آیا صوفیہ: چرچ یا میوزیم؟

یونانی میں ہاجیہ صوفیہ اور ترکی میں آیا صوفیہ کہلانے والے اس مقام کے معنی  مقدس دانش یا پاکیزہ شعور ہیں۔  پہلی مرتبہ قسطنطنیہ میں اس عظیم الشان آرتھو ڈوکس چرچ کی تعمیر 360 عیسوی میں رومن شہنشاہ قنسطنطین اعظم نے کی۔ اس میں لکڑی کا استعمال زیادہ تھا۔ اسے آگ لگی تو 415 عیسوی میں تھیوڈوس دوم کے ہاتھوں اس کی تعمیر نو ہوئی۔

اس بار بھی چھت لکڑی ہی کی تھی سو وہی مسئلہ پھر پیدا ہو گیا پھر قیصر روم جسٹینین نے 532 عیسوی سے 537 تک اس چرچ کی تعمیر اس شان و شوکت اور مضبوطی سے کروائی کہ ما بعد کئی مواقع پر اس کی مرمت وغیرہ تو ہوئی جیسے کہ 562 میں زلزلے سے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا تو تعمیر و مرمت زیادہ مضبوطی کے ساتھ کر دی گئی۔ اب قریباً پندرہ صدیاں گزرنے کے باوجود اس تاریخی چرچ کی دیو ہیکل عمارت اسی آن بان اور شان سے ایستادہ ہے۔

ڈاکٹر جاوید اقبال نے خاکسار کو ہدایت کی تھی کہ دو مقامات کی سیاحت ضرور کرنا۔ ایک آیا صوفیہ اور دوسرے قونیہ میں رقصِ درویش۔ اْسی سال جب ڈاکٹر صاحب کی وفات ہوئی تو استنبول یونیورسٹی کی طرف سے ایک کانفرنس میں شرکت کا مجھے دعوت نامہ ملا۔ سو وہاں قیام کے دوران ایک روز دوستوں کے ساتھ اس سیاحتی حب کو وزٹ کرنے نکلے۔ گھومتے گھماتے جب یہاں پہنچے تو نہ صرف اس کی طویل صدیوں پر محیط تاریخ دماغ میں گھوم گئی بلکہ اس کا پورا اسٹرکچر ہوشربا اور ایسا متاثر کن لگا کہ اگلے روز دوستوں کے بغیر پورا دن ادھر گزارنے کا پروگرام بنایا۔ اور کوشش کی کہ کوئی حصہ ملاحظہ کئے بغیر نہ چھوڑا جائے۔ اہم مقامات اور کتبوں کی بہت سی تصاویر بھی بنائیں، مختلف ممالک بالخصوص مغربی ممالک سے آئے سیاحوں کے تاثرات بھی معلوم کیے جو یہاں آنا ایسے ہی سمجھ رہے تھے جیسے وہ ’عمرے‘ پر آئے ہوئے ہوں۔

آرتھو ڈوکس مسیحیوں کے لئے تو اس کی حیثیت شاید ایسے ہی ہے جیسے ہم مسلمانوں کے لئے کعبے کی۔ اس حوالے سے بہت سی کہانیاں پڑھیں اور مغربی ممالک بالخصوص یونان سے آئے ہوئے لوگوں کی زبانی سنیں۔ مشرقی و مغربی یورپ سے آئے لوگ دوسروں کی طرح لائن میں لگے باری آنے پر مخصوص مقام پر خاص طریقے سے انگوٹھا ڈال کر ہاتھ گھماتے پائے گئے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہاں بھی منتیں پوری ہوتی ہیں اور ان کی کئی روحانی الجھنوں کا مداوا ہوتا ہے۔ ہم نے اْس مقام کی بھی تصاویر بنائیں جہاں مسیحی اپنے بچوں کو تالاب میں ڈبکی لگواتے ہوئے روحانی پیشوا سے بپتسمہ دلوایا کرتے تھے۔ قیصر روم کی تاج پوشی کا مخصوص مقام بھی قابلِ ملاحظہ تھا۔ آرتھو ڈوکس چرچ کے سربراہ کا عہدہ آج تک یہاں قائم ہے اور وہ اپنے نام کے ساتھ ’سربراہ کلیسائے قسطنطنیہ‘ لکھتا ہے۔ ساحلِ سمندر کی خوبصورتی میں اس عظیم چرچ کے ایک طرف عثمانی سلاطین کے محلات ہیں جو اب میوزیم بنائے جا چکے ہیں جبکہ دوسری طرف عظیم بلیو مسجد ہے۔ آیا صوفیہ کے ساتھ کچھ سلاطین کے مزارات بھی خوبصورتی کے ساتھ سجے ہوئے ہیں البتہ شہنشاہ جسٹینین کا تاریخی مجسمہ اب نہیں ہے۔

