پشاور: کمرہ عدالت میں توہین مذہب کے ملزم کو قتل کردیا گیا
- بدھ 29 / جولائی / 2020
- 6730
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی ایک عدالت میں توہینِ مذہب کیس میں نامزد ایک ملزم کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ایڈیشنل سیشن جج شوکت اللہ کی عدالت میں پیش آیا۔
حکام کے مطابق تھانہ سربند کی پولیس پشاور کے علاقے اچینی بالا کے رہائشی طاہر نسیم کو عدالت میں پیشی کے لیے جوڈیشل کمپلیکس لائی تھی جہاں پر ان کے خلاف توہینِ مذہب کے مقدمے کی سماعت ہونا تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج شوکت اللہ کی عدالت میں کیس کی سماعت جاری تھی۔ اس دوران ایک شخص نے پستول نکال کر جج کے سامنے ملزم طاہر احمد پر فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے طاہر نسیم موقع پر ہلاک ہو گیا۔
پولیس نے فائرنگ کرنے والے ملزم کو واقعے کے فوری بعد کمرہ عدالت سے حراست میں لے کر قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے تھانے منتقل کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق خالد نامی ملزم پشاور کا ہی رہائشی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے طاہر نسیم کو توہینِ مذہب کی وجہ سے ہی قتل کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزم نے پولیس کو بتایا ہے کہ انہیں مذکورہ شخص کو قتل کرنے کے حوالے سے خواب آیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق مقتول طاہر نسیم نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر آخری نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس پر ان کے خلاف 2018 میں تعزیراتِ پاکستان کے سیکشن 195 سی کے تحت توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) محمد علی گنڈا پور نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ دوسری جانب اتنے حساس مقدمے میں مسلح شخص کے عدالت آنے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