فلائنگ لائسنس: جعلی ہیں، جعلی نہیں ہیں

  • تحریر
  • ہفتہ 18 / جولائی / 2020
  • 6200

پارلیمنٹ کے بارے میں یہی  بتایا جاتا ہے کہ ملک کا موقر ترین ادارہ ہے، دنیا بھر کا یہی دستور ہے اور ہمارے ہاں بھی یہی  گمان کیا جاتا ہے۔  یہاں وزرا  اور وزیر اعظم  جب فلور آف دی ہاؤس پر کوئی بات  کہتے ہیں تو وہ  حکومتی پالیسی کی عکاس ہوتی ہے،  یعنی پالیسی بیان۔  اِدھر  اُدھر  چاہے درجنوں  پریس کانفرنسیں،  بیان اور میڈیا ٹاکس دے دی جائیں  مگر اپوزیشن کا اصرار ہوتا ہے کہ  ایوان کو اعتماد میں لیں اور فلور آف دی ہاؤ س پر پالیسی بیان دیں تاکہ سند رہے اور  مستند  حوالے کے کام آوے۔

کوئی مہینہ بھر پہلے اسی پارلیمنٹ کے فلور پر وزیر برائے ہوا بازی نے پی آئی اے کے کراچی  حادثے کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے  ایسا پالیسی بیان دیا کہ اس وقت سے کسی کو حادثہ رپورٹ یاد ہی نہیں ہے۔  موصوف نے  بڑی  تفصیل سے اور کاغذات کا پلندہ لہرا لہرا کر بتلایا کہ پی آئی اے  حادثے کا کیا پوچھتے ہو؟ یہاں تو  پائلٹس تک کا آوے کا آوا بگڑا ہو اہے۔ ان کے بقول پی آئی اے کے  پائلٹ اسٹاف میں سے چالیس فیصد کی تو ڈگریاں جعلی  یا مشکوک ہیں۔ عام آدمی کو جو سمجھ میں آیا وہ کچھ یوں تھا:  صاحبو، اس ایک حادثے کی کیا پوچھتے ہو، یہ پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کی غلطی کی وجہ سے ہوا لیکن   شکر کرو اس قدر جعلی یا مشکوک لائسنسوں کی موجودگی میں بھی کارِہوابازی چل رہا ہے، اور ہاں یہ مت سمجھئے کہ ہماری کوئی غلطی ہے، یہ سب کیا دھرا ہم سے پہلے والی سیاسی جماعتوں کا ہے۔

وزیر موصوف کی  ٌ  صاف گوئی  ٌ  اور فلور آف دی ہاؤس پر پالیسی بیان پر ملک کے  اندر  تو جو واہ واہ ہوئی سو ہوئی دنیا بھر میں وہ واہ واہ ہوئی کہ خدا کی پناہ۔ دنیا کا کوئی معروف چینل اور اخبار ایسا نہ تھا جس نے اس اسٹوری کو اپنی ہیڈلائنز نہ بنایا ہو۔ اس کے بعدتنقیدی مضامین کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ یہاں تک تو اس  ٌ  واہ واہ  ٌ  سے گزارہ ہو سکتا تھا مگر یورپی یونین نے  پہلے ہی پی آئی اے کو سیفٹی معاملات میں 2012 سے  خبرداری نوٹس پہ نوٹس دے رکھے  تھے۔  اس انکشاف پر پی آئی اے کو یورپ میں  کام سے ہی روک دیا گیا۔   امریکہ سمیت بہت سے ممالک  نے بھی یہی فیصلہ کیا۔

دنیا میں مختلف ائیر لائنز میں جو پاکستانی پائلٹس سول ایوی ایشن کے جاری کردہ لائسنسوں پر فلائی کر رہے تھے،  گراؤنڈ کر دئے گئے۔  پی آئی اے  ملازمین اور پائلٹس کے  تو سیاسی وارثین  کل بھی موجود تھے اور آج بھی ہیں  جو اس کے  ملازمین کو  فلائی نہ کرنے کے باوجود تنخواہیں دِلوا سکتے ہیں مگر  غیر ممالک  گراؤنڈ کئے  گئے  پائلٹس  کی تنخواہوں کا معلوم نہیں  کہ فضا سے زمین پر اتارے جانے کے  بعد مل رہی ہیں یا نہیں۔پاکستان میں فلائنگ لائسنس اور ہوا بازی سے متعلق  دیگر مختلف  سرٹیفیکیٹس سول ایوی ایشن جاری کرتی ہے۔  پی آئی اے پر جو سوالیہ نشان آیا سو آیا،  اصل سوالیہ نشان سول ایوی ایشن  پر آیا کہ اس ادارے میں  بقول شخصے اس قدر اندھی لگی ہوئی ہے کہ پرچہ کسی کے نام کا ہے اور کمرہ امتحان میں اس کی  جگہ حل کوئی اور کر جاتا ہے، فلائنگ لائسنس کی  شرائط پوری کرنے میں بھی جعلسازی کرکے کام نکل جاتا ہے۔ اس سوالیہ نشان نے اس ادارے سمیت ملک کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا۔

