بین الافغان مذاکرات چند ہفتوں میں شروع ہو سکتے ہیں
- سوموار 20 / جولائی / 2020
- 4680
پاکستان کے لیے افغانستان کے نمائندہ خصوصی محمد عمر داؤد زئی نے کہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات مہینوں نہیں بلکہ چند ہفتوں میں شروع ہو سکتے ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عمر داؤد زئی کا کہنا تھا کہ جب فریقین مذاکرات کی میز پر آئیں گے تو صورتِ حال کا اندازہ ہو گا کہ معاملات حل کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہے۔ محمد عمر داؤد زئی نے بتایا کہ قیدیوں کی رہائی طالبان کا سب سے اہم مطالبہ تھا، اس پر عمل در آمد آخری مراحل میں ہے۔ کچھ طالبان قیدیوں کی رہائی ابھی نہیں ہوئی۔ ان کی رہائی پر بھی بات چیت جاری ہے۔ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان 90 فی صد معاملات حل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں فریقین کو پہلے آسان اہداف پر بات چیت کرنی ہو گی تاکہ امن مذاکرات مثبت جانب بڑھ سکیں۔ ياد رہے کہ امريکہ اور افغان طالبان کے درميان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں رواں سال فروری میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت افغانستان کی حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار قيدی رہا کرنے ہيں۔ جب کہ طالبان نے بھی افغان حکومت کے 1000 قيديوں کو رہا کرنا تھا۔ اب تک افغان حکومت نے طالبان کے 4000 سے زائد جب کہ طالبان نے اپنی حراست میں موجود افغان حکومت کے 700 سے قيدی رہا کیے ہيں۔
افغان حکومت نے رواں ماہ طالبان کے 600 قیدی رہا کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ یہ قیدی سنگین جرائم، قتل اور اسمگلنگ جیسی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ عمر داؤد زئی کے مطابق قیدیوں کی رہائی کے بعد امن مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔
افغان طالبان اشرف غنی کی حکومت کو کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں۔ طالبان کے مطابق افغانستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بین الافغان مذاکرات میں طے کیا جائے گا۔ عمر داؤد زئی بھی افغانستان کے مسائل کا حل مذاکرات کو ہی سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تب ہی ممکن ہو گا جب فریقین ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ جائیں گے اور تمام امور پر بات چیت کا آغاز ہو جائے گا۔
افغان نمائندہ خصوصی کے مطابق مذاکرات کچھ لو، کچھ دو کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے لچک کا مظاہرہ بے حد ضروری ہوتا ہے۔ تمام مسائل حل طلب ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ بین الافغان مذاکرات میں تمام فریقین معنی خیز نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے پاکستان اور ایران کے ساتھ ہمسایہ ممالک ہونے کی وجہ سے دیرینہ تعلقات ہیں جب کہ بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے جائیں۔ عمر داؤد زئی کے مطابق افغانستان میں قیامِ امن کی راہ میں رکاوٹیں ضرور ہیں تاہم وہ پُر امید ہیں کہ کئی دہائیوں سے جاری تشدد ختم کرنے میں وہ اپنا کردار ادا کر پائیں گے۔