انقلاب فرانس: سیاسی اور سماجی ارتقا کا نقیب
- تحریر ڈاکٹر طاہر منصور قاضی
- سوموار 20 / جولائی / 2020
- 29840
ہر انقلاب اپنی ماہیت میں داستان در داستان ہوتا ہے۔ یہ بات فرانس کے انقلاب پر بھی صادق آتی ہے۔ 14 جولائی 1789 کو انقلاب فرانس کا نقارہ بجا۔ انقلاب کے وقت فرانس پر بادشاہ لوئی سولہ کی حکومت تھی۔ اس دن شام کے وقت محل میں بادشاہ کے مصاحب نے دن بھر کے واقعات بادشاہ کے گوش گزار کرنے کی کوشش کی تو بادشاہ نے اسے درمیان میں ٹوک دیا۔ ہاں، ہمیں معلوم ہے کہ شہر میں فسادات ہو رہے ہیں۔
بادشاہ کے مصاحب نے دھیرے سے جواب دیا۔ نہیں عالی پناہ، یہ فسادات نہیں، یہ انقلاب ہے۔ اس قصے میں کتنی حقیقت ہے، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ تاہم اس سے یہ اندازہ ضرور ہو جاتا ہے کہ بادشاہ کے مصاحب کی سیاسی اور سماجی فہم بادشاہ سے کہیں زیادہ تھی۔
پیرس میں بستیل کا قلعہ ایک بدنام جیل تھا جہاں مجرموں اور بادشاہ کے مخالفین کو تشدد کے لئے لایا جاتا تھا۔ 14 جولائی کو وہاں صرف سات قیدی تھے اور ایک اسلحہ خانہ تھا۔ اس دن پیرس کے عوام نے صبح سے بستیل قلعے کا محاصرہ کر لیا تھا۔ بعد دوپہر عوام اور باغی سپاہیوں نے مل کر قلعے پر حملہ کیا، وہاں سے اسلحہ لوٹا اور قیدیوں کو آزاد کروایا۔ بادشاہ کی شاہی فوج کے دستے نے قلعے کے بہت قریب ڈیرے ڈال رکھے تھے مگر انہوں نے باغیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے گریز کیا۔ باغی عوام نے پیرس کے گورنر کا سر کاٹ کر اس کو ایک سلاخ کے اوپر چڑھایا اور دن بھر شہر میں جلوس کی شکل میں پھراتے رہے۔ تاریخ میں فرانس کے انقلاب کی شروعات کو عام طور سے اسی دن سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ دن تو تاریخ لکھنے کے لئے صرف ایک حوالہ ہے ورنہ انقلاب نہ تو ایک دن میں شروع ہوتا ہے، نہ ایک دن میں مکمل ہوتا ہے اور نہ اس کے نتائج ایک دن میں ظاہر ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کے ثمرات ایک دن میں پھوٹتے ہیں۔ انقلاب فرانس کی کہانی بھی دنیا کے باقی سارے انقلابات کی طرح ہے۔
انقلاب فرانس کو سوا دو صدیوں سے بھی زیادہ زمانہ گزر چکا ہے مگر اس انقلاب کی باز گشت ابھی تک فضاؤں میں ہے۔ اس انقلاب سے بساط عالم پر ظاہر ہوا کہ روشن خیالی کا فلسفہ سماج کے تاریخی جبر کا تدارک ہے۔ اس انقلاب کے پہلے چند سال سیاسی طور پر معتدل اور روشن خیال تھے۔ اس حد تک کہ آج کی دنیا کے سیاسی اور سماجی انتظام و انصرام کے چشمے وہیں سے پھوٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ آنے والے چند سالوں میں 1794 تک قہر، تشدد اور قتل و غارت کی بے شمار داستانیں رقم ہوئیں۔ خوف و ہراس کی فضا نے انقلاب کے راہنماؤں اور عوام کے اعصاب مضمحل کر دئے اور تاریخ دان لکھتے ہیں کہ اس دور کا اختتام اس وقت ہوا جب انقلاب کے بہت بڑے داعی میکس میلاں روبے سپئر کو سر قلم کرنے والی مشین گلوٹین کی نذر کیا گیا۔ اس وقت عوام انقلاب کی وحشت سے تنگ آ کر اطمینان اور سکون کوترجیح دینے لگے۔ اور پھر چند ہی سالوں کے اندر انتظامی پالیسی کی سطح پر انقلابی اصلاحات کو اس وقت پا بہ زنجیر کر دیا گیا جب نپولین نے 1799 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ پہلے پہل نپولین کے اقتدار پر قبضے کو یورپ میں بہت پذیرائی ملی۔ پھر اسی نپولین نے فرانس کی سرحد سے باہر نکل کر پورپ میں طالع آزمائی کی تو پورپی طاقتوں نے نپولین کی بادشاہت کو بھی انقلاب کی باقیات میں شامل کر دیا۔ اس کا ذکر آخر میں آئے گا۔