اس چرچ کی ہسٹری میں یہ لکھا ہے کہ 537 میں جب قیصر روم جسٹینین نے اس کا افتتاح کیا تو بیت المقدس کی طرف دھیان کرتے ہوئے اس کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے:

اے کنگ سلیمان! آج میں آپ سے بازی لے گیا‘۔ مسیحی دنیا کے ایک ہزار سال تک مذہبی و روحانی مرکز کی حیثیت سے پیروکاران میں یہ عقیدہ سرایت کر گیا تھا کہ یہ کلیسا ہر مشکل میں ان کی مدد کرے گا۔ کوئی اسے فتح نہیں کر سکے گا۔ 29مئی 1453 کو جب عثمانی سلطان محمد فاتح قسطنطنیہ میں داخل ہو رہا تھا تو اتنے زیادہ مسیحی اس کلیسا میں پناہ لیے ہوئے تھے کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور وہ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ جب فاتحین قسطنطینِ اعظم کے خاص ستون تک پہنچیں گے تو آسمان سے ایک فرشتہ اْترے گا اور انہیں واپس دھکیل دے گا۔ مگر انہیں کیا معلوم کہ  ’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘ اور  ’کر سکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی / اے پیر حرم تیری مناجات سحر کیا‘۔

مذہبی خوش عقیدگی سے ہٹ کر یہ کلیسا بلاشبہ تعمیراتی فن کا شاہکار ہے۔ شہنشاہ جسٹینین نے اس کا تعمیراتی سامان کہاں کہاں سے منگوایا اور کاریگروں نے کس آرٹ سے بنایا، آرکیٹیکٹ کی مہارت جاننے والوں کے لئے سلیبس میں پڑھایا جانے والا طویل مضمون ہے۔ یوں سمجھیے کہ مابعد ترکوں نے جتنی بھی مساجد بنوائی ہیں یا دیگر تعمیرات ہیں، چاہے سنان نے یا دوسروں نے کاریگری دکھائی ہے ان سب کے سامنے آیا صوفیہ ہمیشہ ایک ماڈل کی حیثیت سے رہا ہے۔ خانہ کعبہ کے برآمدوں اور مسجد نبویؐ کی تعمیرات کو اگر باریکی سے ملاحظہ کریں تو اس کی جڑ آیا صوفیہ میں ملے گی۔

ہمارے آقا آنحضرتؐ کو قسطنطنیہ کے مسیحی رومیوں کے ساتھ کتنا لگاؤ تھا جن لوگوں نے قرآن مجید کی ’سورۃ الروم‘ پڑھی ہے وہ اس سے بے خبر نہیں ہیں۔ ابتدائی کلام ملاحظہ ہو الم غلبت الروم

قریب کی سرزمین میں رومی مغلوب ہو گئے ہیں اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند برسوں کے اندر وہ غالب آ جائیں گے اور اس روز خدا کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوش ہوں گے‘۔

ہم اس پر الگ سے بحث کریں گے کہ قرآن نے ایرانیوں کے بالمقابل قسطنطنیہ کے ان مسیحی رومیوں کی اتنی واضح حمایت کیوں کی جنہوں نے آیا صوفیہ یعنی شعور کا بول بالا کرنے والا زیر بحث کلیسا تعمیر کیا تھا۔ یہ کلیسا پیغمبر اسلامؐ کی پیدائش سے محض 34برس قبل دوبارہ تعمیر ہوا تھا۔ 1453 سے تاحال ترک مسلمان صرف ایک کلیسا نہیں پورے استنبول کے مالک و وارث ہیں۔

