مدرسی اخلاقی سلیبس

جانے کیا ہوا کہ زمانے کی منفی روش نے پنجاب کی زمین جو صوفیوں اور بزرگ دین پھیلانے والوں کی آماجگاہ تھی اس قدر بے راہ روی کا شکار ہوگئی۔ ان صوفیوں کی تعلیم نے اپنا اثر دکھانا چھوڑ دیا توایک مردحق تشریف لایا اور خواص جو کہ پہلے ہی سے راہ راست پر تھے، ماسوائے چند ایک کے، اس نے عوام کی اصلاح کا کام اپنے ہاتھوں بلکہ اپنے ڈنڈے سے شروع کیا۔

شہادت کا درجہ پایا۔ آنے والے وقتوں میں شاید ان کے مزار پر بھی عرس وغیرہ ہو۔ مگر چونکہ عوام بے راہ روی کا شکار ہی رہے اور وہ چلے گئے تو بھلا ان کے مزار پر کون گھی کے چراغ جلاتا۔ ان کے متبنیٰ نے بھی خاصی کوشش کی مگر اپنی ہی سی اور وہ بھی نالائق ہی نکلا۔ چنانچہ اب فیصلہ یہ ہوا کے پچھلے تمام فرمودات کو معطل کرکے ازسر نو  اصلاح کی جائے اور نئے سلیبس کا اجرا ضروری مانا گیا۔

اس قوم کے پہلے بھی کئی عظیم رہنما  اصلاح کرنے کی کوشش میں کبھی بیسک ڈیموکریسی تو کبھی مارشل آرٹ اور سبھی کچھ قسم کے تجربے کر چکے ہیں۔ مگر قوم اتنی بے راہ روی کا شکار ہوچکی ہے کہ بی ڈی کو بنگلہ دیش بنا دیتی ہے۔ اب نئے نصاب سے شاید جرگے کی افادیت کا احساس ہوگا۔ عدالتی نظام تو فیل ہوچکا ہے۔ انگلش میڈیم اسکولوں نے قوم کے شعور کو اس قدر گرا دیا ہے کہ سوائے چند ایک کے  نااہل اور چور نکلتے رہے ہیں۔

طرہ یہ ہے کہ ایسا کہنے والے بھی اسی انگلش میڈیم اسکولوں سے فارغ ہوئے ہیں۔ انگلش میڈیم اسکول تو رہیں گے ورنہ خواص کیسے پیدا ہوں گے۔ مگر انہیں پڑھایا جائے گا مدرسوں والا سلیبس۔ چونکہ ہمیں ٹائی کوٹ والا مولوی چاہئیے۔

کمیونزم انقلاب بھی کیا نکلا؟ وہی ڈھاک کے تین پات۔ کتابیں چھپتی رہیں، اصلاح پر زور دیا جاتا رہا، مگر پھر وہی ایک اصلاح کرنے والا آیا اور ساری آہنی دیوار، ریت کی دیوار کی طرح ڈھے گئی۔ اور روس کی کھوکھلی حقیقت دنیا پر عیاں ہوگئی۔ اب جب ہمارا دشمن بھی نظریاتی شکست وریخت کا شکار ہے تو ایسے میں نئے ٹکسٹ بک بورڈ کے اجرا سے نئے سرے سے نظریاتی اصلاح کا کام شروع ہوگا۔ جو اس قوم کو سیسہ پلائی دیوار بنا دے گا۔

نہ ذہن میں سوال اٹھنے کی گنجائش باقی رہے گی نہ انقلاب برپا ہونے کے خدشات۔ سوال تو ذہنوں میں اٹھتے ہی رہتے ہیں، ایسا کچھ کیا جانا چاہیئے کہ ذہن ہی کام نہ کریں۔ سوچ ہی مفلوج رہے۔ ساری بے راہ روی کا تدارک ہوجائے۔ سارے نظریاتی راستوں کی منزل معاشی فلاح ہوتی ہے اور جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح پانچوں بھائی کس طرح برابری کر سکتے ہیں۔ صرف بڑے بھائی کی پابچوں انگلیاں گھی میں ڈوبی رہ سکتی ہے۔

نیا سلیبس اسی اخلاق کا درس دے گا اور درسی، تدریسی اور مدرسی اخلاق عام ہوگا۔ جو کہتا ہے کہ عورت کو چادر میں اور مرد کو چہار دیواری میں بند رکھو۔