 ایسے لائسنس  کا لوگ کرتے کیا ہیں؟ اس کا  جواب وزیر موصوف پہلے ہی دے چکے کہ سیاسی بنیادوں پر پی آئی اے میں بھرتی ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد ہمیشہ سکھ چین سے رہتے ہیں۔   دو روز قبل  سول ایوی ایشن نے  بتلایا ہے کہ دنیا بھر سے  ڈیڑھ سو سے  زائد لائسنسوں کے بارے میں موصول ہونے والی انکوائریوں میں سے 95% کی تصدیق  کر دی گئی کہ یہ  جعلی ہیں نہ مشکوک، بالکل اصلی ہیں۔

سول ایوی ایشن بقیہ پانچ فیصد کا بھی جواب دے دے گی   لیکن  پاکستان کے ہوا بازی کے ان دو اداروں پر لگے داغ ان جوابوں کے واشنگ پاؤڈر سے دھلنے والے نہیں۔ حسبِ معمول یہ موضوع میڈیا ٹاک شوز اور باہمی سیاسی دشنام طرازی کے  خوب کام آیا۔ پی ٹی آئی کے وزرا نے خم ٹھونک کر یہی جواب دیا کہ یہ پچھلوں کا گند تھا  جو ہم صاف  کر رہے ہیں۔ وزیر موصوف  تو پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ مرض ختم کرنے کے لئے کیمو تھراپی ضروری ہوتی ہے، سو وہ انہوں نے کردی ہے،  امید ہے کہ بیمار کا حال اب اچھا ہی ہو گا۔  پاکستان ترقی  کیوں نہیں کرتا؟ پاکستان پر دنیا کا اعتبار کیوں نہیں ہے یا  بہت کم ہے؟ یہ سوالات اکثر روزمرہ اور میڈیا  گفتگو میں دوہرائے جاتے ہیں۔  کراچی طیارے حادثے میں  ستانوے قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، انگلی پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کی طرف اٹھی، یوں پی آئی اے  کے سیفٹی ریکارڈ کو ایک اور جھٹکا لگا۔ کسی ترقی یافتہ ملک میں یہ  حادثہ ہوتا تو  تحقیقات پر سیاست نہ ہوتی۔ ملائشیا کا طیارہ چین کی جانب  پرواز کے دوران  ایسا گم ہوا کہ سراغ تک نہ ملا مہینوں کی تلاش کے باوجود اتہ پتہ نہ چلا مگر ملک کے اندر یا باہر کسی نے انگلی تک نہ اٹھائی کہ پائلٹ کا قصور ہوگا؟  کسی نے ہرزہ سرائی نہ کی کہ میاں پائلٹ کا لائسنس تو چیک کرو! ملائشیا  میں جاری  سیاسی مارا ماری میں  حکومتی یا  اپوزیشن  پارٹی کو توفیق نہ ہوئی کہ اس پر پوائنٹ اسکورنگ کر لیتے۔ ملائشیا   ہی کا ایک اور طیارہ  یوکرائن  کے اوپر سے گذرتے ہوئے تباہ ہو گیا۔ تحقیقات میں روس کا ذکر بار بار آیا مگر کوئی انگلی پائلٹ کی اہلیت  پر نہ اٹھی۔ کیوں؟

اس لئے کہ ہوابازی کے ادارے دنیا بھر میں  سخت قوانین اور ضابطوں کے پابند ہیں،  یہ تصور ہی نہیں کیا جاسکتا کہ ان قوانین میں  سیاسی یا انتظامی  مداخلت  کی جا سکتی ہے۔  اسی طرح طیارے بنانے والے اداروں کی جان بھی سیفٹی کے پنجرے میں بند ہے۔ ایک ہی قسم کے طیارے کے دو تین واقعات کے بعد دنیا بھر میں  وہ طیارے گراؤنڈ کر دئے جاتے ہیں۔ ایوی ایشن کے میدان میں  سیفٹی کا ریکارڈ  یوں ہی تو اس مقام پر نہیں کہ تمام ذرائع ٹرانسپورٹ میں سب سے کم حادثے ہوا بازی کے میدان میں ہیں۔ کیوں؟ اس کا جواب مضبوط ادارے،   بے لاگ قوانین، ان قوانین پر سختی سے عمل،   سیفٹی پر زیرو ٹالرنس اور تہہ بہ تہہ نگران اداروں کا موثر نگرانی کا نظام۔  ہم اور ہمارے ادارے اس کڑے معیار   پر کہاں کھڑے ہیں، اک ذرا گردن جھکائیے اور جان لیجئے!