دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم ہوگا: وزیراعظم

  • بدھ 15 / جولائی / 2020
  • 4660

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی تاریخ کا تیسرا بڑا ڈیم ہوگا۔ چلاس میں دیامر بھاشا ڈیم کے دورے کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جب قومیں آگے کا سوچتی ہیں تو ترقی کرتی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو مشکل فیصلے کرتی ہیں، کبھی بھی اس قوم نے بڑا کام نہیں کیا جو مشکل فیصلوں سے گھبراتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے فیصلوں کی وجہ سے ہی قومیں بڑی بنتی ہیں اور تیسری اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے لوگوں کی قدر کرتی ہیں۔ ان پر سرمایہ لگاتی ہیں، اس طبقے پر خرچ کرتی ہیں جو زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جو قوم دور اندیش ہوتی ہے وہ بڑی قوم بنتی ہے۔ چین کی ترقی کو دیکھ لیں کہ ان کے 30 سالہ منصوبے بنے ہوئے ہیں جو ان کی بہت بڑی خوبی ہے اور وہ اسی وجہ سے دنیا میں سب سے آگے نکل گئے ہیں۔ 30 سال پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چین اتنی ترقی کرے گا، چین جس تیزی سے آگے جارہا ہے اس سے دیگر قومیں خوفزدہ ہوگئی ہیں۔

 ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں قلیل المدتی فیصلے کیے گئے اور الیکشن سے پہلے مکمل ہونے والے منصوبوں پر زور دیا گیا تاکہ اگلے الیکشن میں وہ منصوبے دکھا کر ووٹ حاصل کیے جائیں۔  عمران خان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دریاؤں کی نعمت سے نوازا ہے، پاکستان وہ ملک ہے جہاں کے ٹو سے سمندر تک 12 موسم (کلائمیٹک زونز) ہیں اور دریاؤں کی رفتار سے ہم بجلی بناسکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے غلط فیصلے کیے جبکہ ہمارے پاس دریاؤں سے اتنی زیادہ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش تھی تاہم ہم اس کے بجائے درآمدی ایندھن سے بجلی پیدا کرتے ہیں جس سے ہم ڈی انڈسٹرالائزیشن کی طرف چلے گئے اور وہ ملک جو ہم سے پیچھے تھے وہ زیادہ آگے نکل گئے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم ہمارے ملک کا سب سے بڑا ڈیم ہوگا اور سمجھ لیں کہ یہ تیسرا بڑا ڈیم ہوگا۔ عمران خان نے کہا کہ چین نے 5 ہزار بڑے ڈیمز بنائے ہیں اور ان کے ڈیمز کی کُل تعداد 80 ہزار ہے جبکہ ہمارے 2 بڑے ڈیمز ہیں اور تیسرا بننے جارہا ہے اس سے اندازہ لگائیں کہ ہم نے کتنی بڑی تاریخی غلطیاں کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے 10 ارب درخت لگانے کا بھی فیصلہ کیا ہے کیونکہ مستقبل میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ کا سامنا ہوسکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جب درجہ حرارت بڑھتا جائے گا تو پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جہاں اس سے زیادہ نقصان ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم پہلے ہی مشکل وقت کا سامنا کررہے تھے اور اب کورونا وائرس شٹ ڈاؤن سے بہت زیادہ بیروزگاری ہوئی ہے تو یہ منصوبہ علاقے کے رہائشیوں کے لیے ملازمت کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا میں سیاحت آہستہ آہستہ بحال کی جارہی ہے جو کورونا وائرس سے پہلے جیسی تو نہیں ہوسکتی لیکن ایس او پیز تیار کرکے ہم سیاحت کو کھولنا شروع کرسکتے ہیں۔  اس سلسلے میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے بھی مدد فراہم کی جائے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ابھی تک ہماری ترقی چند شہروں تک محدود رہی ہے، جب تک ہم کم ترقی والے علاقوں پر خرچ نہیں کریں گے ہم پیچھے رہ جائیں گے۔ ہم نے گلگت بلتستان کا بجٹ بڑھانے پر زور دیا ہے اور حکومت، گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کررہی ہے، ضم شدہ اضلاع اور بلوچستان میں بھی خرچ کررہی ہے۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو ڈیم کی مبارک باد دی اور کہا کہ وقت بتائے گا کہ یہ ڈیم گلگت بلتستان اور خاص طور پر چلاس کے عوام کی تقدیر بدلے گا۔