افغانستان میں جنگ بندی سے چند گھنٹے قبل خودکش حملہ، 17 افراد ہلاک
- جمعہ 31 / جولائی / 2020
- 4900
افغانستان کے صوبے لوگر میں خودکش حملے کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہو گئے ہیں۔ خود کش حملہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب افغان حکومت اور طالبان نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کر رکھا تھا۔ اس کا آغاز جمعہ کی شب 12 بجے سے ہونا تھا۔
واضح رہے کہ افغانستان میں جمعے کو عیدالاضحیٰ منائی جا رہی ہے۔ لوگر صوبے کے شہر پلِ عالم کے ایک اسپتال میں زخمیوں اور لاشوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ اسپتال کے سینئر ڈاکٹر صدیق اللہ کے مطابق اسپتال میں 17 لاشوں اور 21 زخمیوں کا لایا گیا ہے۔ لوگر صوبے کے گورنر کے ترجمان کے مطابق یہ خودکش حملہ تھا جس میں بمبار نے بارود سے بھری گاڑی مجمع میں اُس وقت دھماکے سے اڑا دی جب لوگ عید کی خریداری میں مصروف تھے۔
افغان وزارتِ داخلہ نے دھماکے کی مذمت کی ہے۔ ترجمان وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر عیدالاضحیٰ کی شب حملہ کر کے ہمارے متعدد افراد کی جان لی ہے۔ دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں ان کے جنگجوؤں کا کوئی کردار نہیں ہے۔
افغانستان میں حالیہ کچھ عرصے میں اس طرح کے حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش قبول کرتی آئی ہے۔ تاہم لوگر میں ہونے والے خود کش حملے کی اب تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے عید الاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی کے اعلان کے بعد مستقل جنگ بندی اور بین الافغان مذاکرات شروع ہونے کی امید روشن ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت طالبان کے پانچ ہزار اور طالبان افغان سیکیورٹی فورسز کے ایک ہزار اہلکاروں کو رہا کرنے کے پابند ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد آئندہ ہفتے سے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل طالبان نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی قید میں موجود افغان سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو جلد رہا کر دیں گے۔ ایک دن پہلے افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی اسی طرح کا اعلان کیا تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بین الافغان مذاکرات جلد شروع ہوسکتے ہیں۔
بین الافغان مذاکرات کے مقام کے لیے کئی ملکوں کے ناموں پر غور کیا گیا ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے معاملات پیچیدہ ہوئے ہیں۔ مذاکرات میں طالبان کے سیاسی وفد کے علاوہ مختلف سیاسی دھڑوں کے رہنما، انسانی حقوق کے کارکن، خواتین اور سول سوسائی کے ارکان شریک ہوں گے۔
امکان ہے کہ مذاکرات کا پہلا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگا، جہاں طالبان کا ایک سیاسی وفد برسوں سے مقیم ہے اور اس نے زلمے خلیل زاد اور ان کے وفد سے ڈیڑھ سال تک بات چیت کی ہے۔