مذہبی اداروں یعنی چرچ، سیاسی اشرافیہ اور بادشاہت کے اختیارات اور ان سب گروہوں کا آپس میں مل کر عوام کو زیر نگیں رکھنا فرانس کی تاریخی حقیقت تھی اور باقی یورپ کی تاریخ کا حال بھی ایسا ہی تھا۔ فرانس کے انقلاب میں عوامی آزادی، برابری اور اخوت جیسے نظریات کے خدوخال واضح ہوئے جن سے پورے یورپ میں بادشاہت کے خاتمے کی سیاسی لہر اٹھتی نظر آنے لگی۔ اس وجہ سے فرانس کے انقلاب میں ان نظریات کا عملی مظاہرہ یورپ کی تمام بادشاہتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی تھا۔ لہٰذا ان نظریات اور اس کے عملی اظہار کا وہیں قلع قمع کرنا باقی بادشاہتوں کا مطمع نظر ٹھہرا۔ جیسے ہی کسی جگہ انقلاب آتا ہے، اسی طرح وہیں ایک اور سماجی فضا بھی تیار ہو جاتی ہے جسے "کاونٹر ریولیوشن" کہتے ہیں۔ انقلابات عالم کی یہ بھی ایک مشترکہ خصوصیت ہے۔ فرانس کے اندر بھی مذہبی اداروں، اشرافیہ اور پرانے بادشاہ کے حواریوں نے کاونٹر ریولیوشن کو ہوا دی۔
فرانس کی پرانی اشرافیہ کا ایک رکن چارلس ٹیلی ریںڈ جو اشرافیہ سے تعلق رکھتا تھا اور آٹن کا بشپ رہ چکا تھا۔ اس کے بارے میں یورپ کے حکومتی حلقوں میں کہا جاتا تھا کہ یہ شخص وہ سانپ ہے جس نے اپنی کینچلی بدل رکھی ہے۔ یہ بات ٹیلی رینڈ کی چالبازیوں کی وجہ سے تھی۔ انقلاب کے بعد اس کا فرانس میں رہنا مشکل ہو چکا تھا۔ اس نے 1992 میں برطانیہ میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ نپولین کے بادشاہ بننے کے بعد برطانیہ اور یورپ کی دوسری بادشاہتیں ٹیلی رینڈ کی معرفت ڈپلومیسی کی باتیں کرنے لگے تا کہ یورپ کے سیاسی مستقبل کا نقشہ بنایا جاسکے جس میں فرانس کی طرح کا انقلاب برپا نہ ہو سکے۔ ان حوادث و واقعات کے ساتھ یہ بھی پیش نظر رہے کہ سوا دو سو سال گزرنے کے بعد بھی فرانس کے انقلاب کی داستان تازہ ہے۔ اس انقلاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں واقعات کی ترتیب سے زیادہ ان تفصیلات کی ضرورت ہے جن سے انقلاب کی ماہیت کو سمجھنے میں مدد ملے اور دنیا کے دوسرے انقلابات کا مطالعہ فکر انگیز ہو سکے۔
انقلاب فرانس کو شیکسپئر کے ڈرامے کی طرح دیکھا جا سکتا ہے کہ جس میں ہر موڑ پر ڈرامے کے اندر سے ہی ایک نئی کہانی پھوٹی ہے جس کے آگے کئی ممکنات ہوتے ہیں۔ اسی طرح انقلاب فرانس کے کسی بھی مرحلے پر کوئی اتفاقی واقعہ یا حادثہ انقلاب کی کوئی ایسی راہ متعین کر سکتا تھا جس کے نتیجے میں فرانس یا دنیا کی تاریخ آج کی تاریخ سے بالکل مختلف ہوتی۔ تاریخ کے اس پہلو دار اور اہم انقلاب کے اسباب اٹھارویں صدی کے اواخر میں کچھ اِس طرح سے یکجا ہوئے کہ وہ دانشور جو تاریخ کو آئیڈیالوجی کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کی بات میں ایک سچائی ضرور ہے مگر انقلاب کی تصویر ادھوری رہتی ہے۔ اور وہ دانشور جو مادی اور سماجی اسباب سے انقلابِ فرانس کی توجیح کرتے ہیں اُن کے دلائل سے بھی صرف نظر مشکل ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ کوئی آئیڈیالوجی اپنی ذات میں طاقت صرف اس وقت بنتی ہے جب وہ سماج کے اندر اپنی قوت کا مظاہرہ کر سکے۔ آئیڈیالوجی کو سماجی قوت بننے کے لئے تاریخ اور معاشرے کے کن عوامل کی ضرورت ہوتی ہے، اس کی تفصیل کبھی پھر سہی مگر ہمارے بہت سے دانشور شاید وِل ڈیورنٹ کی کتاب "روسو اور انقلاب" کے عنوان سے اتنے زیادہ متاثر ہیں کہ وہ روسو کے نظریات کو انقلاب فرانس کی بنیاد قرار دیتے ہیں یا صرف نظریاتی سوجھ بوجھ کو ہی انقلاب کی پہلی اور آخری وجہ گردانتے ہیں۔ یہ بات تاثراتی اور خام خیالی ہے اور نہ ہی تاریخی دلیل کے پیمانے پر پوری اترتی ہے۔ انقلاب کے بہت بڑے داعی کارل مارکس کے نظریات سے متاثر کئی دانشوروں کے خیالات میں بھی یہی سقم موجود ہے جس کی وجہ سے مارکس کو یہ کہنا پڑا تھا کہ "میں مارکسسٹ نہیں ہوں"۔ اس بات کا ذکر یہاں صرف ضمنی طور پر ہے، انقلاب فرانس سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
