کشمیر ہائی وے کو سری نگر ہائی وے قرار دینے اور 5 اگست کو یوم استحصال منانے کا اعلان

  • جمعہ 31 / جولائی / 2020
  • 6940

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے استحصال کو اجاگر کرنے کے لیے 5 اگست کو یومِ استحصال منانے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد میں وزیر اطلاعات شبلی فراز اور معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم، کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔ 5 اگست 2019 کشمیریوں کی اس جدوجہد کا ایک نیا موڑ ہے، ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کا تشخص مٹایا، ان کا جھنڈا چھینا، ان کی شناخت ختم کی، ریاست جموں و کشمیر کو 3 ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی۔  مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جسے ہم نہیں سلامتی کونسل کی قراردادیں متنازع کہتی ہیں۔ اسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سرکار نے ضم کرنے کی کوشش کی ہے، کشمیری اور پاکستان اس اعلان اقدام کو مسترد  کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق اقدامات کیے۔ ہماری کوشش تھی کہ اس مسئلے کو اجاگر کیا جائے اور اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھانے میں پاکستان کو کامیابی ملی ہے۔ اس کامیابی میں مقامی میڈیا کا کردار بھی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل جینیوا نےمقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے پہلو کو اجاگر کیا، اسی طرح اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے کانٹیکٹ گروپ کے 3 اجلاس ہوئے۔ سعودی عرب، ترکی اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ نے ہمارے مؤقف کی تائید کی۔

ایک سال میں کشمیر کے مسئلے پر وزیراعظم عمران خان نے 120 بیانات دیے، ان کے انٹرویوز ، عالمی قیادت سے بات چیت، خطوط  پر لوگوں نے ردعمل دیا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس مسئلے کو ترک قوم کا مسئلہ قرار دیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 5 اگست 2020 کو پاکستانی اور کشمیری مل کر بھارتی جارحیت کے خلاف پیغام دیں گے۔  بھارت کشمیریوں کو دبا سکتا ہے، مٹا نہیں سکتا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے 5 اگست کے لیے ایک ایکشن پلان مرتب کیا ہے جس کے لیے قومی سلامتی ڈویژن اور وزارت اطلاعات کا تعاون بھی حاصل رہا۔

اس سال 5 اگست کو پوری پاکستانی قوم اور دنیا میں جہاں جہاں کشمیری بسے ہیں یومِ استحصال منائیں گے۔ کشمیریوں کے ساتھ استحصال کو اجاگر کیا جائے گا اور ان کے ساتھ تجدید عہد کریں گے۔  ہماری منزل سری نگر ہے اور 5 اگست سے کشمیر ہائی وے کا نام سری نگر ہائے وے کردیا جائے گا۔  یہی شاہراہ ہمیں انشااللہ سری نگر تک لے کر جائے گی۔ اس موقع پر یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کے علاوہ وزیر اعظم آزاد کشمیر کی اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

اس موقع پر وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ ہم ماضی میں بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ پچھلے ادوار میں ہماری اس یکجہتی میں وہ ولولہ نہیں تھا جس کی وجہ سے بھارت نے پانچ اگست کا اقدام اٹھایا۔ کشمیری عوام آزادی حاصل کرکے رہیں گے، ہماری حکومت اس عزم پر قائم ہے اور پوری قوم 5 اگست کو اس میں بھرپور حصہ لے۔

5 اگست کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ایک یکجہتی مارچ کی قیادت کریں گے جس کے بعد وہ ایک پریس کانفرنس کریں گے۔ اسی وقت تمام صوبائی دارالحکومتوں میں بھی مارچ ہوگا۔  مظفرآباد میں یکجہتی مارچ کی قیادت صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر کریں گے اور وزیراعظم عمران خان بھی اس میں شریک ہوں گے۔