کلبھوشن کے لیے وکیل مقرر کرنے کی درخواست

  • بدھ 22 / جولائی / 2020
  • 4690

وزارتِ قانون نے موت کی سزا پانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے قانونی نمائندہ مقرر کرنے کی درخواست کی ہے۔

بدھ کو دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عالمی عدالتِ انصاف نے کلبھوشن کو فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کرنے کا موقع دیا ہے۔ وفاقی وازرتِ قانون کے مطابق، درخواست فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے حال ہی میں جاری کیے گئے آرڈیننس کے تحت خود حکومت نے دائر کی ہے جس میں عدالت سے کلبھوشن یادیو کی نظر ثانی درخواست کے لیے نمائندہ مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ 20 مئی 2020 کو پاکستان میں ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا تھا جس کے تحت کلبھوشن یادیو کو 60 روز کے اندر اپنی سزا کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کرنے کا موقع دیا گیا تھا۔  پاکستانی حکام کے مطابق کلبھوشن نے سزا کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں بدھ کو دائر کردہ حکومتی درخواست میں کہا گیا ہے کہ قومی مفاد میں عدالت کلبھوشن یادیو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرے اور حکم دے تاکہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت پاکستان کی ذمہ داری پوری ہو۔ پاکستان کی فوجی عدالت نے جاسوسی، دہشت گردی اور تخریب کاری کے الزامات کے تحت اپریل 2017 میں کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی۔

وزارت قانون نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ بھارتی کمانڈر کلبھوشن یادیو نے اپنی سزا سے متعلق نظر ثانی اپیل دائر کرنے سے انکار کر دیا ہے جب کہ بھارت نے بھی پاکستان کی جانب سے نظر ثانی اپیل کی سہولت کا فائدہ اٹھانے سے گریز کیا ہے۔ وزارتِ قانون نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایک وکیل مقرر کرے جو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق کلبھوشن کو فوجی عدالت سے سنائی جانے والی سزا کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اور فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی پیروی کرے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ کلبھوشن کے انکار کے بعد اس کے علاوہ اس کے پاس آزاد ذرائع موجود نہیں کہ خود سے وکیل کر لے۔ درخواست میں ایڈووکیٹ جنرل برانچ، پاکستانی فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) اور وزارتِ دفاع کو فریق بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو جاسوسی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت 2016 میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ کلھبوشن بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور ان کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے ہے۔ لیکن بھارت اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہہ چکا ہے کہ کلبھوشن بحریہ کے ریٹائرڈ افسر ہیں جن کا ’را‘ سے کوئی تعلق نہیں۔

عالمی عدالت انصاف نے 17 جولائی 2019 میں فیصلہ سنایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان، کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی اور سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق دے۔