گوشت کم خُور
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 02 / اگست / 2020
- 11130
حج اور عیدِ قربان کے سہ روزہ تہوار کے دوران ، جو اس بار کرونا کی نحس گھڑیوں میں جو صدیوں کے برابر ہیں ، گزر رہا ہے تو دوست احباب بہت یاد آتے ہیں اور آ رہے ہیں ۔ دوستی زندگی کا خوبصورت ترین رکن ہے ۔ اللہ نے بندے کے ساتھ اپنے رشتے کو دوستی کا رشتہ کہا اور واضح کیا ہے کہ جو لوگ اللہ سے دوستی رکھتے ہیں وہ ہر خوف اور غم سے آزاد ہوجاتے ہیں ۔
میری دعا ہے کہ میرے سب دوست ، عزیزواقراب اور وطن ِعزیز کے مفلس و نادار لوگ اللہ سے دوستی کے اٹوٹ رشتے میں منسلک ہو جائیں تاکہ دکھوں کا مداوا ہو اور خوف کی جگہ اطمینان اور سکون کا دور دورہ ہو ۔ ہمارے ہاں بہت سے علماء ہیں جن کی سب سے پہلی ترجیح اللہ سے دوستی ہونی چاہیے مگر اُن میں سے بہت سے تو کرسی سے دوستی کے حق میں ہیں اور کچھ زندگی کی آسائشیں سمیٹنے میں مگن ہیں اور لوگوں کے حق میں جو دعائیں کرتے ہیں وہ قبولِ حق نہیں ہوتیں ۔ اگر ہوتیں تو کرونا بلا ویکسین اپنی موت مرچکا ہوتا ۔ ایسے میں قرنطینہ کی تنہائی ہے اور کتابیں ہیں ۔ لیکن وہ ماحول نہیں جس کا تذکرہ حافظِ شیراز نے کیا ہے کہ:
دو یارِ زیرک و از بادہ ء کُہن دو منے
فراغتے و کتابے و گوشہ ء چمنے
لیکن پھر بھی پڑھنے کو بہت کچھ بہم ہے ۔ قرآن ، مثنوی ، اقبال ، اور میرداد کی کتاب۔ میں پڑھتا ہوں اور سر دھنتا ہوں لیکن: لیکن کیا ؟
مثنوی مولانا روم کے مطالعے میں بڑے عجیب مقامات آتے ہیں جو گتھیوں کی طرح پُرپیچ اور ژولیدہ ہوتے ہیں اور آسانی سے سمجھ میں نہیں آتے ۔ ایسا ہی ایک نکتہ مجھے پریشان کر رہا تھا کہ آخر اس کا مفہوم کیا ہو سکتا ہے ۔ وہ مصرع کچھ یوں تھا : نان کم خور گوشت کم تر خور ازیں ۔ یعنی روٹی کم کھا اور گوشت اُس سے بھی کم کھا ۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ روٹی اور بوٹی کے لیے جیتے ہوں اور روٹی شوٹی کھانے کو سیاست سمجھتے ہوں وہاں ایسا کوئی مصرع ایک معما سا لگنے لگتا ہے ۔ اس معاملے کی تہ تک تنہا پہنچنا آسان نہ تھا ، اس لیے حضرت نور والے علیہ رحمت سے رابطہ کیا کہ وہ اس مصرعے کی تشریح فرمائیں کیونکہ یہ تصوف کا ایک گنجلگ قضیہ لگتا ہے ۔ حضرت نے تبسم فرمایا تو اُن کے چہرے کے گرد دھیمی روشنی کا ہالہ اور بھی پھیل گیا ۔ فرمایا : نان مٹی ہے اور مٹی کھانے والوں کو بالآخر مٹی کھا جایا کرتی ہے ۔ یہ مٹی اتنی کم کھاؤ کہ جسم کی مٹی کا توانائی کا لیول برقرار رہے ۔
رہا گوشت تو اس کے کھانے میں احتیاط کی ضرورت ہے ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں ۔ایک تو یہ کہ گوشت میں انرجی بہت کم ہوتی ہے ۔ روم ٹمپریچر میں گوشت ایک دو دن سے زیادہ نہیں رہ سکتا ۔ سڑنے اور بو دینے لگتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں سبزیاں روم ٹمپریچر میں گوشت کے مقابلے میں کئی دن تک خراب نہیں ہوتیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ اُن میں گوشت کی نسبت زیادہ توانائی ہے ۔ گوشت کا دوسرا پہلو ذرا زیادہ خطرناک ہے ۔ جب لوگ قربانی کے جانور کو ذبح کرنے لگتے ہیں تو چھری اور ٹوکہ دیکھ کر اس میں ایک خوف پیدا ہوتا ہے جو اس کے جسم میں سرایت کرجاتا ہے ۔ اگرچہ خون بہنے سے خوف کا کچھ زہر کم ہوجاتا ہے لیکن پھر بھی اس کی وافر مقدار گوشت میں رہ جاتی ہے جو کھانے والے کے بدن میں منتقل ہو جاتی ہے ۔ اس لیے مولانا فرماتے ہیں کہ گوشت روٹی سے بھی کم کھاؤ ۔ یعنی یہ ایک تعلیم ہے جو دی گئی ہے ۔
