مساوی مواقع کے لئے نیا عالمی عمرانی معاہدہ ضروری ہے: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

  • اتوار 19 / جولائی / 2020
  • 4780

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر سب کے لیے مساوی مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک نیا عمرانی معاہدہ طے کیا جائے۔ انہوں نے یہ بات نیلسن منڈیلا کی سالگرہ کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر اور نسلی امتیاز کے خلاف مثالی جدوجہد کرنے والے نامور ترین شخص آنجہانی نیلسن منڈیلا کا آج 102واں یوم پیدائش ہے۔ اینٹونیو گتریس نے نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن کے منعقدہ اجلاس کے دوران اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ''ملکوں کے مابین نئے عمرانی معاہدے کے نتیجے میں نوجوان کو عزت سے جینے کا حق ملے گا، خواتین کو مردوں کے مساوی مواقع نصیب ہوں گے۔ اس سے بیماروں، کمزوروں اور تمام  اقلیتوں کو یکساں مواقع میسر آئیں گے''۔

گتریس نے کہا کہ لوگ اس بات کے خواہاں ہیں کہ ایسے سماجی اور معاشی نظام ہوں جن سے سبھی کو مساوی مواقع میسر آئیں اور جو فیصلے ان کی زندگی کے لیے ضروری ہیں ان میں ان کی رائے کو لازمی طور پر شامل کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ لوگ  انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کی حرمت یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ حکومتوں، افراد، متمدن معاشرے، کاروبار اور دیگر شعبہ جات کے لیے نیا سماجی ضابطہ چاہتے ہیں، جس میں ملازمت کا حصول، پائیدار ترقی اور سماجی تحفظ میسر آئے، جن کی بنیاد مساوی حقوق اور یکساں مواقع پر رکھی جائے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے انہوں نے وڈیو لنک کے ذریعے نیویارک سے خطاب کیا۔ جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تصدیق شدہ تعداد 325،000 ہے۔ گتریس نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا ایک انسانی المیہ ہے۔  اس کی وجہ سے نئی نسل کے لیے بہت سے مواقع بھی کھلے ہیں، جن کی مدد سے زیادہ مساوی اور پائیدار عالمی معیار وضع کرنے کے امکانات منظر عام پر آئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے اصلاحات کے عمل پر زور دیا تاکہ مسئلے کی اساس تک پہنچا جا سکے۔ گتریس نے کہا کہ غیر مساوی رویوں کا آغاز عالمی اداروں کی اعلیٰ ترین سطح سے ہوتا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، قوم پرستانہ سوچ، انتہا پسندی اور نسل پرستی سے خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی وجہ سے سوچ کی مزید تقسیم اور معاشرے میں عدم مساوات میں اضافہ ہو گا۔