بدلتا ہوا ورلڈ آرڈر اور پاکستان کی مشکل

  • تحریر
  • ہفتہ 25 / جولائی / 2020
  • 8030

یہ صدی ایشیا کی ہے  اور  اس صدی  میں امریکہ کی بجائے ایشیاء کا ایک بڑا  ملک  چین  ایک بر تر   طاقت ہو گا۔  روس کا شیرازہ بکھرنے کے  بعد دنیا  ایک قطبی یعنی یونی پولر ہو گئی جس میں امریکہ ہی واحد سپر پاور تھی۔ اب پچھلے دس پندرہ سال کے دوران  دنیا میں طاقت کا توازن بہت تیزی سے بد لا ہے اور بدل رہا ہے۔

 چین  معاشی طاقت  کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی اور ٹیکنالوجی پاور ہاؤس کے طور پر سامنے آیا ہے۔ چین امریکی ٹریڈ وار  اس بدلتے ہوئے  طاقت کے توازن  کا ایک بالواسطہ یعنی پراکسی  اظہار ہے، یہ سلسلہ یہاں رکنے والا نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ چین کا  بطور اولین سپر پاور  سفر پر  امن  ہو گا یا  مسلح تصادم  پر منتج ہوگا؟ شکاگو یونی ورسٹی  کے پروفیسر جان میر شائمر  پولیٹکل سائنس کے استاد ہیں، چین ان کا خاص موضوع ہے اور اس سوال  کو انہوں نے  خصوصی توجہ کا مرکز بنایا ہے ۔ اس موضوع پر وہ کئی کتابیں لکھ چکے ہیں،  ان کے مضامین اور گفتگو کا حاصل یہ ہے  کہ آج تک تاریخ میں کسی بھی نئی سپر پاور کا ظہور مسلح تصادم کے بغیر ممکن نہیں ہوا۔ پہلے سے موجود سپر پاور یا پاورز  اپنا  تسلط رضاکارانہ نہیں  چھوڑتیں، حالات کا بہاؤ انہیں ایسے مقام پر  لے آتا ہے کہ مسلح تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم اور کولڈ وار  کا ایک جوہری سبق یہ  تھا کہ براہ راست جنگیں  ان طاقتوں کو کمزور کر دیتی ہیں۔  اس لئے بڑی بڑی  مسلح طاقتیں  براہ راست  تصادم سے گریز کی پالیسی پر گامزن رہیں۔ مختلف معاہدے اور ادارے قائم  کئے  گئے  کہ ان پلیٹ فارمز پر گفتگو، رابطے، باہمی نگرانی  کے فریم ورک کی  صورت بنی رہے۔ یہ  صدی شروع ہوئی تو  معاشی میدان میں کامیابی کے چبوترے پر  براجمان ملکوں کی ترتیب بدلنے لگی۔  چین کی معاشی ترقی، ٹیکنالوجی میں مہارت اور پیداواری صلاحیت میں حیران کن وسعت ہوئی۔ جس کے سبب پچھلے بیس سالوں سے  یہ کیفیت ہے کہ دنیا بھر کی پیداواری صلاحیت ایک طرف اور اکیلے چین کی ایک طرف۔  اسی لئے عموماً   چین کو دنیا  کی فیکٹری بھی کہا جاتا ہے۔ 

کارزارِ معیشت میں اس کامیابی نے چین  کے زرمبادلہ کے ذخائر  کو دنیا میں پہلے نمبر پر لا کھڑا کیا ہے۔   جبکہ دوسری طرف سپر پاور امریکہ کا سالانہ تجارتی خسارہ سینکڑوں ارب  ڈالرز ہوتا ہے، بجٹ خسارہ بھی اسی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ خسارہ مختلف النوع بانڈز یا سرمایہ کاری  اسکیموں کے ذریعے  اور کرنسی چھاپ کر پورا کیا جاتا ہے۔ چین  امریکہ کے ان مالیاتی  انسٹرومنٹس   کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ 

چین نے 2013 سے ون بیلٹ ون روڈ  منصوبے  کا آغاز کیا۔ کھربوں ڈالرز کے اس منصوبے کی  رسائی پچپن سے زائد ممالک تک  ہوگی۔  شنگھائی تعاون اور  برکس معاشی بلاک،  ایک نئے عالمی ڈویلپمنٹ  مالیاتی ادارے کے قیام سمیت چین نے دنیا  کے بیشتر ممالک میں سرمایہ کاری کے  ذریعے اپنی موجودگی  اور اہمیت کو منوایا ہے۔  معاشی قوت  کے ساتھ  ساتھ دنیا میں سیاسی، سفارتی  اور  کلچرل  تعلقات کی وسعت  کی صورت میں چین کے نقشِ قدم  ناقابل تردید حقیقت ہیں۔یہ صدی ایشیا کی ہو گی اور اس میں ایک ایشیائی ملک چین بطور ایک سپر پاور  کے طور پر سامنے آئے گا، یوں امریکہ کی برتری  کم از کم واحد سپر پاور کے  طور پر برقرار نہیں رہ سکے گی۔