بات انقلاب فرانس کی ہو، روسی یا ایرانی انقلاب کی، ان سب کے مطالعے سے واضح ہے کہ انقلاب کے دورانیے میں جو بہت سے موڑ آتے ہیں ان پر آئیڈلوجی اپنی شکل اس قدر بدلتی ہے کہ اگلے موڑ پر کبھی تو بالکل ہی مختلف ہو جاتی ہے۔ ایک موڑ پر کوئی ایک اور دوسرے پر کوئی اور آئیڈیالوجی زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔ ہم نے ابھی کہا ہے "انقلاب کا دورانیہ" ۔ یہ ایک بنیادی نکتہ ہے جو انقلاب کی نوعیت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔ ہمارا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سماجی انقلاب کوئی ایک واقعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک عرصے پر محیط واقعات کی ایک لڑی ہوتی ہے جس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1۔ اسباب انقلاب
2۔ انقلابی سر گرمی یا جنون
3۔ انقلاب کے نتائج
عام طور پر تاریخ دان انقلاب فرانس کو 1789 سے 1799 کے دس سالہ دورانیے پر بیان کرتے ہیں مگر کئی معتبر تاریخ دان اس پر متفق نہیں۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ انقلاب فرانس کے پیچھے یا اس سے پہلے اسباب کی ایک لمبی لسٹ ایک عرصے پر محیط تھی۔ انقلاب فرانس کو سمجھنے کے لئے 1789 میں فرانس کی سوسائٹی کو ایک نظر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اُس وقت فرانس کی سوسائٹی میں تین طبقات تھے جنہیں "اسٹیٹ" کہا جاتا تھا۔ پہلی اسٹیٹ پادری یا چرچ تھی۔ ان کے پاس فرانس کی 10 فیصد زمین تھی۔ ان کے پاس عام آدمی کی دو وقت کی روٹی تک کا استحصال کرنے کے لئے مختلف اقسام کے ٹیکس لگانے کی اجازت بادشاہ کی طرف سے مرحمت کی گئی تھی۔ پادری ان اختیارات کا بے دریغ استعمال کرتے تھے۔ یاد رہے کہ بادشاہ لوئی سولہ کے زمانے میں پورے فرانس میں ایک بھی "بِشپ" ایسا نہیں تھا جو عوام میں سے چرچ کے اس اعلیٰ عہدے پہ فائز ہوا ہو۔ تمام کے تمام بشپ اشرافیہ سے آئے تھے۔ چھوٹے عام پادری بھی تھے جو اپنی مذہبی خوش گمانی میں خود بھی بشپ کے نظام کے ذریعے چرچ کی مالی اور معاشرتی دراز دستی کا شکار بھی تھے اور آلہ٘ کار بھی۔
دوسری اسٹیٹ فیوڈل اشرافیہ تھے۔ اشرافیہ اور پادری دونوں ملا کر آبادی کا تین فیصد تھے اور ان کے ہاتھوں میں فرانس کے 45 فیصد زرعی وسائل تھے۔ اسی فرانس میں وہ تیسری اسٹیٹ بھی بستی تھی جو 97 فیصد عوام پر مشتمل تھی، اُن پر ٹیکس، عشرہ، ٹیتھ، کرایہ تقریباً پندرہ قسم کے ٹیکس تھے بلکہ انہیں مزید ٹیکس عاید کرنے کی آزادی بھی تھی اور وہ ان کی وصولی کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر سکتے تھے۔ انقلاب سے پہلے تو بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ شوقیہ کبوتر پالنے پر بھی ایک ٹیکس تھا۔
تیسری اسٹیٹ کے عوام کو تین حصوں میں دیکھا جا سکتا ہے:
بوژوا --- جن میں تاجر' ڈاکٹر، وکیل اور دیگر پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے لوگ تھے۔ دوسرے گروپ کو "سانس کولات کہا جاتا ہے۔ یہ شہری ورکر تھے جنہوں نے انقلاب برپا کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اسی گروپ نے بعد میں انقلاب کی تشدد آمیز کاروائیوں میں بہت بڑا حصہ لیا۔ تیسرے گروپ میں عام کاشت کار تھے جن کے پاس فرانس کی زمین کا قریباً 55 فیصد حصہ تھا مگر یہ سب لوگ ٹیکس کے نظام میں بری طرح جکڑے ہوئے تھے اور جب بھی فصل خراب ہوتی یہ لوگ سستے مزدورں کے طور پر شہروں کا رخ کرتے۔ اگر خوش قسمتی سے ان لوگوں کو کوئی کام مل جاتا تو ان کے لئے چار دن اور جینے کا سہارا ہو جاتا۔
