بھارت کی سیکولر سیاست اور جنگی جنون

بھارت کی سیکولر  یا آئینی سیاست کے بطن سے اس وقت ہندوتوا  اور  مسلم دشمنی کی تصویر کافی گہری اور نمایاں  ہے۔بھارتی سیکولر چہرہ بھی کافی داغدار ہوگیا ہے۔ بھارت خود کو ایک پرامن مضبوط جمہوری ریاست یا ملک کے طور پر  پیش کرتا ہے۔ لیکن اب عالمی رائے عامہ بھی اعتراف کررہی ہے کہ بھارت اپنی سیکولر سیاست کے مقابلے میں ہندواتوا پر مبنی سیاست پر عمل پیرا ہے۔

بھارت  اقلیتوں کے لیے ایک غیر محفوظ ملک بن چکا ہے۔مودی، آرایس ایس کا باہمی گٹھ جوڑ اس وقت مسلم دشمنی کی بنیاد پر اپنی انتہا پسندی میں بہت آگے تک چلاگیا ہے۔بھارت میں موجود سیکولر یا اعتدال پسند طبقہ بھی مودی کی ہندوتوا یا انتہا پسندی پر مبنی سیاست کو بڑی شدت کے ساتھ چیلنج کررہا ہے۔ مودی او رآر ایس ایس کے باہمی گٹھ جوڑ نے ”گھر واپسی“ کے نام پر ایک ایسی تحریک شروع کی ہے جس کے تحت بھارت میں موجود مسلم طبقہ کو تشدد کی مدد سے اپنا مذہب چھوڑ کر ہندومذہب اختیار کرنے پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ اس تحریک کی کامیابی میں مودی کی انتہا پسند حکومت  کے علاوہ  وشواہند پرشاد)وی ایچ پی (،راشٹر سیوک سنگ)آرایس ایس(اور ہندو مکال نامی تنظیمیں سرگرم ہیں۔حال ہی میں کرونا وبا سے نمٹنے پر بھارت کی انتہا پسند حکومت اپنی ذہنی پس ماندگی میں اس حد تک گر گئی کہ اس نے کرونا پھیلاؤ کا الزام مسلمانوں پر عائد کیا او رکہا کہ ہم کرونا اور مسلم دونوں کو ختم کرکے دم لیں گے۔اس وقت تمام اقلیتیں بالخصوص مسلمان خود کو بھارت میں غیر محفوط سمجھتے ہیں۔ان کا  موقف ہے کہ  انتہا پسند عناصرکی سرپرستی بھارت کی ریاست او رحکومت کرتی ہے۔

 حالیہ دہلی فسادات میں جہاں مسلمانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔دہلی اقلیتی کمیشن کے سربراہ ظفر اسلام کے بقول دہلی فسادات میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے میں پولیس نے مدد کی اور تقریباًپچاس سے زیادہ مسلم ہلاکتیں ہوئیں۔اقلیتوں کو چن چن کر بڑی بے دردی سے مارا گیا اور ان کی املاک کو جلایا گیا۔ پولیس نے  ہندو انتہا پسند وں کو روکنے کی بجائے ان کی معاونت کی اور ان راہنماؤں کی اشتعال انگیز تقریروں نے مسلم دشمنی کے جذبات کو بھڑکایا۔ملک کی 72معزز شخصیتوں نے صدر جمہوریہ رام ناتھ کوویند کو مکتوب لکھا ہے او رمطالبہ کیا ہے کہ دہلی فسادات کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن کی تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔ان افراد نے دہلی پولیس کی تفتیش پر سوالات اٹھائے ہیں او ران افراد میں سابق بیوروکریٹ، انسانی حقوق کے کارکن سمیت کئی اہم افراد شامل ہیں۔

اسی طرح عالمی سطح پر آزادی مذہب پر نظر رکھنے والے امریکی کمیشن”یو ایس سی آئی آر ایف“اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں مذہب کے نام پر استحصال کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔شہریت کے متنازعہ قانون سی اے اے او راین آر سی کی مخالفت میں پورے ملک میں ہونے والے اجتجاج کا ذکر شامل ہے او راسے بھی مذہب کے نام پرہونے والی تفریق کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق این آر سی مسلمانوں کے ساتھ تفریق کے لیے بنایا گیا قانون ہے۔ واضح رہے کہ ریاست آسام میں این آر سی کی کی آخری فہرست جاری کی گئی ہے جس کے بعد انیس لاکھ لوگوں کی شہریت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش او رافغانستان کے اقلیتوں لوگوں کو شہریت دی جائے گی۔اسی رپورٹ  مطابق بھارت میں آزادی مذہب اظہار کی آزادی متاثر ہوئی ہے۔

اس ادارے نے امریکی حکومت سے دو مطالبے کیے ہیں۔ اول وفد کو بھارت جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ وہاں جاکر حالات کا جائزہ لے سکے او راس کو یقینی بنانے کے لیے بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے۔دوئم بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے جرائم سے نمٹنے کے لیے پالیسی بنانے کے لیے مودی حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔

بی بی سی نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران بھارت کے مختلف حصوں سے لاک ڈاؤن کے دوران مسلمانوں کے سماجی و اقتصادی بائکاٹ او را ن پر تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ان واقعات کی بنیاد پر بھار ت میں موجود مسلمانوں کے اندر خوف بیٹھ گیا ہے او ران میں زیادہ تر چھوٹے مزدور او رکاروبار کرنے والے لوگ شامل ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق مدہیہ پردیش کے ایک گاؤں میں مسلمان کاروباری افراد کے حوالے سے ایک پوسٹر لگایا ہوا تھا جس میں لکھا تھا کہ ”مسلمان کاروباریوں کا گاؤں میں داخلہ ممنوع ہے۔“اسی طرح کے پوسٹرز ہمیں دہلی میں بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔جبکہ بعض مقامات پر مسلم سبزی فروشوں کو اپنا مسلم نام تبدیل کرکے سبزی فروخت کرنا پڑی۔اسی طرح سے سنٹر فارایکوٹی سٹڈیز)سی ای ایس (کی ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مسلم مزدوروں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعدان کو دوبارہ کام پر لوٹنے میں ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔بھارت کی نو ریاستوں کے 1045مزدوروں کے ساتھ کی گئی اس سٹڈی سے پتہ چلتا ہے کہ 43فیصد مزدوروں کا کہنا ہے کہ وہ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد ان کو نوکری مل سکتی ہے۔اسی رپورٹ کے مطابق یہ سب کچھ میڈیا کی منفی مہم کا نتیجہ تھا جس میں مسلمانوں کو کرونا پازیٹو معاملات کو مسلمانوں اور تبلیغی جماعت کے اراکین او راجتماع سے جوڑ کر دکھایا گیا ہے جو بھارت میں موجود انتہا پسندی کے رجحانات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

بھارت کی معروف صحافی اور انڈیا ٹوڈے گروپ کے پالیسی ایڈیٹر پرسنا موہنتی کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کسی ملک کے معاشرتی  ہم آہنگی او رجمہوری نظام کو ڈی ریل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی معیشت کو بھی نقصان پہنچانے کی استعداد رکھتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو مد دپہنچانے کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں الگ تھلگ کرنے کی۔اسی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی شامل ہے کہ آنے والے دنوں میں مسلمان مزدوروں او رکاروباری افراد کے لیے مشکلات سے پر ہوں گے۔ او رغربت مسلمانوں کو بری طرح متاثر کرے گی جو ہماری اپنی معیشت کے لیے بڑا دھچکہ ہوگا۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو ہی دیکھ لیں۔ بھارت نے کشمیری مسلمانوں کے حقوق سے متعلق رائج ایکٹ370اور35-Aکو ختم کرتے ہوئے کی۔اسی طرح بھارت میں مسلمانوں کی شناخت کا سوال بھی اٹھادیااور بھارتی پارلیمنٹ سے سٹیزن ترمیمی ایکٹ2019کو پاس کرواکے بھارتی مسلمانوں پر ایک تلوار لٹکادی ہے۔اسی طرح مودی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اثر انداز ہوکر ہندوؤں کے موقف کی تائید میں جو بابری مسجد کا فیصلہ کروایا اس سے بھی ان کی مسلم دشمنی کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔بھارت کا ایجنڈا محض پاکستان یامسلم دشمنی تک ہی محدود نہیں بلکہ و ہ پاکستان سمیت بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکاااور خطہ کے بعض ممالک کو بھی اپنے زیرتسلط لانا چاہتا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے اس پار آئے روز بمباری، نیپال کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور لداخ میں چین کے علاقے پر تسلط قائم کرنے کی خواہش سے اس کے سیاسی اور جنگی یا انتہا پسندی پر مبنی عزائم نمایاں ہوتے ہیں۔بھارت کی معروف انسانی حقوق کی راہنما او ربڑ ی عالمی شہرت یافتہ دانشور ارون دتی رائے بھی برملا مودی حکومت کی مسلم دشمنی کے ایجنڈے کو چیلنج کررہی ہیں او ران کے بقول اس وقت مودی کا آر ایس ایس

گٹھ جوڑ اور ریاستی اداروں کا بے دریغ استعمال مسلم کمیونٹی کے لیے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔

یہ ساری صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اس وقت بھارت کی مجموعی سیاست اور حکمران طبقات کا کھیل کا  ایجنڈا پاکستان او رمسلم دشمنی کی بنیاد پر کھڑا ہے جو  بھارت میں موجود اعتدال پسند عناصر سمیت پاکستان کے لیے بھی بے شمار خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔ ہمیں بھارت کے اس ایجنڈے کے سامنے خود کو داخلی سطح پر بھی مضبوط بنانا ہے۔ ہمیں بھارت کی مسلم اور پاکستان دشمنی کے مقابلے میں امن، برداشت اورمتنازعہ تنازعات کو منصفانہ بنیادوں پر بات چیت کی مدد سے یا سیاسی انداز میں حل کرنے پر زور بھی دینا ہوگا۔ ہم سفارتی او رڈپلومیسی محاذ پر  بھارت کے حالیہ جنگی اور مذہبی جنونیت کے خلاف  دنیا کی رائے عامہ، میڈیا اور معروف تھنک ٹینکس اور  راہنماؤں کے سامنے بھارتی ایجنڈے کے شواہدپیش کریں۔ اسی طرح موجودہ بھارتی طرز عمل پر ہمیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس  میں درپیش  چیلنج  پرسیاسی اتفاق رائے  پیدا کریں۔  تاکہ ہم بہتر طور پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی  وضع کرسکیں۔