بھارت کو ایک بار پھر کلبھوشن تک سفارتی رسائی کی پیش کش
- جمعہ 17 / جولائی / 2020
- 4190
پاکستان نے بھارت کو سزائے موت کے منتظر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو تک تیسری بار سفارتی رسائی دینے کی پیش کش کی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس سفارتی رسائی کے موقع پر کوئی سیکیورٹی اہل کار موجود نہیں ہو گا۔
قبل ازیں پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ بھارت کی درخواست پر دو بار دو بھارتی سفارت کاروں کی کلبھوشن یادیو سے 'بلا تعطل اور بلا رکاوٹ' ملاقات کرائی گئی تھی۔ لیکن بھارتی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سفارتی رسائی بلا تعطل اور بلامشروط نہیں تھی اور کلبھوشن یادیو بظاہر دباؤ میں تھے۔
بھارت کے مطابق یہ سفارتی رسائی عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کے مطابق نہیں تھی۔ لیکن پاکستان نے بھارت کے ان دعوؤں کو رد کرتے ہوئے جمعے کو ایک بار پھر بھارت کو کلبھوشن تک سفارتی رسائی دینے کی پیش کش کی ہے۔ بھارت کا ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم پاکستان کی طرف سے یہ پیش کش ایسے وقت کی گئی ہے جب پاکستانی فوجی عدالت کی طرف سے کلبھوشن یادیو کو سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں۔
پاکستان نے عالمی عدلتِ انصاف کے فیصلے کے تحت کلبھوشن یادیو اور بھارت کو پاکستان کی فوجی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے رواں سال 20 مئی کو ایک آرڈیننس جاری کیا تھا۔ جس کی میعاد 19 جولائی کو ختم ہورہی ہے۔ پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی طرف سے یادیو کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کرنے کے لیے قانونی معاونت کی پیش کش کے باجود یادیو اپیل دائر کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ تاہم بھارت کی طرف سے ابھی تک ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے کہ وہ مقررہ میعاد کے اندر پاکستانی عدالت میں اپیل دائر کرے گا یا نہیں۔
بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی کا کہنا ہے کہ اگر بھارت یا یادیو مقررہ میعاد کے اندر نظرثانی کی اپیل دائر نہیں کرتے تو اس کے بعد بھی قانون میں گنجائش ہے کہ وہ پاکستانی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ احمر بلال کے بقول اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت پاکستان کے لیے عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنا لازمی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت کلھبوشن اور بھارت کو نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے سہولت دی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو جاسوسی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت 2016 میں گرفتار کیا تھا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ کلھبوشن بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور ان کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے ہے۔ لیکن بھارت اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کلبھوشن بحریہ کے ریٹائرڈ افسر ہیں جن کا ’را‘ سے کوئی تعلق نہیں۔