اس نظام کے اندر امراء کی آسائشوں اور عیاشیوں کے بعد جو پیسہ حکومتی اخراجات کے لئے بچتا وہ آہستہ آہستہ کم سے کم تر ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ 1786 میں حکومت کا دیوالیہ نکلنے والا تھا۔ مالی حالات اس قدر خراب تھے کہ وزیرِ خزانہ کیلون کو دیوالیہ پن کی بری خبر بہ امر مجبوری بادشاہ کے گوش گزار کرنی ہی پڑی۔ فرانسیسی خزانہ خالی ہونے میں جہاں امراء کی عیاشیوں کی ایک لمبی فہرست ہے، وہیں یورپی جنگوں میں فرانس کی مداخلت کا بھی ایک بڑا ہاتھ ہے جس سے خزا نے پہ اضافی بوجھ پڑا۔ انسانی تاریخ میں ماسوائے چند جنگوں کے یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ جنگ و جدل مالی منافع کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہوتا ہے بشرطیکہ وہ فتح سے ہمکنار ہو جائے۔
اس تناظر میں جب خزانہ خالی ہو گیا تو تینوں اسٹیٹوں کے خصوصی نمائندگان کی کانفرنس بلائی گئی تا کہ نظام کی اصلاح کی جا سکے۔ 1787 میں بلائی گئی یہ کانفرنس بری طرح سے ناکام ہوئی کیونکہ خزانے اور مالیات کا وزیر امراء اور اشرافیہ کی دولت پر ٹیکس لگانا چاہتا تھا۔ تیسری اسٹیٹ کے تمام عوام اس تجویز کے حق میں تھے جبکہ فیوڈل اشرافیہ اور چرچ دونوں کو ٹیکس دینا نامنظور تھا۔ اسی تجویز کے دوسرے حصے میں وہ فیوڈل امراء کی زمینوں اور غرباء کے چھوٹے چھوٹے رقبوں پر بھی ٹیکس عاید کرنا چاہتا تھا ۔ اس خیال کو تینوں کلاسوں نے مسترد کر دیا۔ اس کانفرنس کے بعد وزیرِ خزانہ کیلون کو برطرف کر کے ملک بدر کر دیا گیا۔ ان واقعات کے تناظر میں کارل مارکس کا کہنا یاد آتا ہے کہ انقلاب معاشرے کے اندرونی تضاد کو ظاہر کرتا ہے جو وقت گزرنےکے ساتھ "دولت بنانے والی قوتوں" اور "سماجی رشتوں" کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے۔ انقلاب کے چند ابتدائی طالب علموں کے لئے ہو سکتا ہے کہ یہ اصطلاحات نئی ہوں۔ اس لئے انہیں علیحدہ سے سمجھنا ضروری ہے۔ اس موضوع ہے کو ہم یہیں چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ اس پر گفتگو ہمیں کسی اور طرف لے جائے گی۔
وزیر خزانہ کیلون کی ملک بدری کے بعد نئے آنے والے وزیر خزانہ کے ایما پر اکٹھی ہونے والی اسمبلیاں بھی بے نتیجہ رہیں۔ بالآخر 3 مئی 1789 کو تمام اسٹیٹ نمائندوں کو "جنرل اسمبلی" میں ایک بار پھر اکٹھا کیا گیا۔ یہاں فرانس کے قومی نظام میں اصلاحات کے بارے میں فیوڈل اشرافیہ اور چرچ کا رویہ تو ایک طرف رہا ، اس بات پر بھی اتفاق نہ ہو سکا کہ ووٹ کی نوعیت کیا ہو گی۔ تیسری اسٹیٹ کے نمائندے جو تعداد میں 1200 کے قریب تھے جمہوری گنتی کے حق میں تھے جبکہ جاگیردار اور چرچ ایک اسٹیٹ ایک ووٹ کا اصول منوانے پر مصر تھے جس سے وہ دونوں مل کر تیسری اسٹیٹ یا عوام کے اوپر اپنی مرضی لاگو کر سکتے تھے۔ یہ کانفرنس اور اسی طرح کی دیگر کانفرنسوں کی ناکامی نے عوام اور اس کے نمائندوں کو اصلاحات کی بجا ئے انقلابی بغاوت پر مجبور کر دیا۔ تیسری اسٹیٹ کے عوامی نمائندوں نے مجبوراً شاہ لوئی سولہ کے ٹینس کورٹ کو اسمبلی کا مقام قرار دیا کیونکہ انہیں اسمبلی کی اصل عمارت سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ بادشاہ کے ٹینس کورٹ میں انہوں نے خود کو عوامی اور قومی اسمبلی قرار دیا اور فرانس کو ایک نیا آئین دینے کا حلف بھی اٹھایا۔ واضح رہے کہ اس اسمبلی میں جاگیرداروں یا چرچ کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔
اسی ضمن میں ایبے سیعس کی معرکۃ الآ راء نے تیسری اسٹیٹ کا مقدمہ بڑی چابک دستی سے لڑا تھا۔ سیعس کہتا ہے:
"1۔ تیسری اسٹیٹ کیا ہے؟ ہر چیز ہی تیسری اسٹیٹ ہے۔
2۔ آج تک کے سیاسی نظام سے اسے کیا مل سکا؟ بالکل کچھ بھی نہیں۔
3۔ تیسری اسٹیٹ آخر کیا چاہتی ہے؟ یہ سیاسی اور سماجی نظام میں کچھ بننا چاہتی ہے۔ " یعنی اپنا حصہ چاہتی ہے۔