 اسلام ہی ہمیں یہ تاکید کرتا ہے کہ دوسروں کی عبادت گاہوں کا تقدس و احترام کرو قرآن میں ہے کہ خدا یہی چاہتا ہے کہ تمام مذاہب کی عبادت گاہیں اسی طرح محفوظ رہنی چاہئیں جس طرح مساجد۔ حکم دیا گیا ہے کہ تم ان کے جھوٹوں کو بھی برا نہ کہو تاکہ وہ آپ کے سچے کو برا نہ کہیں ۔ سیدنا عمر ؓ  کا مشہور واقعہ ہے کہ انہوں نے اپنے دورہ یروشلم میں پورا اہتمام کیا کہ مسلمان کہیں مابعد میں مسیحیوں کے چرچ کو مسجد بنانے کی کوشش نہ کریں ۔ ہمارے لئے عثمانی خلفا حجت نہیں ہیں جو اپنے بیس بیس بھائیوں کو بے دردی سے قتل کروا دیتے تھے، سیدنا عمر فاروقؓ ضرور حجت ہیں۔ استنبول میں کسی نے ناچیز کے کان میں کیا خوب کہا کہ جس عثمانی خلیفہ نے جتنے زیادہ بھائیوں کو قتل کیا اتنی اونچی مسجد بنوائی ۔

1453 میں تو ضرورت کہی جاسکتی تھی مگر 1616 کے بعد جب اتنی بڑی بلیو ماسک تعمیر ہوگئی جو آیا صوفیہ سے محض پانچ منٹ کی مسافت پر ہے، کوئی ضرورت نہیں تھی کہ کسی دوسرے مذہب کے روحانی مرکز کو جبری مسجد بناتے۔ استنبول تو ویسے ہی جگہ بہ جگہ بڑی بڑی مساجد سے بھرا پڑا ہے اگر وہاں کمی ہےتو صرف نمازیوں کی۔ درویش نے خود اتنی بڑی بلیو مسجد میں مغرب کی نماز با جماعت ادا کی تو حیرت ہوئی کہ محض پہلی صف پوری نہیں ہو پائی تھی۔ کچھ اس طرح کا منظر مسجد سلیمانیہ اور مسجد سلطان مہمد میں بھی دیکھا سوائے ابو ایوبؓ یا سلطان ایوب ؓ کے کہیں اسلام دکھائی نہیں دیا ۔ وہاں بھی جن ترک نوجوانوں سے گفتگو کا موقع ملا سوائے جذباتی عقیدت مندی کے اسلام کے نالج والی کہیں کوئی بات ہی نہیں تھی۔ مساجد کے علاوہ پارکس، ریستورانوں ، آبنائے باسفورس تقسیم، استقلال، تعلیمی اداروں، مارکیٹوں ہر جگہ گھوم پھر کے بات چیت کرکے دیکھا۔ پورا ماحول لندن اور یورپ کے دیگر شہروں جیسا ہے۔ بلاشبہ کچھ ان پڑھ خطے بھی ہوں گے یا ہمارے روایتی صاحبان جیسے کچھ مذہبی حلقے بھی مذہب کو بطور نعرہ استعمال کرنے پر جوش وخروش محسوس کرتے ہیں۔ جیسے کہ سلطان ایوب کی مسجد کے امام سے گفتگو پر محسوس ہوا ۔

