کشمیری عوام کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں: وزیراعظم

  • اتوار 19 / جولائی / 2020
  • 5200

لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیری 19 جولائی کو یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھارتی مظالم کے خلاف کشمیریوں کو انصاف دلانے کے لیے ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اہل کشمیر کے لیے خود ارادیت کا حق سلامتی کونسل کی جانب سے اور عالمی قانون کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ہم کشمیری عوام کو جو ہندوتوا کی پیروکار نسل پرست بھارتی ظالمانہ/غیرقانونی ہتھکنڈوں کے خلاف صف آرا ہیں، انہیں انصاف دلانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ انصاف کا بول بالا ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید لکھا کہ آج ہم یومِ الحاقِ پاکستان کے تاریخی موقع کو یاد کرتے ہیں، جب اہلِ کشمیر نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔ ہم کشمیری عوام سے اپنے عہد کی تجدید کرتے ہیں اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

خیال رہے کہ لائن آف کنٹرول  سمیت دنیا بھر میں موجود کشمیری یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں۔ کشمیری آج کا دن اس عزم کی تجدید کے ساتھ منا رہے ہیں کہ بھارتی تسلط سے آزادی اور جموں و کشمیر کے پاکستان سے مکمل الحاق تک جدوجہد آزادی جاری رکھی جائے گی۔ خیال رہے کہ 1947 میں آج کے دن سری نگر میں سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس کے دوران کشمیری قیادت نے کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی۔

19 جولائی 1947 کا فیصلہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ کشمیریوں نے اپنے مستقبل کو پاکستان کے ساتھ منسلک کردیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق برصغیر کی تقسیم کے منصوبے کے تحت آزاد ریاستوں کو دونوں نئے قائم شدہ ممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار حاصل تھا۔

واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر جاری رکھا ہوا ہے اور اس میں تیزی گزشتہ سال 5 اگست کو بھارت کے اس غیرقانونی اقدام کے بعد سامنے آئی جس میں اس نے یک طرفہ طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اسے 2 یونین ٹیرٹریز میں تبدیل کردیا تھا۔

بھارت کے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے تحت حاصل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد اب جموں و کشمیر سول سروسز ایکٹ لاگو کردیا ہے جس کے مطابق جموں و کشمیر میں 15 سال سے مقیم لوگ ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دے سکتے ہیں۔

ایکٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دینے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ اس نے جموں و کشمیر کے وسطی علاقے میں 15 سال تک رہائش اختیار کی ہو یا 7 سال کی مدت تک تعلیم حاصل کی ہو یا علاقے میں واقع تعلیمی ادارے میں کلاس 10 یا 12 میں حاضر ہوا ہو اور امتحان دیے ہوں۔

اس سے قبل جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ 35 اے میں شہریت سے متعلق تعریف درج تھی۔ اور وہی شخص ڈومیسائل کا مستحق تھا جو مقبوضہ علاقے میں ریلیف اینڈ ری ہیبیلٹیشن (بحالی) کمشنر کے پاس بطور تارکین وطن رجسٹرڈ ہو۔