 یہ تجزئے اپنی جگہ  حقیقت  اور حسبِ حال ہیں  مگر  یہ سب کچھ اتنا آسانی سے ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا اور نہ ہی واحد سپر پاور اپنا اسٹیٹس یوں بدلتے برداشت کر  سکے گی۔   پہلا ردِ عمل امریکہ  میں صدر ٹرمپ کے دورِ صدارت میں سامنے آیا جو بظاہر ٹریڈ وار پر مبنی تھا۔ امریکہ نے  چین  سے درآمدی مصنوعات  پر پابندیاں عائد کیں۔ امریکہ کی توقع  کے  عین برخلاف چین نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے امریکہ  سے درآمدی اشیا کی کئی  اقسام  پر پابندیاں اور ٹیکسز عائد کر دئے۔  ٹرید وار کا کارزار گرم ہوا تو دونوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات میں کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر ایک  نئے انداز میں  تجارتی تعلقات پر اتفاق ہوا۔  نئی تجارتی ڈیل ہوئی مگر دوسرے مرحلے کی نوبت نہیں آئی۔ اس دوران 5 جی  ٹیکنالوجی پر دسترس رکھنے والی کمپنی پر پابندیاں عائد کر دی گئیں، اس کمپنی کی  چیف فنانشل آفیسر کو کینیڈا میں امریکہ کے کہنے پر گرفتار کر لیا گیا، جس کے جواب میں چین نے دو کینیڈین شہریوں کو چین میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا۔اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی  یہ تھی  کہ برطانیہ نے بھی بالآخر اس کمپنی  کے ساتھ  فائیو جی معاہدے سے دستبراری اختیار کر لی۔

 ابھی  اس اقدام کی گرد بیٹھی نہ تھی کہ ایران اور چین کے درمیان پچیس سالہ معاہدہ طے پایا۔ اس کے مطابق  بھارت کو چاہ بہار  اور  ریل منصوبے سے علیحدہ کر دیا گیا۔ پاکستان  میں  جاری سی پیک  منصوبے   پر پہلے ہی امریکہ تنقید کرتا آیا ہے۔ اس خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ  کو امریکہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرے گا۔ اس بدلتے منظر نامے میں پاکستان  کو آزاد خارجہ پالیسی برقرار رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج  ہوگا۔   دونوں سپر پاورز کے درمیان پراکسی  وارز  کا سلسلہ شروع ہے۔ اگر  پروفیسر جان میر شائمر  کے استدلال پر جائیں تو یہ   سب کچھ تصادم کی جانب بھی لے جا سکتا ہے۔

 دو ہاتھیوں کی اس لڑائی میں دنیا کے دیگر ممالک کی کافی  گھاس زد میں آ سکتی ہے۔ پاکستان  کی سفارت اور قیادت کا امتحان ہوگا کہ کس طرح اپنے آپ کو کسی ممکنہ تصادم یا ادلے  بدلے  کے نقصان سے  بچائے رکھے۔ بھارت پہلے ہی اس موقع کی تاک میں ہے۔ بدلتے ہوئے نئے  دو قطبی یا سہ قطبی  ورلڈ آرڈر کی تشکیل اس قدر آسان  دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان کو اپنے پتے سوچ سمجھ کر اور دور رس امکانات  کے ادراک  کے مطابق کھیلنے ہوں گے۔  ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام ان فیصلوں کے لئے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ بد قسمتی سے سیاسی اور معاشی استحکام دونوں ہی  فی الوقت حوصلہ افزا نہیں۔

 کووڈ19  نے اس صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔قرضوں پر دارومدار  نے سیاسی خود مختاری اور آزاد خارجہ   پالیسی کے لئے پہلے ہی سپیس بہت محدود کر رکھی ہے، اس پر مستزاد  خطے میں سیکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بدلتا  توازن مزید نئے چیلنجز کا باعث ہو گا۔  آنے والے سال بہت پیچیدہ اور مشکل چیلنجز کا  باعث ہو سکتے ہیں۔