اپوزیشن جماعتیں عید الاضحیٰ کے بعد آل پارٹیز کانفرنس منعقد کریں گی
- سوموار 20 / جولائی / 2020
- 5230
اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اورپاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے بعد دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی ملاقات ہوئی جس میں عید الاضحیٰ کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ملاقات کے بعد پی پی پی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ 72 برس بعد پاکستان اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ اسے کسی نئے فاشسٹ ایجنڈے کی تجربہ گاہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسے تجربات نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملکی معیشت حکومت کی نااہلی، ناتجربہ کاری اور نالائقی سے تباہ ہوگئی ہے۔ 21 ویں صدی میں کوئی ریاست اس تباہ حال معیشت کے ساتھ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بہتر معیار زندگی دینا تو دور کی بات عوام کا معیار زندگی مسلسل انحطاط کا شکار ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ مزدور کسان، ڈگری یافتہ نوجوان پریشان ہیں اس لیے اپوزیشن سمجھتی ہے کہ اس حکومت سے پاکستان کو شدید داخلی اور خارجی خطرات کا سامنا رہے گا۔ خطے کی صورتحال کے باعث ہمیں اندرونی اتحاد، داخلی یکجہتی کی ضرورت ہے لیکن حکومت کا صرف انتقامی ایجنڈا ہے جس کے ساتھ یہ ملک کا شیرازہ بکھیر رہی ہے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ اس نااہل حکومت سے نجات حاصل کرنا پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی امنگوں کی ترجمانی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد رواں ہفتے جوائنٹ اپوزیشن کوآرڈنیشن کا اجلاس بلایا جائے گا اور عیدالاضحیٰ کے فوری بعد آل پارٹیز کانفرنس ہوگی جس میں اپوزیشن جماعتیں ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل پیش کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت کو مہلت دینے کا مطلب پاکستان کو مزید کمزور کرنا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف دہشت گردی کے خلاف ٹرانسپیرنٹ ایجنڈا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے ممالک نے پاکستان کو یہ نہیں کہا کہ ایکش پلان کے تحت کی گئی قانون سازی میں پاکستان کو ایک فاشسٹ ملک بنادیا جائے۔ موجودہ حکومت ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں ایسا قانون مسلط کرنا چاہ رہی ہے جو نیب سے کئی ہاتھ آگے ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ 90 روز کے لیے کسی بھی شخص کو بغیر ضمانت ریمانڈ کے لیے حراست میں لیا جاسکے گا اور اس کے بعد اس میں ضمانت کے بغیر مزید 90 روز کی توسیع ہوسکتی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ کسی بزنس مین، تاجر، صحافی یا سیاسی کارکن کو 100 ڈالر حوالہ ہنڈی کی جعلی چٹ پر اقتصادی دہشت گردی کی دفعات لگا کر 180 روز کے لیے جیل کی کال کوٹھری میں پہنچایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا ایف اے ٹی ایف اور عالمی برادری کا نام لے کر پاکستان میں کالے قانون مسلط کیے جارہے ہیں۔ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں لیکن حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں ایسے قانون نافذ کردے کہ آئندہ 50 سال کے لیے قوم ایک نئی دلدل میں پھنس جائے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے کردار کی وجہ سے حکومت قوم کے سامنے ایکسپوز ہوچکی ہے۔ ورنہ 2 سالوں میں کوئی حکومت اتنی ایکسپوز نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن نے اس کی ناکامیوں کو اس کی نالائقیوں کو اسمبلی کے اندر اور باہر ایکسپوز کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم عملی طور پر اس جدوجہد کو آگے لے کر جائیں جس کے لیے اے پی سی ہوگی جس میں تمام جماعتوں کی مشاورت سے مشترکہ لائحہ عمل بنایا جائے گا۔
احسن اقبال نے کہا کہ کورونا وبا نے عمران خان کو بچایا ہے اگر یہ وبا نہ آتی تو یہ حکومت اپنے بوجھ تلے مارچ اپریل مئی کے دوران گرنے کے لیے تیار تھی اور بجٹ کے بعد حالات مختلف ہوجاتے۔ لیکن کورونا نے حکومت کو لائف لائن دے دی۔ کورونا کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں معطل کی ہوئی ہے۔ سیاست کے لیے عوام کی زندگی سے نہیں کھیل سکتے، جونہی کورونا ختم ہوگا ہم سیاسی سرگرمیاں تیز کردیں گے۔
پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ نیب نیازی گٹھ جوڑ واضح ہوتا جارہا ہے اور شاید ہی اپوزیشن کا کوئی ایسا رہنما بچا ہو جسے نیب کے ہاتھوں بلا وجہ جیل یا تنہائی کا تشدد برداشت نہ کرنا پڑا ہو۔ لگتا یہ کہ ہماری قیادت پر دباؤ بڑھانے کے لیے یہ ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ حکومت فاشزم کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے اور میڈیا کا گلا دبا اس کا ہتھکنڈہ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم دونوں جماعتوں کا اتفاق ہے کہ یہ حکومت ایک مسئلہ ہے جس سے جان چھڑانی ہے۔ قمرالزمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم دو جماعتیں نہیں ہیں، ہمیں اپوزیشن کی باقی جماعتوں سے بھی مشاورت کرنی ہے اور کوآرڈنیشن کمیٹی مشاورت اور اے پی سی کا ایجنڈا تشکیل دے گی۔