وزیر اعظم کے چھ معاونین خصوصی دوہری شہریت رکھتے ہیں

  • اتوار 19 / جولائی / 2020
  • 7190

پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے 15 معاونین خصوصی اور6 مشیروں کےاثاثوں اور شہریت کی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں۔ وزیراعظم کے معاونین خصوصی میں سے چھ دوہری شہریت کےحامل ہیں۔

پاکستان کے قانون کے مطابق کوئی بھی رکن اسمبلی اور وفاقی وزیر دوہری شہریت کا حامل نہیں ہو سکتا۔ لیکن کسی معاون خصوصی اور مشیر کے لیے ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ وزیراطلاعات و نشریات شبلی فراز نے ٹوئیٹر پر کابینہ ڈویژن کا لنک شئیر کیا اور کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر تمام معاونین خصوصی کے اثاثہ جات اور شہریت کی تفصیلات  عوام کے سامنے رکھی جارہی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی جاری کردہ تفصیلات اور کابینہ ڈویژن کی ویب سائیٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل امریکی گرین کارڈ ہولڈر ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے اپنی شہریت ظاہر نہیں کی تھی۔ پٹرولیم کے معاون خصوصی ندیم بابر سال 1999 سے امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ معاون خصوصی اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری مستقل برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔

ندیم افضل چن کینیڈا کی شہریت رکھتے ہیں جبکہ معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس بھی کینیڈا کی شہری ہیں۔ تانیہ ایدروس سنگاپور کی مستقل رہائشی بھی  ہیں۔ معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن شہزاد سید قاسم بھی امریکی شہریت کے حامل ہیں۔

کابینہ ڈویژن نے وزیر اعظم کے معاونین خصوصی اور مشیروں کے اثاثوں کی تفصیلات بھی جاری کردی ہیں۔ قانون کے مطابق تمام ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ کو اپنے اثاثے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ظاہر کرنا ضروری ہیں اور اگر کوئی رکن ایسا کرنے میں ناکام رہے تو اس کی رکنیت معطل کر دی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں پہلی بار معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیل بھی جاری کی گئی ہے۔

معاونین خصوصی کی دوہری شہریت کے معاملہ پر سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے کا سلسلہ جاری ہے جس میں ایک طرف حکومتی اقدام کی تعریف کی جا رہی ہے، وہیں زلفی بخاری اور شہباز گل کی غیر ملکی شہریت کو لے کر ماضی میں اقامہ کا قصہ بھی چھیڑا جا رہا ہے۔