پی آئی اے کو فروخت نہین کیا جائے گا بلکہ اس کی تشکیلِ نو ہوگی: وزیر ہوا بازی غلام سرور

  • جمعہ 24 / جولائی / 2020
  • 4510

وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور نے کہا ہے کہ حکومت  قومی ایئرلائن کی نجکاری نہیں کرنا چاہتی۔ نجکاری فہرست میں پی آئی اے شامل نہیں ہے بلکہ ہمیں اس کی تشکیل نو کرنی ہے۔

ایوان بالا  میں تقریر کرتے ہوئے غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ ہم پی آئی اے کی تشکیل نو کرنی ہے۔ ہم اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔  تاہم ان کا کہنا تھا کہ لائسنسنگ اتھارٹی پر ہماری پوری نظر ہے اور ذمہ داران کے خلاف ایکشن ہوگا۔ جن لوگوں نے لائسنسز پر دستخط کیے ان کا بھی احتساب ہوگا۔

وزیر ہوابازی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی مداخلت سے اسناد کی تصدیق کا عمل شروع ہوا تھا جس کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے اپنے طور پر پائلٹ لائسنسز پر بھی کام شروع کیا اور جب تصدیق اور انکوائری کی گئی تو بہت سارے پائلٹس کے لائسنسز مشکوک پائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پائلٹس کو شوکاز نوٹس دیا گیا، چارج شیٹ دی گئی، ان کو ذاتی حیثیت میں سماعت کے لیے بلایا گیا اور کچھ نے تو اعتراف بھی کیا جن کی تعداد کافی زیادہ تھی۔  وفاقی وزیر نے کہا کہ جس کے بعد فروری 2019 میں 22 گریڈ کے افسر کی سربراہی میں ایک تحقیقات بورڈ تشکیل دیا گیا جس میں آئی ٹی کے ماہرین بھی شامل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امتحان کا نیا طریقہ کار 2020 میں متعارف کروایا گیا ہے۔

وزیر ہوابازی نے کہا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ پائلٹس امتحان میں غلط طریقہ اختیار کیا جاتا تھا، جس کے بعد فرانزک انکوائری ہوئی۔ اور 262 پائلٹس کے لائسنسز مشکوک پائے گئے۔ غلط طریقے سے کوئی دستاویز حاصل کیا جائے تو اسے جعلی سمجھ کر منسوخ کیا جاتا ہے۔ لہذا تمام کارروائی کے بعد جب 28 پائلٹس پر یہ ثابت ہوگیا کہ انہوں نے غلط طریقے سے لائسنس لیے تو ان کے لائسنسز منسوخ کیے گئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی یہ تسلیم کیا ہے کہ لائسنسز تو انہوں نے ہی جاری کیے تھے اور سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں بھی 262 پائلٹس کی تعداد شامل ہے، جس پر عدالت عظمیٰ نے اس تعداد کی توثیق کی، سخت ایکشن لینے کا کہا اور اتھارٹی کی سرزنش بھی کی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کس کس نے سہولت کاری کی اور کچھ لین دین ہوا ہوگا جس میں لینے والا اور دینے والا برابر کے مجرم ہیں۔ امتحان کس کی جگہ کس نے بیٹھ کردیا۔ دونوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

غلام سرور نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی سیاسی مقصد، کوئی بلیم گیم نہیں ہے۔ بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ نیک نامی یا بدنامی یہ بعد کی بات ہے پہلے انسانی جانوں کو محفوظ رکھنا، سفر کو محفوظ بنانا یہی ہمارا مقصد تھا۔ اسی لیے انکوائری اور کارروائی ہوئی، ہماری نیت ٹھیک ہے۔

خیال رہے کہ 24 جون کو قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 میں سے 262 پائیلٹس کے لائسنس مشکوک ہیں۔

اس اعلان کے بعد پی آئی کو ہورپ اور متعدد دوسرے ملکوں میں پرواز کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