخار الدین مرزا کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "آپ عدالت اور ججز کے ساتھ مذاق نہیں کر سکتے، اگر ایسی اجازت دی تو پھر نظام فیل ہو جائے گا۔" دورانِ سماعت ملزم نے عدالت سے معافی کی درخواست کی اور کہا کہ اپنے الفاظ پر بہت شرمندہ ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے کیس میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں، آپ کے دنیا بھر میں رابطے ہیں پھر کہتے ہیں کہ غلطی ہو گئی۔
عدالت نے مرزا افتخار کی معافی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فرد جرم کی نقل ملزم کے وکیل کے حوالے کر دی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایسی زبان تو کوئی جاہل بھی استعمال نہیں کرتا۔ پہلے آپ بیان دیتے ہیں پھر اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کرکے آپ پیسے بھی کماتے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے دورانِ سماعت کہا کہ اس معاملے پر توہینِ عدالت کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔ مرتکب توہینِ عدالت کو نوٹس جاری ہو چکے ہیں جس کا جواب بھی جمع کرایا گیا۔ سماعت کے دوران جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا بیانِ حلفی بھی عدالت میں پیش کیا گیا جو عدالت نے اٹارنی جنرل کے حوالے کر دیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بیان حلفی میں بہت سنگین نوعیت کی باتیں ہیں اور بیان حلفی میں مرزا افتخار کا کنکشن شہزاد اکبر اور وحید ڈوگر سے جوڑا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ بیان حلفی کا جائزہ لے کر جواب دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وحید ڈوگر جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف شکایت کنندہ تھا۔ کیا وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے افتخار مرزا کے کنکشنز کا کھوج لگایا ہے؟ عدلیہ کے خلاف ایسا بیان کوئی اپنے طور پر نہیں دے سکتا۔
عدالت نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے کی طرف سے صرف رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کیس میں گرفتار ہونے والے آغا افتخار الدین مرزا مذہبی شخصیت ہیں اور وہ یوٹیوب چینل چلاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فیس بک اور انسٹا گرام پر بھی ان کے اکاؤنٹس موجود ہیں۔
اُن کے آفیشل پیج پر سیکڑوں ویڈیوز موجود ہیں جن میں مذہب کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست اور دیگر موضوعات پر بنائی گئی ویڈیوز موجود ہیں۔ آغا افتخار نے اپنی ایسے ہی ایک ویڈیو میں عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مارنے کی دھمکیاں دی تھیں۔
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مرزا افتخار الدین کیس میں اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے جس کے مطابق مرزا افتخار الدین کے دو فیس بک اکاؤنٹس 'دینِ شمس' اور 'معرفت الہی' کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ مرزا افتخار الدین کے ساتھ ایک اور شخص اکبر علی کو بھی ایف آئی اے نے حراست میں لیا ہے جو ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ چلا رہا ہے۔ ملزم افتخار نے ایف آئی اے میں دوران تفتیش اپنے دیے گئے الفاظ کو تسلیم کیا لیکن سوشل میڈیا پر چلانے کے علاوہ ان الفاظ کو ریکارڈ کرنے کو کئی مقصد بتانے میں ناکام رہا۔
ایف آئی اے نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے افتخار الدین مرزا کے تمام اکاؤنٹس اور اب تک ادا کیے گئے ٹیکس کی معلومات بھی مانگی ہیں جب کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے حاصل ہونے والی آمدن کی تفصیلات بھی جمع کی جا رہی ہیں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ افتخار الدین مرزا پہلے قادیانی تھے اور ان کے مطابق اسلام قبول کر کے شیعہ مسلک سے منسلک ہوئے اور راول پنڈی میں ایک مدرسہ چلا رہے ہیں۔