قریباً پچھلی تین دہائیوں سے ترکی اسلامسٹوں کے کنٹرول میں ہے، جو ظاہر ہے جدید ترکی کے بانی عظیم قائد مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک کے ساتھ وہ لگاؤ یا اپنائیت نہیں رکھتے جو پڑھا لکھا عام ترک رکھتا ہے۔ اس کے باوجود اتاترک کے دیے ہوئے جدید سیکولر جمہوری ترک آئین میں کونسی جوہری تبدیلی ہے جو ہنوز لائی جاسکی ہے۔ جمہوریت کا یہی حسن ہوتا ہے کہ ہر شہری کو یا ہر سیاسی پارٹی کو اپنے موقف کے اظہار کا حق حاصل ہوتا ہے۔ کبھی ترک فوج اپنے آپ کو ترک آئین کا محافظ گردانتی تھی اور اس بہانے جمہوریت کی بیخ کنی کرتی رہتی تھی ۔ ہم سب آئین اور جمہوریت سے محبت کرنے والے ترک صدر رجب طیب اردوان کے مداح اور شکرگزار ہیں کہ انہوں نے طالع آزمائوں کے بالمقابل جمہوریت کی پاسداری کی ہے اور معاشی طور پر بھی ترک معیشت میں خاصی بہتری لائے۔ گولن کی مذہبی شدت پسندی کے بالمقابل بھی انہوں نے اعتدال کی راہ نہیں چھوڑی ہے البتہ اپنے سیاسی مخالفین اور میڈیا کے حوالے سے یا اوورآل ہیومن رائٹس اور شخصی آزادیوں کے حوالے سے بہت سے سوالات و تحفظات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایک عوامی لیڈر کی حیثیت سے جناب اردوان کو ان حوالوں سے بڑے پن کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ ہم جتنے مرضی ڈرامے بنالیں یا کریں، وقت کا پہیہ الٹا نہیں گھمایا جا سکتا اور نہ بوسیدہ اترن دوبارہ پہناوہ بنائی جا سکتی ہے ۔

جمہوریت میں اگر اکثریت کی حکمرانی ہوتی ہے تو اس کا یہ مطلب کہیں نہیں کہ اختلاف رائے یا آزادی اظہار میں کسی نوع کی رکاوٹ ڈالی جائے۔ یا مختلف رائے رکھنے والے چھوٹے گروہوں کے حقوق چھین لئے جائیں ۔ اگر کوئی گولن جیسی مسلح کارروائیاں یا سازشیں کرتا ہے تو اسے روکنا آپ کا حق ہے لیکن جبر کے ہتھیار تو جمہوریت کی نفی ہوتے ہیں۔ آپ کو اپنی پاپولیٹری بڑھانے کا پورا حق ہے لیکن مذہب کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنا کسی بھی مہذب سماج یا لیڈر کو زیب نہیں دیتا۔ اس سے بالآخر ملک و قوم کا نقصان ہوتا ہے۔ آپ مدتوں اسی عظیم شہر کے میئر رہ چکے ہیں آپ خود مذہبی انتہا پسندی کے خلاف بولتے بھی رہے ہیں لیکن اب جب آپ کو استنبول ، انقرہ اور ازمیر میں بلدیاتی انتخابات میں شکست ہوئی ہے تو مذہبی ووٹ کو ابھار کر مقبولیت حاصل کرنے کی کاوشیں کرنا خود ترکی کے وسیع تر مفاد میں نہیں ہے۔

جدید سیکولر جمہوری ترکی کے بانیاں نے اگر چرچ پر جائز یا ناجائز قبضے کو چھوڑتے ہوئے ایک درمیانی راستہ اختیار کرتے ہوئے اسے میوزیم ڈیکلیئر کیا تھا تو پوری دنیا میں ترکی کی تحسین ہوئی تھی ترکوں کا روشن چہرہ ابھرا تھا۔ ایسٹرن اور ویسٹرن یورپ کے مسیحیوں کا ہاجیہ صوفیہ میں ہمہ وقت تانتا بندھا رہتا تھا ۔ اگر ان سیاحوں کی تعداد 35لاکھ سالانہ ہے اور فی سیاح آپ 80لیرا حاصل کرتے ہیں تو ترک معیشت کیلئے یہ خوش آئند ہے۔ اور پھر مغربی دنیا سے اتنی بڑی تعداد میں آنے والے سیاح اپنے اپنے ممالک اور معاشروں میں ترک مسلمانوں کا اور خود اسلام کا اچھا تاثر لے کر جاتے ہیں۔ وہ ہاجیہ صوفیہ کے ساتھ استنبول کی دیگر مساجد اور اہم مقامات کو بھی وزٹ کرتے ہیں ۔

