کرپشن مقدمات کا فیصلہ 30 دن میں ممکن نہیں: چیئرمین نیب
- ہفتہ 25 / جولائی / 2020
- 4910
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا ہے کہ مقدمات میں درجنوں لووگں کوگواہ بنانا قانونی مجبوری ہے۔ اور 30 روز میں کرپشن مقدمات پر فیصلہ ممکن نہیں۔
عدالت عظمیٰ میں 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام، نیب کارکردگی سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کے بعد چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے جواب جمع کروایا ہے۔ جواب میں چیئرمین نیب نے بتایا کہ موجودہ احتساب عدالتیں مقدمات کا بوجھ اٹھانے کے لیے ناکافی ہیں۔ حکومت کو کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ نیب عدالتوں کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ کئی بار حکومت کو بتایا کہ مقدمات کے بوجھ کی وجہ سے ٹرائل میں تاخیر ہورہی ہے۔
عدالت عظمیٰ کی جانب سے کثیر تعداد میں گواہوں سے متعلق اٹھائے گئے سوال پر چیئمین نیب نے جواب میں لکھا کہ زیادہ گواہ بنانا قانونی مجبوری ہے۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور بلوچستان میں اضافی عدالتوں کی ضرورت ہے۔ ہر احتساب عدالت اوسط 50 مقدمات سن رہی ہے۔
چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں تعیناتی کے لیے 120 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز نہیں تو ریٹائرڈ جج بھی تعینات ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ احتساب عدالتوں کے خلاف اپیلیں سننے کے لیے بھی ریٹائرڈ ججز کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔ نیب عدالتیں ضابطہ فوجداری پر سختی سے عمل کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان کی متفرق درخواستیں اور اعلیٰ عدلیہ کے حکم امتناع بھی کیسز کے فیصلوں میں تاخیر کی وجہ ہے۔ عدالتیں ضمانت کیلئے سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں پر عمل نہیں کرتیں۔ اس کے علاوہ ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کا طریقہ کار بھی وقت طلب ہے۔
عدالت عظمیٰ میں جمع اس جواب کے عدالتوں کی جانب سے 'سیاسی شخصیات' کے لفظ کی غلط تشریح کی جاتی ہے۔ غلط تشریح کے باعث سیاسی شخصیات کا مطلب غیر ملکی اداروں کو سمجھانا مشکل ہوجاتا۔ رضاکارانہ رقم واپسی کا اختیار استعمال کرنے سے سپریم کورٹ روک چکی ہے۔ رضاکارانہ رقم واپسی کی اجازت ملے تو کئی کیسز عدالتوں تک نہیں پہنچیں گے۔
خیال رہے کہ 8 جولائی کو لاکھڑا کول مائننگ پلانٹ کی تعمیر میں بے ضابطگیوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سیکریٹری قانون کو حکم دیا تھا کہ وہ کم از کم 120 احتساب عدالتیں قائم کرنے کے لیے حکومت سے فوری طور پر ہدایات حاصل کریں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ نیب ریفرنسز کا فیصلہ تو 30 دن میں ہونا چاہیے۔ لگتا ہے 1226 ریفرنسز کے فیصلے ہونے میں ایک صدی لگ جائے گی۔
بعد ازاں 23 جولائی کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ذمہ دار نیب ہے۔ کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا آغاز ہی نیب کے دفتر سے ہوتا ہے۔ قانونی پہلوؤں کا تفتیشی افسران کو پتا ہی نہیں ہوتا اور اس طرح برسوں تحقیقات چلتی رہتی ہیں۔