اللہ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کا علاج نہ ہو: خطبہ حج

  • جمعرات 30 / جولائی / 2020
  • 5460

شیخ عبداللہ بن سلیمان نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہا کہ دنیا پر مشکلات اللہ کا امتحان ہے۔ اللہ کے حکم سے ہی مشکلات آتی ہیں لیکن اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں دی جس کا علاج نہ ہو۔

سعودی عرب میں حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کے لیے عازمین میدان عرفات میں موجود ہیں جہاں خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ عبداللہ بن سلیمان نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہ واحد ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ دن اور رات کا لانے والا ہے اور اسی نے نبی اکرم ﷺ کو بھیجا جو تم پر اہل ایمان کے لیے رؤف و رحیم ہیں۔

انہوں نے اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اللہ ہی زمین و آسمان کا مالک ہے، لہٰذا تقویٰ کو اختیار کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جس سے خیرات و برکات کا نزول ہوتا ہے۔ جو اللہ کے لیے پرہیزگاری اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے نجات کے راستے پیدا فرمادیتا ہے، اس کے گناہ معاف کردیتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ فرماتا ہے۔

شیخ عبداللہ بن سلیمان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا ہے، مسلمانوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ نبی ﷺ کی نبوت اور رسالت پر ایمان لے کر آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج کے دن تمہارے لیے نعمت مکمل کردی گئی ہے اور تمہارے لیے دین اسلام کو منتخب کردیا گیاہے۔ اسلام کی بنیاد ان باتوں پر ہے کہ نماز قائم کرو، رمضان کے روزے رکھو، زکوٰۃ ادا کرو، حج ادا کرو۔ تم اللہ پر، اس کی کتابوں اور فرشتوں اور یوم آخرت پر یقین رکھو۔

خطبہ حج میں شیخ عبداللہ بن سلیمان نے کہا کہ اے لوگو! غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے اندر اسباب پیدا کیے ہیں اور ہمیں دنیا میں بھیجنے کے بعد اپنے پاک کلام میں ارشاد فرمایا کہ اللہ بھوک، خوف، اولاد اور کاروبار کے ذریعے آزمائش کرے گا۔ اللہ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے اور وہ جن کا امتحان لیتا ہے اور اگر وہ اس میں کامیاب ہوں تو بہترین اجر عطا فرماتا ہے اورجو اس آزمائش پر پورا اتریں اللہ کی جانب سے انہیں نوازا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا ان مصائب اور مشکلات کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہیں اور قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے، ان نعمتوں پرشکر ادا کرو۔ رب کائنات نے واضح ارشاد فرمایا کہ تم سب اللہ کی راہ میں فقیر ہو، وہی غنی ہے اور کائنات میں ایسے کوئی شے نہیں جو اللہ نہ جانتا ہو، ہر وہ بات جو تمہارے نفس اور دل میں چھپی ہوئی ہے وہ بھی اللہ جانتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی طور پر شدائد اور مشکلات کا سامنا ہے، خود سعودیہ نے بھی اس مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں حل کرنے کی کوشش کی۔ شریعت اسلامیہ نے بھی معاشی طور پر بھی اللہ اپنے بندوں کو جانچتا ہے، لہٰذا تجارت کرنے والے تاجروں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون کریں تاکہ اس آیام شدت سے باہر نکلا جاسکے۔

حقوق العباد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کا حق نہیں مارنا چاہیے، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کے کاموں میں تعاون کرنا چاہیے۔ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے سوا کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ والدین کا احترام کیا جائے، ان سے اونچی آواز میں بات نہ کی جائے حتیٰ کے ان کے سامنے اُف تک نہ کیا جائے۔ ان سے نگاہیں جھکا کر بات کریں، یہ ضروری ہے کہ والدین کا احترام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ قرآن میں عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور برائی سے بچنے کا کہتا ہے۔ حضرت اسامہ نے روایت کیا کہ حضور ﷺ نے حج کے موقع پر فرمایا کہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ ایسا تعلق ہے کہ تم بھائی ہو ، لہٰذا ایک دوسرے کے حقوق ادا کرو، ایک دوسرے کی امانت دو اور تعاون کرو۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ ایمان کے ساتھ کفر کو نہ ملاؤ، اللہ نے عدل اور احسان کرنے کا حکم دیا ہے، امانت اور حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ کا ذکر کرو اور حضور ﷺ کی اطاعت کرو اور جو تمہارے اوپر اسلامی ریاست کے حکمران ہیں جو عدل و انصاف کرتے ہیں ان کی اتباع کرو۔

اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اگر اہل ایمان کے دو گروہوں میں لڑائی یا اختلاف ہوجائے تو آپ اس میں ثالث بن کر اس جھگڑے کو ختم کریں کیونکہ مسلمان آپس میں بھائی ہیں اور رسول ﷺ نے حج الوداع کے موقع پر فرمایا کہ تم آپس میں بھائی ہو، مسلمان کا مسلمان پر خون حرام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کی دوا نازل نہ کی ہو۔ ہر بیماری کی دوا اور علاج اللہ نے نازل کیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم سنو کس جگہ پر طاعون ہے تو تمہیں چاہیے کہ اس سرزمین پر داخل نہ ہو اور جو لوگ وہاں موجود ہیں وہ اس سرزمین سے باہر نہ آئیں۔

شیخ عبداللہ بن سلیمان نے کہا کہ مصائب کے باوجود سعودی حکومت نے حج کا اہتمام کیا اور حاجیوں کو سہولت فراہم کی اور کوشش کی کہ مسلمانوں کو اس مرض سے بچایا جاسکے۔ آج کا دن تمام دنوں سے بڑا دن ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ کا ذکر ادا کریں اور ان مصائب اور مشکلات کے لیے دعا کریں اور میں بھی یہ دعا کرتا ہوں۔

خیال رہے کہ ہرسال تقریباً 25 لاکھ عازمین حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں تاہم رواں برس کورونا وائرس کی وبا کے باعث محدود تعداد میں سعودی عرب میں ہی مقیم مختلف ممالک کے افراد فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔ سعودی حکومت کی جانب سے رواں سال عازمین کی تعداد کے بارے میں کوئی حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے لیکن خیال ہے کہ ہزار سے 10 ہزار تک عازمین حج ادا کررہے ہیں۔

مناسکِ حج کی ادائیگی کا سلسلہ 8 ذی الحج سے شروع ہوتا ہے جو 12 ذی الحج تک جاری رہتا ہے۔ 8 ذی الحج کو عازمین مکہ مکرمہ سے منیٰ کی جانب سفر کرتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں۔ 9 ذی الحج کو فجر کی نماز کے بعد عازمینِ حج منیٰ سے میدانِ عرفات کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

عرفات میں غروبِ آفتاب تک قیام لازمی ہے اور اس کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں پر مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں اور رات بھر یہاں قیام لازم ہوتا ہے۔

10 ذی الحج قربانی کا دن ہوتا ہے اور عازمین ایک مرتبہ پھر مزدلفہ سے منیٰ آتے ہیں، جہاں قربانی سے قبل شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ مزدلفہ سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً 9 کلو میٹر ہے اور یہاں پر عازمین مخصوص مناسک کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ جاکر طوافِ زیارت کرتے ہیں اور منیٰ واپس آجاتے ہیں۔

11 اور 12 ذی الحج کو تمام مناسک سے فارغ ہونے کے بعد عازمین ایک مرتبہ پھر مکہ مکرمہ جا کر مسجد الحرم میں الوداعی طواف کرتے ہیں۔