صحافی مطیع اللہ جان گھر واپس پہنچ گئے
- بدھ 22 / جولائی / 2020
- 5560
اسلام آباد سے اغوا کئے گئے صحافی مطیع اللہ جان بارہ گھنٹے بعد رات گئے گھر پہنچ گئے۔ اُنہیں راولپنڈی سے 30 کلو میٹر دور فتح جنگ کے مقام پر گاڑی سے اتارا گیا تھا۔
اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس تھری سے منگل کی صبح اغوا ہونے والے صحافی مطیع اللہ جان 12 گھنٹوں کے بعد اپنے گھر واپس پہنچے۔ نامعلوم افراد نے اُنہیں اغوا کیا اور اس کے بعد انہیں ایک کمرے میں بند کر دیا۔ شام کے وقت اغوا کار انہیں گاڑی میں لے کر مختلف سڑکوں پر گھماتے رہے اور رات گئے فتح جنگ کے قریب چھوڑ دیا گیا۔
مطیع اللہ جان سے رہائی کے بعد ملنے والے ان کے صحافی دوست اعزاز سید نے ان کی رہائی کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کی رہائی کے بعد ہماری ملاقات ہوئی ہے اور وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ اغوا کاروں نے ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا۔ اس اغوا کا کیا مقصد تھا اور انہیں کیوں اغوا کیا گیا؟ اعزاز سید نے کہا کہ اس بارے میں مطیع اللہ جان ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ فی الحال انہوں نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی کہ اغوا کاروں کا کیا منصوبہ تھا اور انہیں اغوا کیوں کیا گیا اور پھر رہا کیوں کیا گیا۔
اس سے قبل سوشل میڈیا پر مطیع اللہ جان کو زبردستی ایک گاڑی میں بٹھا کر لے جانے کی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں۔ مطیع اللہ جان کے اہلِ خانہ اور وفاقی وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے مطیع اللہ جان کے اغوا کی تصدیق کی تھی۔ مطیع اللہ جان پاکستان میں ریاستی اداروں بالخصوص فوج کی سیاست میں مداخلت پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔ چند روز قبل ججز سے متعلق ایک ٹوئٹ پر مطیع اللہ جان کو سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا تھا اور اس نوٹس کی سماعت کے سلسلے میں انہیں بدھ کو عدالت میں پیش ہونا تھا۔
مطیع اللہ جان نے سوشل میڈیا پر ٹویٹ کرتے ہوئے اپنی خیریت اور بازیابی کے متعلق خود بتایا۔ اپنی ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں خیریت سے واپس آگیا ہوں، خدا مجھ پر اور میرا اہلخانہ پر مہربان رہا۔ میں اپنے دوستوں، ملکی و غیر ملکی صحافتی تنظمیوں، سیاسی جماعتوں، سوشل میڈیا اور سماجی کارکنوں، وکلا تنظمیوں اور عدلیہ کا شکر گزار ہوں جن کے فوری ردعمل سے میری واپسی ممکن ہوئی۔‘
بدھ کے روز سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس واقعے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کل جو کچھ ہوا اس کے لیے پوری ریاست ذمہ دار ہے۔‘
مطیع اللہ جان کے بھائی شاہد عباسی نے گذشتہ روز اپنے بھائی کی بازیابی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی کو بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ اگر مطیع اللہ کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا تو حکام بدھ کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں۔
بدھ کو اس معاملے میں ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ دن دیہاڑے جس طرح صحافی کو اٹھایا گیا، کیا سب ادارے تباہ ہو چکے ہیں؟