سیعس نے اعلان کیا، " تاریخ ہمیں اس موڑ پر لے آئی ہے کہ تیسری اسٹیٹ سماج کے اندر ہر چیز ہے اور اشرافیہ کیا ہے؟ اشرافیہ کی حیثیت ایک لفظ سے زیادہ نہیں ہے ۔۔۔ سماجی نظام کے اندر مراعات یافتہ گروپوں کی کیا صورت ہے؟ یہ گروپ کینسر جیسا موذی پھوڑا ہیں جو تکلیف دیتا ہے اور جو بیمار اور کمزور جسم کی طاقت کو اندر سے کھا جاتا ہے۔ اس مراعات یافتہ پھوڑے کا تدارک کرنے کی شدید ضرورت ہے"۔
سو 14 جولائی 1789 کو پیرس کے تاجروں اور عوام نے بستیل کا قلعہ جس کا ذکر شروع میں آ چکا ہے اس پر حملہ کر کے قیدی رہا کروا لئے اور اسلحہ لوٹ لیا۔ اس طرح 14 جولائی کا دن تاریخ دانوں کے نزدیک انقلابِ فرانس کی صبحِ اوّلیں قرار پایا بے شک کہ انقلابی صورت حال اس سے بہت پہلے مختلف شکلوں میں موجود تھی۔ انقلابی بغاوت کا وہ سلسلہ جو بستیل کے قلعے پر حملے سے شروع ہوا نہایت سرعت کے ساتھ ہر کوچہ و بازار میں پھیلتا چلا گیا۔ تاجر پیشہ اور کایگروں نے شہروں میں اور کسانوں نے دیہاتوں میں ایک ہفتے کے اندر انقلاب کا پرچم بلند کر دیا۔ عوام نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا، زرعی زمینوں سے جاگیرداروں اور مالکان کو بے دخل کر دیا اور چرچ سے بھی زمینیں چھیننا شروع کر دیں۔ مگر وہ بات، بعد میں جس کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بجا وہ انسانی حقوق کی پاسداری کا نقطہَ نظر تھا جو فرانسیسی انقلاب کے ابتدائی دنوں کی دین ہے ۔
انقلاب فرانس سے انسانی تاریخ میں عوام اور ریاست کو چرچ کے طے کردہ قانون کی بجائے انسانی فہم کی بنیاد پر وضع کئے گئے قانون کی بنیاد پر چلانے کا لائح عمل طے کیا گیا اور مذہب اور ریاست کو علیحدہ کرنے کا ایک اور تجربہ کامیاب ہوا جیسا کہ اس سے پہلے والی صدی میں پیس آف ویسٹ فیلیا کے معاہدے کے تحت بھی ہو چکا تھا۔ چرچ کو ریاست سے علیحدہ کرنے کے اس نظریے کو سیکولرازم کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب کے نتیجے میں چرچ کی جاگیردارانہ حیثیت ختم کر دی گئی اور اسے عوامی ریاست کا تنخواہ دار اور باقاعدہ حلف کے ذریعے عوامی قانون کا مطیع کر دیا گیا۔ سیکولرازم کی وہ خاص شکل جو فرانس میں رائج ہوئی اسے "لائیستے " کہا جاتا ہے۔ سیکولرازم دنیا میں ابھی تک مکمل طور پر رائج تو نہیں ہو سکا تاہم یہ ہر روشن خیال ریاست کا آئیڈیل مانا جا چکا ہے۔ اسی انقلاب کے دوران قومی اسمبلی میں عوام کے ووٹ کے ذریعے حکمران کی طاقت کو محدود کرنے کا جمہوری نظریہ بھی واضح ہو کر سامنے آیا۔ انسانی حقوق سے متعلقہ ان سارے نظریات کو 26 اگست 1789 کو منظور کئے گئے " آدمیوں اور شہریوں کے حقوق کے ڈیکلریشن" میں اکٹھا کر کے ایک قانونی حیثیت دے دی گئی۔ ڈیکلریشن سے متعلقہ بحث مباحثہ طول پکڑ گیا تو سترہ نکات پر اتفاق کے بعد مزید بحث ختم کر دی گئی۔ یہ تمام نکات بنیادی انسانی حقوق کو سماجی رہن سہن کی خشت اول تسلیم کرتے ہیں۔
انقلاب نے سماجی اور ذاتی حقوق کو بنیادی "فطری حقوق" مانا جن کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔ یہ حقوق انسان کے مقدس حقوق ہیں جنہیں انسان سے چھینا نہیں جا سکتا۔ ان حقوق کے تحفظ کے لئے بادشاہ کی اتھارٹی غیر ضروری قرار دے دی گئی۔ چرچ جو اپنے آپ کو مشیت ایزدی کی آواز سمجھتا تھا، اس کی تصدیق کو بھی غیر ضروری قرار دے دیا گیا۔ بنیادی فطری حقوق میں مذہبی آزادی، پریس کی آزادی، ٹیکس کے مطابق سیاست میں نمائندگی، ناجائز حد تک متشدد سزاوَں پر پابندی اور حکومتی کارندوں پہ احتساب جیسے نکات شامل تھے۔ تاہم یہ واضح رہے کہ اس دور میں انسانی حقوق کی جانب پیش رفت ہوئی مگر سیاسی حقوق بےشمار لوگوں تک نہ پہنچ سکے جن میں عورتیں، غریب عوام، ملازمین اور وہ لوگ جو جائیداد کے بغیر تھے۔ اس تناظر میں ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ انقلاب فرانس کو صرف رومانوی نظروں سے دیکھنا درست نہیں۔ اس انقلاب کے حقوق کے تصور میں بہت جگہوں پر کمی تھی۔
