حرم میں غلاف کعبہ تبدیل کرنے کی پروقار تقریب
- جمعرات 30 / جولائی / 2020
- 4950
ہر سال کی طرح اس سال بھی حج بیت اللہ کے موقع پر خانہ کعبہ کا غلاف تبدیل کرنے کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ 9 ذی الحج کو ہر سال غلاف کعبہ کی تبدیلی کی تقریب عازمین کے عرفات پہنچنے پر منعقد کی جاتی ہے۔
اس برس غلاف کعبہ کی تبدیلی کا عمل 9 ذی الحج نمازِ عشا کے بعد سر انجام دیا گیا جو نماز فجر سے قبل تک جاری رہا۔ غلاف کعبہ کی تبدیلی کے موقع پر مسجد الحرام میں بارش بھی ہوئی، جس پر منتظمین بارگاہ الٰہی میں دعا مانگتے ہوئے بھی نظر آئے۔
اس برس کورونا وبا کے باعث خاصی محدود تعداد میں اور تمام تر احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے عازمین حج ادا کررہے ہیں جس کے مناسک کا آغاز گزشتہ روز ہوا تھا۔ غلاف کعبہ کو کسوہ بھی کہتے ہیں اور اس کی تیاری میں 670 کلو گرام خالص ریشم استعمال کیا جاتا ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق کعبہ کو ایک نیا کسوہ دیا گیا، جس کی چاروں سائڈ اور دروازے کے لیے ستار (پردہ) ہے۔ کسوہ کے چاروں حصوں میں سے ہر ایک کو الگ سے اٹھایا گیا تھا تاکہ اسے پرانی طرف پھیلانے کی تیاری کی جائے۔
غلاف کی تبدیلی کے عمل کے دوران پہلے ایک طرف کا حصہ اتارا جاتا ہے اور اس کی جگہ نیا غلاف چڑھا دیا جاتا ہے اور اس کے بعد بالترتیب دوسرا، تیسرا اور چوتھا حصہ اتار کر اسے چڑھایا جاتا ہے۔ غلاف کعبہ کی تبدیلی کے مرحلے کا آغاز حطیم سے کیا گیا۔ چاروں اطراف غلاف کعبہ چڑھائے جانے کے بعد اسے کعبہ کے چاروں کونوں سے اوپر سے نیچے تک سیا گیا۔
اس سال غلاف کعبہ کی تیاری میں 670 کلو گرام اعلیٰ معیار کی خالص ریشم، 120 کلو سونے کے دھاگے اور 100 کلو چاندی کے دھاگے استعمال کیے گئے۔ غلاف کعبہ پر بیت اللہ کی حرمت اور حج کی فرضیت و فضیلت کے بارے میں قرآنی آیات کشیدہ ہیں۔
زمین سے 3 میٹر کی بلندی پر موجود کعبہ کے دروازے کی لمبائی 6 میٹر اور چوڑائی 3میڑ ہے اور کعبہ کا غلاف چار دیواروں کے علاوہ دروازے پر بھی آویزاں کیا جاتا ہے۔ غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کاعمل 6 گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے۔
تاریخی طور پر کعبۃ اللہ پر سب سے پہلا غلاف اس کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے چڑھایا تھا۔ ہر سال اتارے جانے والے غلاف کے ٹکڑے بیرونی ممالک سے آئے ہوئے سربراہان مملکت اور دیگر معززین کو پیش کیے جاتے ہیں۔