بے احتیاطی سے کورونا پھر سے پھیل سکتا ہے: ڈاکٹر ظفر مرزا

  • منگل 28 / جولائی / 2020
  • 4130

وزیراعظم کے معاون خصوصی  ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہےکہ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں کورونا وبا کا پھیلاؤ کم ہوا ہے۔ لیکن تساہل یا غیر ذمہ داری سے کورونا دوبارہ پھیل سکتا ہے۔

اہک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ملک میں وبا کے پھیلاؤ کو مزید کم کیا جاسکے۔ دنیا کے دیگر ممالک کے تجربات ہمارے سامنے ہیں جس میں ایک مرتبہ کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے بعد وبا نے دوبارہ سر اٹھایا اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ کیسز اور اموات سامنے آئیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں کوئی بھی قبل از وقت فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عید اور محرم کی صورت میں بہت بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اور عوام مل کر پوری ذمہ داری سے ان چیلنجز سے نمٹیں۔ بہت سے افراد یہ پوچھتے ہیں کہ کس وجہ سے پاکستان میں اتنی تیزی سے کمی آنی شروع ہوگئی۔ اس کی وجہ یہ ہے وزیراعظم کی قیادت میں کیے گئے بروقت اقدامات کے نتیجے میں عوام نے نسبتاً احتیاط برتی اور ان کے رویوں میں بھی بڑا فرق آیا۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کے رویوں میں فرق آنے کی وجہ عوام کے ساتھ مستقبل رابطے میں رہنا تھا اور گزشتہ 6 ماہ کے عرصے میں تمام ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہزاروں گھنٹوں پر مشتمل کمیونیکیشن کی گئی جس کے نتیجے میں لوگوں کا رویہ تبدیل ہوا جو بیماری کا پھیلاؤ روکنے کا سبب بنا۔

ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں حکومت، وزارت صحت، وزارت اطلاعات، آئی ایس پی آر، ڈبلیو ایچ او، یونیسیف اور دیگر اداروں نے مل کر بہت بڑا کام کیا جن کی کاوشوں کا مجموعی اثر ہے کہ پاکستان میں کیسز کی تعداد میں کمی واقع ہونی شروع ہوئی۔ اب ہمیں لوگوں کو اس بات کا ادراک کروانے کی ضرورت ہے کہ یہ عام عید نہیں ہے۔ اس موقع پر سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 چیزوں کا خاص خیال رکھا جائے اس میں ایک ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ رکھیں، بزرگوں کا خیال رکھیں اور مویشی منڈیوں میں غیر ضروری طور پر نہ جائیں اور جانے کی صورت میں تمام احتیاطی تدابیر اپنائیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ آنے والی عید کے حوالے سے بھی کمیونیکیشن کے حوالے بہت زیادہ کمپین چلائی گئی جس کا مقصد لوگوں کو اس بات کا ادراک کروانا ہے کہ یہ عام عید نہیں مختلف عید ہے اس موقع پر تمام ایس او پیز پر عمل کرنا ہے جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ گہما گہمی کے باوجود لوگوں سے رابطوں سے بچیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں بھی ایسی صورتحال نظر آئے کہ لوگوں کا ہجوم ہو مثلاً مویشی منڈیاں، قربانی، نماز وغیرہ کے وقت ایس او پیز پر عمل کیا جائے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ جہاں پاکستان میں بیماری پر 80 فیصد قابو پا لیا ہے تو عید کے موقع پر بھی اگر حکومت اور عوام اپنی ذمہ داری ادا کریں گے تو یہ عید اچھے طریقے سے گزار سکیں گے اور جس طرح عید الفطر کے بعد کیسز میں ایک دم اضافہ ہوا وہ صورتحال دوبارہ پیش نہیں آئے گی۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ پاکستان  نازک مرحلے سے گزر رہا ہے اور ذرا سی بے احتیاطی کیسز اور اموات میں اضافے کا موجب بن سکتی ہے۔