انقلابِ فرانس کا یہ دور جو بستیل قلعہ پر 14 جولائی کے حملے سے شروع ہوا تھا، اگست 1792 تک جاری رہا۔ اس پہلے دور کو بجا طور پر انقلاب کا لبرل اور روشن خیالی کا دور کہا جا سکتا ہے۔ بعد میں رونما ہونے والے حالات و واقعات سے واضح ہوا کہ یہ دور انقلاب کا معتدل دور تھا۔ اس موقع پر یہ بھی یاد رہے کہ انقلاب جس بہبود، اقدار اور معیار کی آس دلاتا ہے انہیں حقیقت کا روپ دینا نہایت مشکل کام ہوتا ہے۔ جس طرح حقیقی معنوں میں امید افزا ہونے میں وقت لگتا ہے اور امیدوں کو بار آور ہونے میں بھی ایک زمانہ لگتا ہے۔ انقلابِ فرانس میں بھی یہی ہوا۔ سماجی تبدیلی کی سست روی، انقلابیوں کی تندخیزی کے صبر کا پیمانہ جلد ہی لبریز کر گئی۔ صرف تین سالوں کے اندر معتدل مزاجی نے مات کھائی اور انتہا پسندی نے انقلاب کے سر کش گھوڑے کی باگ ہاتھ میں لے لی۔ انقلاب کے پیش روؤں میں جیکوبی گروپ جو کہ شروع میں معتدل تھا، اس نے اور "سانس کُولات " گروپ نے ساتھ مل کر انتہا پسندی کے اقدامات کرنے شروع کر دیے جس میں معمولی سی بات پر حکومتی اہلکاروں اور انقلاب برپا کرنے والے ساتھیوں کا سر قلم کرنا روز کا معمول ٹھہرا۔
وہ لیڈر اور دانشور جو انقلاب کا پہلا روشن خیال استعارہ تھے اُن میں سے کئی ایک پر یہ الزام لگا کہ وہ انقلابی نہیں رہے اور کئی لیڈروں پر یہ الزام تھا کہ ان کے اندر انقلاب کی روح ناکافی ہے ، اُن کے سر نہایت عجلت میں قلم کر دیئے گئے۔ اس طرح یہ سب لوگ اپنے ہی برپا کئے ہو ئے انقلاب کی بھینٹ چڑہے۔اس وجہ سے 1792 – 1794 تک کا زمانہ انقلاب کا تشدد اور دہشت کا دور کہلاتا ہے۔ فرانس کے بادشاہ لوئی سولہ اور ملکہ کو بھی اسی دور میں 21 جنوری 1793 کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ دہشت کے اس دور میں "میکس میلاں روبےسپئر " وکیل اور انقلابی سیاست دان کا کردار بہت اہم ہے۔ اس کی پر گوئی کا یہ عالم تھا کہ انقلاب کے ابتدائی مہینوں سے ہی عام مانا جانے لگا تھا کہ انقلاب روبے سپیئر کی زبان سے بولتا ہے۔ اس وقت روبےسپئر مستقبل کی گورنمنٹ کی دراز دستی کے امکانات سے خائف تھا، وہ سزائے موت کا مخالف تھا۔ وہ عوام کی معاشی فلاح کا حامی اور اس کے لئے قانونی جواز مہیا کرنے والوں میں صف اوّل کا دانشور تھا۔ اُس نے فرانس اور فرانس کی کالونیوں میں غلامی کے خاتمے کے لئے بھی بہت کام کیا۔
مگر ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اسی روبے سپئر کے زیرِ نگرانی تقریباً 40000 لوگوں کے سر تن سے جدا کئے گئے۔ یہی روبےسپئر انقلاب کے استحکام کو جواز بنا کر ایک جابر اور آمر بن بیٹھا تاوقتیکہ وہ خود بھی دوسرے انقلابیوں کی نظروں میں کھٹکنے لگا ۔ آخر کار 28 جولائی 1794 کو اس کا کسی مقدمے کے بغیر ہی سر قلم کر دیا گیا اور ساتھ ہی اس کے کئی ساتھیوں کا بھی۔ یوں یہ تاریخی کہاوت سامنے آئی کہ "انقلاب اپنے ہی بچوں کو نگل جاتا ہے"۔ جیسے ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ یہ دور انقلاب فرانس میں خوف و ہراس کا دور تھا جو روبے سپئر کی موت کے ساتھ ختم ہوا۔ 1794 سے 1799 تک کا زمانہ تھرماڈورین دور کہلاتا ہے جس میں سماجی اور سیاسی اصولوں کو ایک بار پھر نئے سرے سے ترتیب دیا گیا۔ روشن خیال لبرل سیاست اور حقوق و قوانین کی عام آدمی تک رسائی جیسی اقدار جو انقلاب کے پہلے دور کی مرہون منت تھیں، سبھی کچھ واپس لے لیا گیا۔ سیاسی عہدے کے لئے دولت اور رسوخ پھر سے بنیاد ٹھہرے۔ ووٹ کا حق تو پہلے بھی سو فیصد عوام تک پہنچ نہیں پایا تھا، اسے صرف مردوں ، دولتمندوں اور پراپرٹی رکھنے والے شہریوں تک محدود کر دیا گیا۔ وہ عورتیں جن کے پاس پراپرٹی تھی، ان کو بھی سیاست سے نکال دیا گیا۔
