یورپی رہنما 750 بلین یورو کے کرونا اقتصادی بحالی پیکج پر متفق ہوگئے
- منگل 21 / جولائی / 2020
- 5080
یورپی ملکوں کے رہنماؤں نے کورونا وائرس سے متعلق اقتصادی بحالی کے منصوبے کے لیے 750 بلین یورو کے پیکج پر اتفاق کر لیا ہے۔
بیلجئم کے دارالحکومت برسلز میں جاری چار روزہ مذاکرات کے بعد یورپی یونین کے رہنماؤں نے منگل کو اقتصادی پیکج کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے قبل کئی ملکوں کے رہنما اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے اور کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کے باعث یہ مذاکرات چار دن اور چار راتوں تک جاری رہے۔
ستائیس ملکوں پر مشتمل یورپی یونین کے مذاکرات کے دوران نیدر لینڈ نے کئی مواقع پر اجلاس سے واک آؤٹ کی دھمکی دی۔ تاہم جرمنی اور فرانس نے رہنماؤں کو کسی معاہدے پر متفق ہونے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ یورپی یونین کونسل کے چیف چارلز مائیکل نے منگل کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہم نے کر دکھایا اور بحالی کے پیکج پر ایک معاہدہ کر لیا ہے۔ ان کے بقول یہ ایک مضبوط معاہدہ ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ یورپ کے لیے درست وقت پر ہوا ہے۔
یورپی ملکوں کے اقتصادی پیکج کا ایک بڑا حصہ یورپ کے اُن ملکوں پر خرچ ہو گا جو کورونا وائرس سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان ملکوں میں اسپین اور اٹلی نمایاں ہیں جنہوں نے یونین کے دیگر ملکوں کی حمایت کے لیے بھرپور لابنگ کی تھی۔ اسپین میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ اور اٹلی میں بھی لگ بھگ ڈھائی لاکھ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح جرمنی میں دو لاکھ اور فرانس میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
سویڈن، بیلجئم، یوکرین، نیدرلینڈ، پرتگال، پولینڈ اور دیگر یورپی ملکوں میں کرونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ کے اندر اندر ہے اور بیشتر ملکوں میں کاروبار کھلا ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں نے اقتصادی بحالی کے پیکج کو بڑی کامیابی اور آج کے دن کو تاریخی قرار دیا ہے۔
نیدرلینڈ کی سربراہی میں گروپ میں شامل بعض شمالی ملکوں نے پیکج کی مخالفت کی اور اسے غیر ضروری قرار دیا ہے۔ اقتصادی بحالی کے معاہدے کے تحت 390 بلین یورو کورونا وائرس سے متاثرہ ملکوں کو گرانٹ کی مد میں دیے جائیں گے جب کہ 360 بلین یورو قرض کی شکل میں تقسیم ہوں گے۔
یورپین کمیشن متاثروں ملکوں میں رقم کی تقسیم کا ذمہ دار ہو گا جب کہ متاثرہ ملکوں میں اخراجات کے منصوبے پر یونین کے 27 ملک اکثریتی بنیاد پر مداخلت کر سکیں گے۔ یورپی یونین کے ممبر ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے منظور کردہ پیکج پر مزید تیکنیکی بات چیت کے لیے اس کی یورپی پارلیمنٹ سے بھی منظوری درکار ہے۔ جمعرات کو یورپین پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس پیکج کی توثیق کا امکان ہے۔