آپ اگر اسلام کو انسانیت کا دین خیال کرتے ہیں تو اس کیلئے مکالمہ بنیادی شرط یا ضرورت قرار پائے گا۔ درویش کا اپنی تمام مسلم سوسائٹیوں سے سوال ہے کہ کیا بین المذاہب مکالمہ دوستانہ فضا قائم کئے بغیر ممکن ہوسکتا ہے؟ مکالمے کیلئے آزادی اظہار کے ساتھ زبان اور قلم کا استعمال کی ضرورت ہوتی ہے،  تلواروں اور توپوں کی نہیں۔ ہمیں مغرب کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے آزادی اظہار کو اعلیٰ ترین انسانی قدر کی حیثیت سے بالفعل اختیار کرلیا ہے۔ جبکہ ہماری مسلم سوسائٹیاں ہنوز جبر و استبداد کی یرغمال بنی ہوئی ہیں۔ مغرب میں اگر اسلاموفوبیا ہے تو وہ بھی ہماری اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہے جن سے ہمیں چھٹکارا پانا ہوگا۔ دوسروں کے مقدس مقامات کو بالجبر ہتھیا کر ہم نے جو منفی حرکت کی تھی، ترکوں کے باپ نے اسے میوزیم قرار دیتے ہوئے پوری مغربی دنیا کو امن اور سلامتی کا جو انسان نواز پیغام بھیجا تھا، کیا آج ہم اس پر سیاہی پھیرنا چاہتے ہیں؟

اس سے مغرب یا مسیحیوں کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ ہمارا اپنا چہرہ ضرور ٹیڑھا اور داغدار ہوجائے گا۔ دنیا میں ترکی ایک سیکولر مسلمان ملک تھا اور ہے، جسے علامہ اقبال نے مسلم اقوام کے سامنے بطور نمونہ پیش کیا تھا لیکن آج ہم یہ پیغام دے رہے ہیں کہ نہیں ہم مکالمے یا انسان دوستی پر نہیں جبر اور طاقت کے غرور پر یقین رکھتے ہیں۔ اور جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں کہ فلاں سلطان نے خریدا تھا۔ خدا کے بندو جھوٹ بولتے ہوئے خدا کا خوف کھاﺅ۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ ہمارے یہ سلاطین اپنے معصوم بچوں، بھائیوں، عام انسانوں کو معمولی باتوں پر مروا دینا قابل فخر سمجھتے تھے۔ ہمارے لئے یہ لوگ کس طرح آئیڈیل ہوسکتے ہیں؟ جنہوں نے انسانیت کو  سوائے جہالت، پسماندگی اور جبر و استبداد کے اور کچھ نہیں دیا۔ آپ کا ہیرو وہ ولولہ انگیز قائد ہونا چاہئے جس نے آپ کو نہ صرف اتحادیوں کے کٹھ پتلی یا ڈمی خلیفہ سے خلاصی دلوائی بلکہ جب ترکی کے حصے بخرے ہورہے تھے، پورے اناطولیہ کو نیا عزم و حوصلہ بخشتے ہوئے تین اطراف سے حملہ آور ہونے والوں کے چھکے چھڑا دیے تھے۔ ہر ایشو پر اپنی قوم کے منتخب ادارے پارلیمنٹ پر اعتماد کرتے ہوئے آئین اور جمہوریت کی روشنی بخشی تھی۔ آپ نے ڈرامے بنانے ہیں تو خاندانی آمریت پر نہیں منتخب ہردلعزیز جمہوری قائد اور اس کی ولولہ انگیز جدوجہد پر بنائیں اور یاد رکھیں کہ وقت کا پہیہ پیچھے کو نہیں، آخرکار آگے کو ہی گھمانا ہوگا۔

آیا صوفیہ آج یونیسکو کے تحت قابل فخر عالمی ورثہ ہے۔ اس کا وجود اور تحفظ جدید ترکی کی شان ہے۔ اس کی زیارت کو مغرب سے لاکھوں مسیحی اور سیکولر لوگ یہاں آتے ہیں۔ آپ ان کے دلوں کو جیتئے، اس عظیم انسانی شاہکار کی وجہ سے یہ لوگ جدید ترکی اور یہاں بسنے والے انسانوں سے محبت کریں۔ بیت المقدس کے سلیمانی ہیکل کی عظمت کے گیت ہم محض کتابوں میں پڑھتے ہیں، بالفعل محض دیوارِ گریہ رہ گئی ہے۔ رونے اور ماتم کرنے کیلئے موجودہ بلڈنگ تو بعد کی تعمیر کردہ ہے جبکہ آیا صوفیہ کی صورت چھٹی صدی عیسوی کا یہ بے مثال شاہکار آج بھی جس طرح ایستادہ ہے۔ یہ پوری انسانیت کیلئے قابل فخر ہے۔ آپ اسے فرقہ پرستانہ منافرت کی بجائے بین الاقوامی انسانی محبت اور پاکیزہ شعور و دانش کا منبع بنائیں۔ آپ ایسا فیصلہ کیوں کرتے ہیں جس سے مسیحی بھائیوں کے دل زخمی ہوتے ہیں، بشمول پوپ عالمی کلیسا کے پیروکاران یا آرتھوڈکس مسیحیوں کے سینوں میں جلن اٹھتی ہے۔ ہمارے یونانی بھائیوں کو چوٹ لگتی ہے۔ آپ انہیں بلائیے، اس مقام پر ان سب کو اپنے ساتھ بٹھائیے اور یہ بتائیے کہ یہ مرکزِ دانش ہم سب کا مشترکہ تاریخی و تہذیبی ورثہ ہے۔