اس جگہ انقلاب فرانس سے متعلقہ دو نظریہ سازوں کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے ۔۔۔ کارل مارکس اور ایلکس ٹوکوِل۔ یہ دونوں اصحاب دانش ہم عصر تھے۔ مارکس اور اینگل کی کتاب کمیونسٹ مینیفسٹو اور ٹوکوِل کی کتاب "اولڈ رجیم اینڈ فرنچ ریولیوشن" دونوں 1848 میں شائع ہوئیں۔ مارکس کے تجزیے کے مطابق یہ بورژوا انقلاب تھا جس نے فرانس میں فیوڈالزم کا شیرازہ بکھیر دیا ہے۔ اس سے آنے والے سالوں میں سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد پڑے گی جو مستقبل کے سوشلسٹ انقلاب کی تمہید ہو گا۔ ٹوکوِل نے سسٹم کی سطح پر تو ایسی کوئی پیشگوئی نہیں کی مگر تاریخ کے طالبعلم کی حیثیت سے اس نے یہ ضرور کہا کہ انقلاب سے پہلے ریاستی مراعات کے نتیجے میں اور اس کے بل بوتے پر ریاست کے مقابل دوسری کلاسیں بھی تھیں جن سے سماجی نظام چلتا تھا۔ انقلاب کے بعد ریاست اکیلی کھڑی ہے اور اپنی مضبوطی کے لئے زیادہ سے زیادہ طاقت اکٹھی کرنے کے لالچ میں رہتی ہے۔ شاید ایلکس ٹوکوِل کے ذہن میں نپولین کا فرانس تھا۔ ریاست کا یہ کردار مارکس کی نظروں سے بھی اوجھل نہیں تھا۔ وہ بھی ریاست کو مراعات یافتہ طبقے کا آلہَ کار بتاتا ہے۔ دونوں فلسفی ریاستی طاقت سے نالاں دکھائی دیتے ہیں لیکن ٹوکوِل کی تحریر میں مستقبل کے انقلاب کے لئے کوئی زیادہ اشتیاق نظر نہیں آتا۔ اس کے مقابلے میں کارل مارکس کو انقلاب کے عظیم ترین نظریہ سازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مارکس کا مستقبل میں انقلاب کا نظریہ حکومت کا تختہ الٹنے کا عامیا نہ خیال نہیں۔ مارکس کا انقلاب کا نظریہ سماجی انصاف کے نظریے سے جڑا ہوا ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں مگر یہ ایک دوسرا موضوع ہے۔
فرانسیسی انقلاب نے بے شک سماجی تبدیلی، جمہوری طریقہ کار، انسانی حقوق اور سیکولرازم کے کئی سبق دئیے مگر آخر کار اشرافیہ نے اپنے عہدے، زمینیں، دولت اور سیاسی اختیارات واپس لے کر ہی دم لیا۔ چھوٹے کاشت کاروں کو بھی تھوڑا فائدہ ہوا مگر فیوڈل ازم کی واپسی سے ثابت ہوتا ہے کہ سرمایہ داری نظام کی طرف اگر کچھ پیش رفت ہوئی تو نہایت معمولی سی ہوئی ۔ نپولین نے فرانسسیی ریاست کو پھر سے عوام کے استحصال کا آلہ بنا دیا۔ یہ ضرور ہے کہ نپولین کو آخر تک اس بات پر فخر رہا کہ اس نے فرانس کو قانون دیا۔ مذہب کے معاملے میں نپولین سے پہلے روبےسپئر نے بھی چھوٹے پادریوں کو لکھا کہ وہ اپنے کام کرتے رہیں۔ نپولین کو کائنات کے بارے میں سائنس کی ایک کتاب پیش کی گئی تو اس نے پوچھا کہ اس میں اس دفعہ بھی خدا کا نام نہیں۔ مصنف نے بصد احترام جواب دیا کہ مجھے اپنی سائنس کے کتاب میں خدا کو ایک نظریے کی طرح استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ نپولین نے اپنے مذہبی عقائد کی بنا پر اس جواب کو زیادہ پسند نہ کیا۔
نپولین نے کیتھولک چرچ کے ساتھ معاہدے کر کے ان کے مراعات میں اضافہ کیا جس میں پرائمری سکول کی تعلیم کا اختیار چرچ کو دے دیا۔ مگر چرچ کے عمائدین زیادہ خوش نہیں تھے کیونکہ کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کا نظام ان کے ہاتھ سے ان کی بہت سی زمینوں کی طرح نکل چکا تھا۔ ٹیکس بھی ریاست کے ادارے اکٹھا کرتے تھے۔ اس اہتمام میں نپولین سے پہلے والے انقلابیوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ انہوں نے آن کی آن میں وہ ان تمام آدمیوں اور وسائل کی حیثیت ختم کر دی جس کی وجہ سے بادشاہت کے زمانے میں وسائل اور ان پر کنٹرول بکھرا بکھرا سا تھا۔ نیا قانون ریاست کے نمائندوں کے ذریعے تمام شہریوں پر یکساں لاگو ہونے لگا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ انقلاب کے بعد فرانس کے عوام، رعایا سے شہریوں میں تبدیل ہو گئے اور فرانسیسی قومیت کے خدوخال اپنی علیحدہ شناخت کے ساتھ ابھرنے لگے۔ اس کا لامحالہ نتیجہ یہ ہوا کہ عام آدمیوں کے لئے قومی سطح پر اپنی استطاعت کے مطابق خدمت اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے لگے۔ فوج میں بھرتی اور ترقی کے امکانات بھی شہریوں کی برابری اور قومیت میں سے نکلے۔ نپولین نے فوج کو نئے سرے سے منظم کیا۔
