مسلمانوں کو اپنی انتظامیہ میں شامل کروں گا: بائیڈن کا وعدہ

  • بدھ 22 / جولائی / 2020
  • 4820

ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر وہ صدر بنے تو روزمرہ کے معاملات پر امریکی مسلمانوں کی تجاویز اور خدشات کو پیشِ نظر رکھیں گے اور مسلمان  آوازوں کو اپنی انتظامیہ میں شامل کریں گے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار امریکی مسلمانوں کی تنظیم 'ایمگیج ایکشن' کی آن لائن تقریب 'ملین مسلم ووٹس' سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کئی منتخب امریکی مسلمانوں نے تنظیم کے نام خط میں آئندہ صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں منی سوٹا کی رکن کانگریس الہان عمر، منی سوٹا کے اٹارنی جنرل کیتھ ایلیسن اور انڈیانا کے رکن کانگریس آندرے کارسن شامل ہیں۔

جو بائیڈن نے کہا کہ صدر بننے کے بعد روزمرہ کے ان معاملات میں امریکی مسلمانوں کی تجاویز اور خدشات جاننے کی کوشش کروں گا، انہیں سنوں گا اور ان پر عمل کروں گا، جو ہماری کمیونیٹیز کے لیے اہم ہیں۔ ان میں مسلمان آوازوں کو اپنی انتظامیہ کا حصہ بنانا شامل ہوگا۔ اگر مجھے صدر بننے کا اعزاز حاصل ہوا تو میں پہلے ہی دن مسلمانوں کے امیگیریشن  پر پابندی ختم کردوں گا۔ جو بائیڈن کا اشارہ اس پابندی کی طرف تھا جو ٹرمپ انتظامیہ نے بعض مسلمان ملکوں کے شہریوں کے امریکہ آںے پر عائد کی ہوئی ہے۔

جو بائیڈن نے کہا کہ 'ہم سب کے بنیادی عقائد ایک جیسے ہیں۔ اور میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اس سال نومبر کے انتخابات میں اہم کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ آپ وہ کام کر رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔ آپ نومبر میں 10 لاکھ مسلمانوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹر کر رہے ہیں۔ یہ اہم ہے۔ آپ کی آواز آپ کا ووٹ ہے۔ آپ کا ووٹ آپ کی آواز ہے۔ امریکی مسلمانوں کی آوازیں اہمیت رکھتی ہیں'۔

سینیٹر بائیڈن نے کہا کہ میں آپ کا ووٹ اس لیے نہیں مانگ رہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کے اہل نہیں ہیں۔ میں آپ کی شراکت میں کام کرنا چاہتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ جب ہم قوم کی تعمیر نو کریں تو فیصلہ سازی میں آپ شامل ہوں۔ امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر اس سے پہلے برنی سینڈرز کی حمایت کررہی تھیں۔ لیکن اپریل میں ان کی صدارتی مہم ختم ہونے کے بعد وہ جو بائیڈن کی حمایت کررہی ہیں۔ سابق نائب صدر صدارتی انتخاب میں مسلمان ووٹروں کو متحرک کرنا چاہتے ہیں۔

کئی اہم ریاستوں میں مسلمان ووٹرز کی تعداد فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔ 2016 کے انتخاب میں صدر ٹرمپ کو مشی گن میں 11 ہزار سے کم ووٹوں سے کامیابی ملی تھی۔ اس ریاست میں مسلمان ووٹروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ ہے۔

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے نہ صرف مسلمان ملکوں کے شہریوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگائی بلکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے بھی دستبردار ہوئی ہے جس کی وجہ سے امریکی مسلمان رہنما اس پر تنقید کرتے رہے ہیں۔