تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ کی ضرورت کیوں ؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 29 / جولائی / 2020
- 6730
ان دنوں میڈیا میں پنجاب تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ 2020 زیر بحث ہے۔ حمایت اور مخالفت میں الفاظ کی زور آزمائی خوب کی جا رہی ہے۔ درویش کو ایک چیز ہمیشہ پریشان کرتی ہے کہ ہماری سوسائٹی میں ہر چیز کو اسلامی اور غیر اسلامی رنگ میں کیوں دیکھا جاتا ہے۔
حالانکہ95 فیصد معاملات محض انسانی ہوتے ہیں، جن پر مذہبی چھاپ چڑھانے یا تڑکا لگانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ بالعموم حکومتیں جب عوامی حمایت سے محروم ہوتی ہیں یا اپنی پاپولیریٹی کھو رہی ہوتی ہیں۔ اس وقت وہ اپنے اوپر مذہبی رنگ انڈیلنا یا مذہب کا جاوبیجا استعمال کرنا شروع کر دیتی ہیں، جو کہ ایک نوع کا استحصال ہے۔ کسی بھی مہذب سوسائٹی میں کسی بھی شہری کے مذہبی جذبات بھڑکا کر اپنا اُلّو سیدھا کرنا کوئی شائستہ حرکت خیال نہیں کی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ مضبوط جمہوریتوں میں اس نوع کی قانون سازی کی جاتی ہے کہ آپ سیاست میں بالعموم اور انتخابی مہمات میں بالخصوص مذہب کا چورن نہیں بیچیں گے۔ فی زمانہ مذہب کے سیاسی استعمال کو کوئی بھی پڑھا لکھا باشعور مہذب انسان بہ نظر تحسین نہیں دیکھ سکتا۔
وطن عزیز میں ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاالحق دو ایسی ہستیاں گزری ہیں جنہوں نے پاکستان بننے کے بعد سب سے بڑھ کر مذہبی سوداگری یادکانداری خوب چمکائی۔ بلاشبہ اس سے پہلے بھی پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کی قیادت نے جو بالعموم سرمایہ داروں اور جاگیرداروں پر مشتمل تھی اور کانگرس کے بالمقابل کسی طرح بھی عوامی اٹھان، پہچان یا جڑیں نہیں رکھتی تھی، سیاست میں مذہب کا خوب استعمال کیا مگر ایک موقع پر اس کے تباہ کن نتائج اور مفاسد کو دیکھنے کے بعد اس کو روکنا بھی چاہا اور کسی حد تک اس میں توقف آیا بھی۔ سوائے قرارداد مقاصد یا 56 کے آئین میں چند مذہبی شقوں کے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بھٹو اور ضیائی مارشل لا سے پہلے اتنا اندھیر نہیں تھا۔ اس دور کے اگر اخبارات وغیرہ نکالے جائیں تو مذہبی نوعیت کی خبریں بہت ہی کم یا معمولی نوعیت کی ہوتی تھیں۔ شراب کے اشتہارات تک ہمارے میڈیا میں کھلے بندوں چھپتے رہے۔ ایک چھوٹے سے بچے کو، جس پر مذہبیت بری طرح حاوی ہو چکی تھی، اس بات پر چبھن ہوتی تھی کہ مذہبی قیادت اور نظریات کو ہمارا میڈیا اور سوسائٹی ابھرنے کیوں نہیں دے رہے ہیں؟ اور پھر جب یہ ابھرے اور اس نسبتاً لبرل سوسائٹی پر بری طرح مسلط ہوتے ہوئے اسے یرغمالی بنا لیا تو وہی بچہ رونے لگا کہ میں نے یہ تو نہیں چاہا تھا، یہ بہار کیسی آئی جو خزاں بھی ساتھ لائی۔