نپولین انقلاب کے دوران فرانس کے لئے فتوحات کرتا رہا۔ واپس پیرس پہنچنے کے بعد پہلے اس نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کی اور پھر وہ ایک آمر بن کر بادشاہت کرنے لگا۔ اسی اثنا میں جب فوج مضبوط ہو گئی تو وہ اپنی مہمات کو فرانس کی سرحدوں باہر لے گیا اور یورپ کے اندر جنگوں ایک سلسلہ چل نکلا اور یورپ سے امن کی فاختہ رخصت ہو گئی۔ جس طرح انقلاب کی گونج سے اس زمانے کا پورا یورپ دہل گیا، بالکل اسی طرح نپولین کی آمریت کے سیاسی مفاہیم بھی فرانس اور یورپ کے لئے ناقابل قبول ہو گئے۔ مشہور مورخ کارلائل نے انقلاب کے بارے میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ پیرس کی مشہور شاہراہ "غیو دیو فابوغ سینت آنتونے" پر انقلاب کی یاد میں آزادی کا وہ درخت جو 1790 میں بویا گیا تھا، کیا وہ اب بھی زندہ ہے؟
قصہ کوتاہ ، 1799 میں جب نپولین نے اقتدار پر قبضہ کیا اور نئے سرے سے بادشاہت کو بحال کر دیا تو انقلاب فرانس کی واقعاتی کہانی تو شاید اپنے انجام کو پہنچی مگر یورپ کی سیاسی زندگی میں بہت زیادہ تبدیلی آئی لیکن دھیرے دھیرے۔ یورپ میں بادشاہت کے خاتمے میں مزید نوے سال لگے۔ فرانس کے تجربے کی وجہ سے یورپ میں کانگرس آف ویانا کا انعقاد ہوا جس کا مقصد علاقے میں سیاسی اور فوجی طاقت کا توازن قائم کرنا تھا تا کہ یورپ کو آنے والے وقت میں نئی جنگ سے بچایا جا سکے۔ کانگرس اپنے مقصد میں پہلی جنگ عظیم پھوٹنے تک قریباً سو سال تک کامیاب رہی۔ انقلاب فرانس کی انسانی حقوق کی توجیحات کے اثرات اور ثمرات جو باقی دنیا میں بھی پھیلے وہ ایک نئی داستان ہے۔
مگر نئی داستان کا آغاز کرنے سے پہلے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اوپر کہے گئے لفظ "دھیرے دھیرے" پر تھوڑا غور کر لیا جائے۔ انقلاب فرانس جسے ہم ایک واقعہ سمجھتے ہیں کم و بیش دس سال پر محیط تھا۔ تاریخ دان الفریڈ کوبن تو یہاں تک پوچھتا ہے، آیا یہ انقلاب تھا بھی یا نہیں؟ کیونکہ انقلابیوں نے اگر روشن خیالی کو اپنایا تو اپنے عمل سے ان نظریات کی نفی بھی کی۔ جہاں انہوں نے انسانی اقدار کی بات کی، وہیں ان اقدار کو پامال بھی کیا۔ ان کا انقلاب روشن خیالی سے زینہ زینہ پھر استحصال کرنے والے مذہب کی دہلیز پہ جا پہنچا۔ اور کوبن کے الفاظ میں، "پوری کی پوری ایک نسل جس کی تربیت نیکی کی تعلیم سے ہوئی تھی، اُس کے اندر رچی بسی اچھائی اور برائی دونوں کو جس ایک لفظ میں بیان کیا جا سکتا ہے، وہ 'انقلاب فرانس' ہے۔"
Bibliography
- Politics, Culture, And Class in the French Revolution by Lynn Hunt
- The French Revolution and Human Rights – Edited by Lynn Hunt
- Revolutions by Stephan K. Sanderson
- Aspects of The French Revolution by Alfred Cobban
- The Democracy Reader
- Revolutions – Edited by Jack A. Goldstone
- States And Social Revolutions by Theda Skocpol
- The Rights of Man, The Reign of Terror by Susan Banfield
- The Days of The French Revolution by Christopher Hibbert
- Reflections on The Revolution in France by Edmund Burke
- Translation from English to Urdu – Oxford English Urdu Dictionary