چوہدری برادارن نے منی لانڈرنگ کی اور اثاثے بنائے: نیب

  • ہفتہ 25 / جولائی / 2020
  • 4560

قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان مسلم لیگ(ق) کے رہنماؤں چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی پر منی لانڈرنگ کرنے اور غیرقانونی اثاثے بنانے کا الزام لگایا ہے۔

نیب نے چوہدری برادران کے خلاف 20 برس پرانی 3 انکوائریز کے خلاف دائر مشترکہ درخواست کے سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں یہ بات کہی ہے۔ قومی احتساب بیورو نے کہا کہ اب تک کی گئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چوہدری شجاعت حسین اور ان کے اہلخانہ کی دولت 1985 سے 2018 کے درمیان بڑھ کر 2 ارب 55 کروڑ روپے ہوگئی۔

ان کی شیئر ہولڈنگ بھی1985 میں تقریباً 20 لاکھ روپے سے بڑھ کر 50 کروڑ روپے سے زیادہ ہوگئی ہے۔ نیب نے کہا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کے اہلخانہ نے بھی 12 کروڑ 30 لاکھ سے زائد کی جائیداٰدیں حاصل کیں اور ان کے 2 بیٹوں شافع حسین اور سالک حسین نے اپنی ملکیت میں موجود مختلف کمپنیوں کو ڈیڑھ ارب روپے کا قرضہ دیا۔

قومی احتساب بیورو نے اپنے جواب میں کہا کہ 2004 سے چوہدری شجاعت حسین کے بینک اکاؤنٹس میں 58 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کی غیر ملکی ترسیلات وصول کی گئیں۔ نیب کا دعویٰ ہےکہ 5 افراد جنہوں نے رقم بھیجی وہ تفتیش میں شامل ہوئے اور انہوں نے ترسیلات زر بھیجنے سے انکار کیا۔

عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں بتایا گیا کہ درخواست گزار اور ان کے اہلخانہ دیگر ممالک سے غیر واضح رقم پاکستان منتقل کرنے کے لیے جعلی شناختوں کا استعمال کرتے تھے۔

رپورٹ میں پرویز الٰہی سے متعلق کہا گیا کہ درخواست گزار اور ان کے اہلخانہ کی دولت 1985 سے 2018 تک بڑھ کر 4 ارب 6 کروڑ 90 لاکھ روپے ہوگئی اور ان کی شیئرہولڈنگ 1985 سے 2019 تک بڑھ کر 3 ارب روپے ہوگئیں۔ جبکہ ان کے خاندان نے ڈھائی کروڑ روپے کی جائیدادیں بھی حاصل کیں۔

نیب نے الزام لگایا کہ 2004 سے چوہدری پرویز الٰہی کے اہلخانہ کے بینک اکاؤنٹس میں 97 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کی غیر ملکی ترسیلات وصول کی گئیں۔ اب تک رقم بھیجنے والے 3 افراد تحقیقات کا حصہ بنے ہیں اور کوئی پیسہ بھیجنے سے انکار کیا ہے جس سے ثابت ہوا کہ دیگر ممالک سے پاکستان میں پیسہ لانے کے لیے جعلی شناخت کا استعمال کیا گیا۔

 نیب نے کہا کہ درخواست گزاروں کو بارہا طلبی کے نوٹسز جاری کیے گئے تھے تاکہ وہ اثاثوں کے بارے میں مؤقف پیش کریں لیکن وہ تسلی بخش جوابات پیش کرنے میں ناکام رہے۔ پرویز الٰہی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ایک اور انکوائری میں ان پر بطور وزیراعلیٰ پنجاب، بلدیاتی حکومت میں غیرقانونی تقرریوں کا الزام عائد ہے۔

چوہدری برادران کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے نیب نے کہا کہ غیر قانونی اثاثوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کو متعلقہ اتھارٹی نے کبھی بند کرنے کے لیے منظور نہیں کیا تھا اور قانون کے مطابق سختی سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔  نیب نے عدالت سے میرٹس پر پورا نہ اترنے پر مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں کی درخواست خارج کرنے کی استدعا کی۔

بعدازاں نیب کے جواب کے رد عمل میں چوہدری برادران کے ترجمان نے کہا کہ نیب کا ادارہ سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور ان کے خلاف پرانے مقدمات بار بار کھولے اور بند کیے جارہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اگر 20 سال پرانے کیس کی سماعت کرنا کوئی سیاسی انجینئرنگ نہیں ہے تو پھر کیا ہے۔

یاد رہے کہ چوہدری برادران کے خلاف 4 جنوری 2000 کو تفتیش شروع کی گئی تھی جبکہ جولائی 2015 میں نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں زیر التوا 179 مقدمات پیش کیے تھے جن میں یہ مقدمہ بھی تھا۔ اس کے علاوہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین پر 2000 میں 28 پلاٹس کی غیر قانونی خریداری پر اس وقت کے ڈپٹی چیئرمین نیب میجر جنرل (ر) عثمان نے انکوائری کی منظوری دی تھی۔

کئی سال التوا کا شکار رہنے کے بعد 2017 میں دوبارہ انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا جس کے بعد عدالت میں رپورٹ جمع کروائی گئی اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین کے خلاف کوئی بھی دستاویزی یا زبانی شواہد نہیں ملے۔ اس کے بعد لاہور کی احتساب عدالت نے دونوں کے خلاف نیب انکوائری بند کرنے کی منظوری دی تھی۔