جہاں تک قربانی کا تعلق ہے وہ قرب سے ہے ۔ اللہ کے قرب کی تلاش کو قربانی کہتے ہیں ۔ ایک نقشبندی صوفی مولوی فضل محمد خان ؒ اپنی کتاب اسرارِ شریعت میں لکھتے ہیں کہ قربانی تصویری زبان میں ایک تعلیم ہے ، جسے جاہل اور عالم یکساں سہولت سے پڑھ سکتے ہیں ۔خُدا کسی کے خون اور گوشت کا بھوکا نہیں ۔ وہ ساری مخلوق کوکھلانے والا ہے ، اُسے کون کھلا سکتا ہے ۔ وہ ایسا پاک اور عظیم الشان ہے کہ نہ تو کھانوں کا محتاج ہے اور نہ گوشت کے نذرانے کا بلکہ وہ سکھانا چاہتا ہے کہ تم بھی خُدا کے حضور اسی طرح قربان ہو جاؤ جس طرح یہ جانور قربان ہوا ہے ۔ یعنی بندہ اپنے اللہ پر قربان ہو جائے ۔ قربانی شریعت کی بزرگ ترین عبادتوں میں سے ایک ہے ۔ یہ عبادت اس بات کی دلیل ہے کہ حق کا سچا پرستار اور حقیقی عابد وہ ہے ، جس نے اپنے نفس کو اُس کی تمام خواہشات اور دل پسند اشیاء کی طلب کے ساتھ قربان اور اپنے رب کی رضا جوئی کے یے ذبح کر ڈالا ۔ یہ وہ عبادت ہے جو آخرت کے خسارے سے نجات دیتی ہے ۔ قربانی نفسِ امارہ کا ذبح کرنا ہے ۔ چنانچہ جس شخص نے قربانی کی حقیقت جان کر قربانی کی اور صدقِ دل اور خلوصِ نیت کے ساتھ کی اُس نے اپنی جان اور بیٹوں اور پوتوں کی قربانی دے دی ۔ اسی لیے اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ :
ان لوگوں سے کہہ دو کہ میری نماز ، میری عبادت ، میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت سب اس خُدا تعالیٰ کے لیے ہے جو پروردگارِ عالم ہے رب العالمین ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو قربانیاں تم دیتے ہو وہ سواریاں ہیں جو خُدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں ، خطاؤں کو محو کرتی ہیں اور بلاؤں کو دور کرتی ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم اس زمانے میں جو قربانیاں کر رہے ہیں ، کیا وہ قربانی کے دینی معیار کے مطابق ہیں یا نہیں ؟
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جو فیشن ، شو بزنس ، نمائش ، ریاکاری اور دکھاوے کا زمانہ ہے ۔ یہاں بہت کچھ ایسا ہورہا ہے جس کا مقصد اپنے نیک ہونے کی پبلسٹی کرنا ، تشہیر کرنا اور فوٹو سیشن ہوتا ہے اور یہ وہ کام ہیں جو مذہب کی حقیقی روح کے خلاف اور منافی ہیں ۔ ہم قربانی کے جانوروں کے ساتھ سیلفیاں لے کے ان کو میڈیا میں پھیلاتے اور دوسروں سے داد طلب ہوتے ہیں ۔ ہم لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتے ، قرض لے کر واپس نہیں کرتے ، اپنے ماں باپ، غریب رشتہ داروں ، یتیموں اورمسکینوں کی خبر گیری سے زیادہ اپنی شہرت سے دل چسپی رکھتے ہیں اور لوگوں سے اپنے نیک ہونے کی داد طلب کرتے ہیں ۔ قربانی کے گوشت کے بدلے گوشت کا تبادلہ کرتے ہیں اور اپنے ڈیپ فریزر بھر کر چھہ مہینے کے لیے گوشت کی خریداری کے جھنجھٹ سے آزاد ہو جاتے ہیں اور یہ قربانی نہیں ہے ۔
اللہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم دین کے تمام ارکان کو اُن کے حقیقی مفہوم میں ادا کریں ۔ میری طرف سے قارئینِ کاروان کو تہِ دل سے عید الاضحیٰ مبارک ہو !