پاکستان میں کورونا کے زوال کی علامات، امریکہ میں حالات خراب ہوگئے
- جمعرات 23 / جولائی / 2020
- 6020
پاکستان میں کورونا وائرس رو بہ زوال بتایا جارہا ہے۔ صورتحال میں جولائی کے آغاز کے مقابلے میں بہتری دیکھی جارہی ہے۔ یومیہ کیسز کم ہورہے ہیں۔ اس وقت مجموعی مصدقہ کیسز کی تعداد 2 لاکھ 69 ہزار 861 ہے جبکہ 5 ہزار 745 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
دنیا میں کورونا مراثرین کی تعداد ایک کروڑ 53 لاکھ اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو چھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ بھارت میں ہلاکتوں کی کل تعداد 29000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں کیسز کی تعداد نیویارک سے زیادہ ہو گئی ہے۔
امریکہ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 40 لاکھ کے قریب ہو گئی ہے جب کہ ملک میں کورونا کے نئے مریضوں کی تعداد اوسطاً 2600 کیسز فی گھنٹہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ یہ دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی سب سے بلند شرح ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آنے کے 98 روز بعد تعداد 10 لاکھ تک پہنچی تھی۔ کورونا کے کیسز 20 لاکھ تک پہنچنے میں 43 روز لگے جب کہ اس کے اگلے 27 دن بعد تعداد 30 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ کورونا کے آخری 10 لاکھ کیسز صرف 16 روز میں سامنے آئے ہیں۔
امریکہ میں بدھ کو کورونا وائرس سے مزید 1100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جون کے اوائل کے بعد سے یہ دوسرا موقع ہے کہ ایک روز کے دوران کورونا وائرس سے 1000 سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ ریاست الاباما، کیلی فوریا، نیواڈا اور ٹیکساس میں بھی ایک دن کے دوران ہونے والی اموات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکہ میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 1 لاکھ 43 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور لگ بھگ 40 لاکھ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
روس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے پانچ ہزار 848 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد سات لاکھ 95 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ روس کورونا سے متاثرہ ملکوں میں بالترتیب امریکہ، برازیل اور بھارت کے بعد چوتھے نمبر پر ہے جہاں اب تک 12 ہزار سے زائد افراد اس وبا میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
کورونا وائرس کے حوالے سے نئی معلومات بھی سامنے آرہی ہیں۔ امریکا کی نبراسکا یونیورسٹی کی تحقیق میں پہلی بار ثابت کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کھانسی اور چھینک کی بجائے صرف بات کرنے اور سانس لینے سے بھی ایک سے دوسرے فرد تک منتقل ہوسکتا ہے۔ تحقیق میں 2 افراد کے درمیان 2 میٹر کے فاصلے کی دوری کو بھی غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ ننھے ذرات اس سے بھی زیادہ دور تک سفر کرسکتے ہیں۔