آیا صوفیہ میں 86 سال بعد نمازِ جمعہ، صدر اردوان سمیت سینکڑوں افراد کی شرکت

  • جمعہ 24 / جولائی / 2020
  • 7290

ترکی کے شہر استنبول میں واقع آیا صوفیہ میں لگ بھگ آٹھ دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ نمازِ جمعہ ادا کی گئی۔ صدر رجب طیب اردوان سمیت کئی اہم رہنما اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

 1934 جدید ترکی کے بانی اتاترک نے آیا صوفیہ کو مسجد کی بجائے میوزیم بنانے کا فیصلہ کیا تھا جسے جدید سیکولر ترکی کی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ ترکی کی سب سے بڑی عدالت نے چند ہفتے پہلے آیا صوفیہ کو ایک بار پھر مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا۔

نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے حکام نے آیا صوفیہ کے باہر خواتین اور مرد حضرات کے لیے علیحدہ علیحدہ جگہ کا انتظام کیا تھا جب کہ مسجد کی طرف جانے والی متعدد سڑکوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ ترک صدر اردوان کابینہ کے اہم وزرا کے ہمراہ نماز کے لیے مقررہ وقت سے قبل ہی مسجد پہنچے اور قرآن کی تلاوت بھی کی۔

نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے لگ بھگ 20 ہزار سیکیورٹی اہل کار تعینات کیے گئے تھے۔ آیا صوفیہ سے ملحقہ گلیوں اور بازاروں میں بھی شہریوں کی بڑی تعداد نے نماز جمعہ ادا کی۔ ترک میڈیا کے مطابق نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے قطر اور آزربائیجان سمیت کئی مسلمان ممالک کے رہنماؤں کو دعوت دی گئی تھی۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے چھٹی عیسوی میں تعمیر ہونے والی اس عمارت کو مسجد کا درجہ دینے کی توثیق کرتے ہوئے  اسے مسلمانوں کے لیے کھولنے کے احکامات 24 جولائی کو جاری کئے تھے۔ اس طرح کئی عشروں بعد پہلی مرتبہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کا اعلان کیا تھا۔

جمعرات کو صدر طیب اردوان نے آیا صوفیہ میں نصب کی گئی تختی کی نقاب کشائی کی جس میں اسے 'آیا صوفیہ گرینڈ موسک' کا نام دیا گیا۔ ترکی میں مذہبی اُمور کے سربراہ علی ارباز نے آیا صوفیہ کے لیے تین مؤذنوں کی تقرری کا بھی اعلان کیا تھا جن میں سے دو کا تعلق استنبول کی مشہور سلطان احمد مسجد (بلیو موسک) سے ہے۔

آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے پر یونان، امریکہ اور کئی یورپی ملکوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا جب کہ یونیسکو نے بھی ترک حکومت کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ یونان کے وزیر خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا تنازع صرف یونان اور ترکی کے درمیان نہیں ہے۔  وہ عالمی سطح پر اس معاملے کو اُٹھائیں گے۔

آیا صوفیہ کو 1934 میں جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک نے مسجد سے میوزیم میں تبدیل کر دیا تھا جب کہ ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردوان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اسے دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے لیے ترک حکام نے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا تھا۔ نماز کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے عمارت میں تیزی سے ردو بدل کیا گیا ہے۔

بعض ناقدین نے عجلت میں عمارت میں کی جانے والی تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے آیا صوفیہ جیسے عالمی ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یونیورسٹی آف پٹس برگ کے پروفیسر تغبہ تنیاری اردیمیر کا کہنا ہے کہ دو ہفتوں میں ماہرین کی رائے کے بغیر عمارت کے ڈھانچے میں ردوبدل کرنے سے آنے والی نسلوں کے لیے اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنا مشکل ہو گا۔

البتہ ترک صدر اردوان کے ترجمان ابراہیم کالن نے کہا تھا کہ آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے دوران عمارت کی شناخت اور تعمیراتی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ مذہبی اُمور کے سربراہ علی ارباز کا کہنا ہے کہ نماز کے اوقات میں عمارت کی دیواروں کو پردوں سے ڈھانپ دیا جائے گا تاکہ دیواروں پر نقش تصاویر عیاں نہ ہو سکیں جس کی اسلام میں ممانعت ہے۔  اُن کے بقول عمارت میں کسی قسم کی توڑ پھوڑ تو درکنار ایک اینٹ بھی نہیں نکالی گئی۔

ترک حکام نے آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے بعد یہاں آنے کے لیے داخلہ فیس بھی ختم کر دی ہے۔ حکام کے بقول عمارت میں میوزیم بدستور قائم رہے گا۔

سن 1985 میں یونیسکو کی 'عالمی تاریخی مقامات' کی فہرست میں شامل ہونے والا آیا صوفیہ بنیادی طور پر گرجا گھر تھا جسے بعد ازاں خلافتِ عثمانیہ کے دور میں مسجد میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ ترک انقلاب کے بعد 1930 کی دہائی میں اسے میوزیم بنا دیا گیا تھا جس کے بعد سے یہاں عبادت پر پابندی تھی۔

استنبول میں واقع آیا صوفیہ کی تعمیر کا حکم بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول نے 532 میں دیا تھا۔ مورخین کے مطابق جسٹنیئن یہاں عیسائیوں کی ایسی عبادت گاہ تعمیر کرنا چاہتے تھے جو سلطنتِ روم کی مزاحمت اور شان و شوکت کی علامت ہو۔ عمارت کی تعمیر کے لیے یورپ، افریقہ اور ایشیا کے کئی ملکوں سے تعمیراتی سامان منگوایا گیا جب کہ لگ بھگ 10 ہزار مزدوروں نے تعمیراتی کام  چھ برس میں مکمل کیا۔

537 میں آیا صوفیہ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد گرجا گھر میں عیسائیوں کی مذہبی رسومات منعقد کی گئیں اور اگلے 900 سال تک آیا صوفیہ گرجا گھر کے طور پر برقرار رہا۔ تاہم  1453 میں عثمانی فوجوں نے استنبول شہر پر قبضہ کیا تو اسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔

مورخین کے مطابق سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں سلطان محمد الفاتح نے نو سو سال کے دوران آنے والے زلزلے، طوفان اور جنگوں کے باعث آیا صوفیہ کو پہنچنے والے نقصانات کے بعد بڑے پیمانے پر عمارت کی مرمت کا کام بھی کرایا جو بعد میں آنے والے حکمرانوں کے دور میں بھی ہوتا رہا۔

استنبول شہر میں 1616 میں سلطان احمد مسجد جسے 'بلیو موسک' بھی کہا جاتا ہے، کی تعمیر تک آیا صوفیہ شہر کی مرکزی مسجد تھی۔ بعد ازاں جدید ترکی کے بانی اور پہلے صدر مصطفی کمال اتا ترک کے حکم پر آیا صوفیہ کو میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا جسے 1935 میں عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال 30 لاکھ سے زائد سیاح آیا صوفیہ دیکھنے آتے ہیں۔