دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد ایک کروڑ 41 لاکھ ہوگئی
- ہفتہ 18 / جولائی / 2020
- 3910
دنیا بھر میں کورونا متاثرین کی تعداد ایک کروڑ 41 لاکھ ہوگئی ہے اور 6 لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد 2 لاکھ 62 ہزار 797 ہے جبکہ اموات 5 ہزار 544 تک پہنچ چکی ہیں۔
وائرس سے متاثرین کی عالمی تعداد ایک کروڑ 41 لاکھ سے بڑھ گئی، 84 لاکھ صحت یاب، 51 لاکھ ابھی زیر علاج ہیں۔ پاکستان میں ایک لاکھ 98 ہزار 509 افراد صحتیاب بھی ہوگئے ہیں۔
18 جولائی کی صبح تک ملک میں کورونا وائرس کے 1425نئے کیسز اور 30 اموات کا اضافہ ہوا جبکہ ایک روز میں ہی ریکارڈ 14 ہزار 772 لوگ شفایاب ہوئے۔ واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو سامنے آیا تھا اور اب تک اس وائرس کو یہاں ساڑھے 4 ماہ سے زیادہ کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے۔
اس تمام وقت کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں بتدریج اضافہ ہوا تاہم اب کیسز اور اموات کی تعداد میں کمی دیکھی جارہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ ٹیسٹنگ کی تعداد میں کمی بھی ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر ملک میں کورونا وائرس کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں کورونا ٹیسٹ کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ طبی ماہرین کی جانب سے تشویش کا اظہار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومتی اداروں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی صورت حال بہتر ہورہی ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملک میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے مریضوں اور اس سے ہونے والی اموات کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ کورونا ٹیسٹ کرانے کے لیے اسپتالوں کا رخ نہیں کر رہے۔ پی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں میں کورونا وبا کی اصل صورتِ حال سامنے لانے کے لیے لیے ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اوسطاً 25 ہزار کے قریب ٹیسٹ یومیہ بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں جب کہ جون کے مہینے میں یہ شرح 30 ہزار سے اوپر بھی گئی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے حکومت پاکستان کو سفارش کی گئی تھی کہ روزانہ کی بنیاد پر 50 ہزار کورونا ٹیسٹ کیے جائیں تاکہ مریضوں کی اصل تعداد کا تعین ہو سکے۔
اسی طرح ملک میں گزشتہ ماہ یومیہ اوسطاً پانچ ہزار نئے کیسز سامنے ارہے تھے تاہم اب یہ تعداد دو ہزار کی اوسط سے بھی کم رپورٹ ہورہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اور دیگر اہم اقدامات ہیں جن کے تحت ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا ہے۔ تاہم ڈاکٹرز کی تنظیمیں ان حکومتی دعوؤں پر شک کا اظہار کرتی آئی ہیں۔
سیکرٹری جنرل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر قیصر سجاد کے مطابق پی ایم اے نے اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو بھی خط لکھ کر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ایم اے نے آنے والے دنوں میں کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے بارے میں بھی اپنے تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا ہے۔ ڈاکٹرز کی ملک گیر تنظیم کے مطابق عیدالاضحی، یوم آزادی، محرم الحرام اور پھر ربیع الاول کے مہینوں میں سماجی فاصلوں اور دیگر ایس او پیز اختیار نہ کرنے پر کورونا وائرس کا پھیلاؤ بڑھنے کےخطرات ہیں۔
انہوں نے وزیر اعظم سے سے کہا ہے کہ اس حوالے سے ملک بھر میں ایک ہی پالیسی اپنائی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی ممکن بنایا جائے تاکہ وبا کو کنٹرول کیا جا سکے۔ پی ایم اے نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ سماجی فاصلوں کو یقینی بنانے، ماسک پہننے اور دیگر ایس او پیز پر عمل کرنے کے علاوہ حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے۔