آج محترم حیدر تقی نصیحت فرماتے ہیں کہ افضال ریحان برف کی سل پر لیٹ کر لکھا کرو. درویش دن رات برف ہو گیا ہے پھر بھی اہل جفا کا الزام ہے کہ اس راکھ یا خاکستر میں ہلکی سی چنگاری بھی کیوں ہے؟ اپنا من مار کر، مصلح و مشنری کا تمام تر بخار اتار کر گھسی پٹی ، ملائم یا مریل تحریر لکھتا ہے، تب بھی نہ صرف ذلت آمیز حد تک گھورنے والی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ناقابل اشاعت قرار دے دیا جاتا ہے, ساتھ ہی ڈرایا جاتا ہے۔ حضور آپ کو معلوم نہیں کہ مولوی کی کتنی سٹریٹ پاور یا طاقت ہے، جتنا سرکاری استبداد سے ڈرتے ہو اس سے سوگنا مذہبی جبر سے ڈرو. یہ ہمارے لئے بھی بہتر ہے اور خود آپ کے اپنے لئے بھی۔
ایک شخص جو زندگی کا بیشتر حصہ خود سکہ بند مولوی رہ چکا ہو بلکہ مولویت کے گہرے چھپڑ میں ڈوب کر سراغ ِزندگی یا راز حیات پا چکا ہو۔ خود بہ نفس نفیس برسوں بریلوی، دیو بندی، وہابی، شیعہ، مودودیہ، اشعری، معتزلی اور نیچری تک نہ صرف رہ چکا ہو بلکہ مذاہب عالم کا تقابلی جائزہ اس کی سرشت بن کر قلب و نظر پر حاوی ہو چکا ہو، اب وہ مسکین فلسفہ تصوف پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مُوتو قبل الموت کے تحت خود کو راکھ اور خاک میں ملا دے شاید پھر بھی کوئی نہ کوئی سانس تو باقی رہ ہی جائے گی. اور وہ طاقتوروں کی سوسائٹی کا دھتکارا ہوا غریب مسکین اگر جارج فلائیڈ کی طرح سیاہ فام بن کر ان سفید فام سفاکوں سے محض اتنا کہتا ہے کہ اسے سوسائٹی کے خداوندو, میرے آقاﺅ! میری سانسیں اکھڑ رہی ہیں میں مر رہا ہوں، یہ جبر کا شکنجہ یا گھٹنا تھوڑا سا ڈھیلا کر دو تو سوسائٹی کے جائر سلاطین کا آوازہ گونجتا ہے کہ یہ بدبخت ہنوز ہمیں چیلنج کرنا چاہتا ہے....
انگریزی زبان کا ایک محاورہ ہے:
Excess of everything is bad
سوسائٹی کے اے ”بڑے“ لوگو! خدا کے لئے پاکستان کی اس اسلامی سوسائٹی کو اب معاف کر دو، انہیں بخش دو جس چیز کو کھلا کھلا کر آپ نے اس بدنصیب سوسائٹی کا قومی ہاضمہ تباہ کر دیا ہے، وہ بدہضمی سے پھٹ رہی ہے۔ اس کی مزید خوراکیں آپ کسی اور کے لئے رکھ لو۔ چین جیسے جگری دوست سے اتنی درآمدات کرواتے ہو کچھ برآمدات بھی ادھر کیلئے رکھ دو، جذبہ خیر خواہی کے تحت اپنے ان بھائیوں کو بھی تو آپ نے الحاد و بے دینی کی دلدل سے نکالنا ہے۔
آپ اس درویش کا یقین کرو یا نہ کرو، جس چیز کو آپ مذہب کی بنیادیں مضبوط بنانے کے نام پر پیش کر رہے ہو، یہی چیز ان بنیادوں کو کھوکھلا ہی نہیں کریں گی بلکہ منافرت کا ایک ایسا الاﺅ بھڑکے گا جس کا پرتشدد دھماکہ اس سوسائٹی کو القاعدہ اور داعش کے مقام محمود تک پہنچا دے گا۔
یہاں کوئی کسی بھی مذہبی فرقے سے اس کی مبادیات نہیں چھڑوا سکتا، چاہے الٹا لٹک جائے۔ کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے سے جبری احترام و تقدس منوائے۔ رہ گیا کتابوں پر بندشوں کا ایشو، درویش پوری ذمہ داری سے لکھے دیتا ہے کہ کوئی بدترین ڈکٹیٹر بھی اس لایعنی و بے بنیاد مطالبے کو نہیں منوا سکتا۔ چہ جائیکہ یہ بیچارے جو خود بیساکھیوں پر کھڑے ہیں.... وہ ملازم جو یہ کہتا ہے کہ گاندھی جی کے اقوال ہماری نئی نسل کو برباد کر دیں گے، اس پر درد مندانہ اظہار خیال ہم اگلے کالم کیلئے اٹھائے رکھتے ہیں۔