آیا صوفیہ کو مخصوص چھاپ لگانے کی بجائے آپ میوزیم کی حیثیت سے ایسا سٹڈی و دوستی سنٹر بنا دیں جس میں ہم بین المذاہب مکالمے کے ذریعے ابدی انسانی پیغام کو عام کرنے کا باعث بن سکیں۔ درویش تو بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے متعلق یہ سوچ رکھتا ہے کہ وہ کسی ایک مذہب کی بجائے تینوں مذاہب کی مشترکہ عبادت گاہ ہونی چاہیے۔ اگر آپ نے آیا صوفیہ میں نمازیوں کیلئے کوئی گوشہ بنانا ہے۔ ضرور بنائیے لیکن اسی طرح کی سہولت مسیحیوں کیلئے بھی کسی دوسرے گوشے میں پیدا کردیجئے۔ اس شرط کے ساتھ کہ بلاتمیز مذہب و ملت پوری عمارت میں کہیں کسی کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ لوگ گپ شپ لگائیں، تصویریں بنائیں ایک دوسرے سے لٹریچر شیئر کریں۔ ویسے بھی وہاں سیدنا مسیح و مریم کی قدیم مصوری کے ساتھ اسلامی خطاطی بھی جا بجا موجود ہے۔ یہ سب قائم رہنا چاہئے۔ مسلمان اس حکمت کو کبھی نہ بھولیں کہ قرآن نے کسی بڑی سے بڑی فتح کو فتح مبین نہیں کہا۔ صلح حدیبیہ کو جو اتنی دب کر بے بسی میں مخالفین کی تمام شرائط مانتے ہوئے کی گئی تھی اسے فتح مبین کہا گیا اور قرآن میں سورہ الفتح نازل ہوئی، کیوں؟ اس لئے کہ مسلمانوں کو اپنی پہنچان کیلئے مخالفین اور دیگر اقوام کے ساتھ میل ملاپ کے کھلے مواقع پیدا ہو رہے تھے۔

کچھ دوستوں نے یہ پوچھا ہے کہ چرچ کو مسجد بنائے جانے پر آپ کو اتنی تکلیف ہے تو مسجد قرطبہ کو چرچ بنائے جانے پر کیا کہیں گے؟ درویش کا ردعمل وہی ہے کہ جو بھی مذہبی عمارت جس نے بنائی ہے اس کی حیثیت جبراً تبدیل کرنے کا حق کسی کو بھی نہیں ہونا چاہیے۔ حتیٰ کہ بابری مسجد اگر ثابت ہو جاتا ہے کہ مندر کے اوپر جبراً بنی ہے تو وہاں مندر ہی بننا چاہیے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ سیکولر لوگوں کی اپروچ ہم راسخ العقیدہ لوگوں سے کہیں بہتر ہوتی ہے۔ آپ حکومت سپین کا رویہ دیکھ لیں، بالفعل قرطبہ ایک میوزیم ہی ہے، کہیں کسی جگہ کسی مسلمان یا کسی اور مذہب والے کو کوئی رکاوٹ نہیں۔ وہ وزٹ کریں یا تصاویر بنائیں ہر جگہ جائیں، گپ شپ لگائیں یا مکالمہ کریں۔ لیکن ہم مسلمانوں میں مساجد کے تقدس کی وجہ سے بہرحال کئی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