بھارتی جاسوس کلبھوشن کو ایک بار پھر قونصلر رسائی دے دی گئی

  • جمعرات 16 / جولائی / 2020
  • 4660

پاکستان نے سزائے موت کے منتظر مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو تک بھارت کو قونصلر رسائی دے دی ہے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن کے دو قونصلر افسران کو رسائی فراہم کی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کلبھوشن یادیو کو دوسری مرتبہ قونصلر رسائی فراہم کی گئی اور یہ قونصلر رسائی بھارتی درخواست پر دی گئی۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق کلبھوشن کو اس سے قبل دو ستمبر 2019 کو قونصلر رسائی فراہم کی گئی تھی جب کہ 25 دسمبر 2017 کو کلبھوشن کی اُن کی والدہ اور اہلیہ سے بھی ملاقات کرائی گئی تھی۔

پاکستانی کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کلبھوشن سے بھارتی اہلکاروں کی ملاقات کے مقام کو خفیہ رکھا گیا۔ دفترِ خارجہ کے مطابق یہ ملاقات  جمعرات کی سہ پہر تین بجے کرائی گئی جس میں بھارتی ناظم الامور گورو آہلووالیا بھی شامل تھے۔

قبل ازیں بھارتی ذرائع ابلاغ نے سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی کی درخواست اور دوسری مرتبہ قونصلر رسائی دینے کی پیش کش کا پاکستان کو جواب دے دیا ہے۔  رپورٹس کے مطابق بھارت نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ اگر وہ عالمی عدالتِ انصاف کے حکم پر واقعی عمل درآمد کرنا چاہتا ہے تو کلبھوشن تک غیر مشروط سفارتی رسائی دے۔

خیال رہے کہ پاکستانی حکام نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے کلبھوش یادیو کو قونصلر رسائی دی۔ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ مئی 2020 میں آرڈیننس جاری کر کے انہیں 60 روز کے اندر سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا بھی موقع فراہم کیا۔ لیکن بھارتی جاسوس اپیل دائر کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کے اس دعوے کو غلط قرار دیا تھا۔  بھارتی حکام کا مطالبہ تھا کہ جس کمرے میں یہ ملاقات ہو وہاں ویڈیو، آڈیو ریکارڈنگ کی کوئی سہولت نہ ہو۔ پاکستان کی فوجی عدالت نے جاسوسی، دہشت گردی اور تخریب کاری کے الزامات کے تحت اپریل 2017 میں کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی۔

ہالینڈ کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے گزشتہ سال جولائی میں پاکستان کو کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی فراہم کرنے کے ساتھ پاکستان کی فوجی عدالت کی طرف سے انہیں دی گئی سزائے موت پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا۔ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو جاسوسی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت 2016 میں گرفتار کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق بھارت نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ دو بھارتی اہلکاروں کو تنہائی میں کلبھوشن سے ملنے کی اجازت دے اور اس پر اصرار نہ کرے کہ بات چیت صرف انگریزی زبان میں ہو۔ اس سے قبل پاکستان نے قونصلر رسائی دینے کی پیش کش کرتے وقت اس بات پر اصرار کیا تھا کہ ملاقات کے دوران بات چیت صرف انگریزی میں ہو گی اور اس دوران پاکستانی اہل کار بھی موجود رہیں گے۔

ایک سابق سفارت کار اور سینئر تجزیہ کار سریش گوئل نے نئی دہلی میں وائس آف امریکہ کے نمائندے سہیل انجم کو بتایا کہ بھارت یہ جاننا چاہتا ہے کہ نظر ثانی کی اپیل دائر نہ کرنے کے فیصلے میں پاکستانی دباؤ تو نہیں ہے۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ کلبھوشن پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور انہوں نے اپنی مرضی سے نظرثانی کی اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

سریش گوئل نے مزید کہا کہ اب کلبھوشن کو بچانے کا صرف قانونی راستہ بچا ہے۔ بات چیت کا راستہ ختم ہو چکا ہے۔ اگر قانونی کوشش کامیاب نہیں ہوتی ہے تو پھر پاکستان پر عالمی دباؤ ڈلوانے کا راستہ بچے گا لیکن اس پر ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ بھارت نے نو جولائی کو کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں قانونی راستہ اختیار کرے گا۔

پاکستان کا دعویٰ رہا ہے کہ کلبھوشن بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور ان کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے ہے۔ لیکن بھارت اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہہ چکا ہے کہ کلبھوشن بحریہ کے ریٹائرڈ افسر ہیں جن کا ’را‘ سے کوئی تعلق نہیں۔